سیاست، گالیاں اور رشتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے تقریر کا ایک لفظ بھی نہیں سنا اور نہ سننا چاہتا ہوں۔ حقیقت میرے لیے کچھ پرائی نہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بہترین تقریر تو ہر کوئی کر لیتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ عمل نہیں۔ بھری جوانی میں اکثر جی ٹی روڈ اسلام آباد سے شکرگڑھ جاتے بیشمار معجون، پھکی بیچنے والے بہترین لطیفے، شعر سنا کے تقریر کرتے تھے، پوری بس ان کے الفاظ سے محظوظ ہوتی تھی۔ بغیر کرایہ کے ایسے بہت سے چورن فروش مفت میں بس کا سفر مکمل کرتے تھے، ساتھ کچھ نئے لوگ ان سے چورن خرید لیتے تھے۔

پرانے گاہک انہیں گالیاں دیتے ہوئے کانوں کے گرد کَس کے چادر لپیٹ کے سو جاتے تھے۔ ویسے ہی جیسے ہمارے ایران سعودیہ کے لیے خدمت کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ہمارے لوگ یمن میں استعمال نہیں ہوں گے، امریکہ نے بھی ہمارا چورن لینے سے انکار کردیا اور کانوں کے گرد چادر لپیٹ لی ہے۔ بس اب ہمارے پاس چین اور اس کے موجودہ دورِ حکومت میں روکے پرا جیکٹ رہ گے ہیں۔ امید ہے، اب ہم مزید سخت شرائط پہ ان سے اپنا کام چلائیں گے۔

ہماری بم دھمکی نے بھی کچھ خاص اثر نہیں ڈالا مخالفین پر۔ ہم نے آج تک باتوں سے مخالفین کو للکارا ہے، پھر ہم اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے ملے ہیں۔ بہت سے احباب ایسے ہیں جن سے میری بات ہوئی جناب تقریر کے بعد ڈینگی بحیرہ ہند میں دریا برد ہو گیا۔ ہسپتالوں میں دوبارہ کینسر کی دوائیاں مفت ملنی شروع ہو گئی۔ غریب کے لیے مفت میڈیکل کے ٹیسٹ ہونے لگے۔ تعلیم پہ لگے بجٹ کا کٹ معافی کے ساتھ واپس لے لیا گیا۔ میٹرو کے کرایوں پہ اضافہ واپس لے لیا گیا۔

پیٹرول کی قیمت واپس ہو گئی۔ سٹاک مارکیٹ میں اتنا منافع ہو گیا کہ ہم نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے۔ بچوں کی فیسوں پہ تازہ اضافہ واپس لے لیا گیا۔ ہمارے اوپر جو گَرے لسٹ کی تلوار لٹک رہی ہے، اس سے نجات مل گئی ہے، ہماری پہلی کال پہ مودی فون اٹھا لے گا، کشمیر آزاد ہو گیا، وہاں کرفیو اٹھا لیا گیا، ہماری بم دھمکی کا حال ایسے ہے، جیسے گھر میں ایک نشئی بیٹا گن لے کے سب گھر والوں کو ڈراتا ہے اور آخر پہ نشے کی ایک پُڑی پہ مان جاتا ہے۔

جناب ان تمام سوالوں کے جواب میں مجھے کہا گیا کہ آپ پٹواری سوچ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو آگ لگ گئی ٹھنڈے پانی سے بجھا لیں۔ بہت سے احباب اس قدر ذاتیات پہ اتر آئے بغیر عمر کے رکھ رکھاؤ کے گلے کو پکڑ لیا۔ بیچ بچاؤ کرکے ہم بڑی مشکل سے بحفاظت باہر نکل آئے۔ پھر کچھ کو جواب بھی دیا ہم عام آدمی ہیں۔ ہمیں خوشی ہو گی آپ میاں نواز شریف، زرداری کو سولی پہ لٹکا دیں۔ ان سے بارہ سو ارب ڈالر لے کے ملک کو دیں۔

ہمیں تو اس پہ اعتراض ہے، آپ نے انہیں کیوں ایک بہترین جیل (فارم ہاؤس) میں مکمل سہولیات دے کے رکھا ہے۔ ان سب پرانے حکمرانوں کو پتہ ہے یہ نالائق زیادہ دیر ٹک نہیں پائیں گے۔ مقتدر قوتیں واپس پرانے لوگوں کی طرف لوٹیں گے۔ اس طرح پرانے لوگ مزید مضبوطی سے آئیں گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا موجودہ لوگ پرانے لوگوں کے دلال تھے جنہوں نے عام آدمی کے جذبات کو انقلاب کے لیے جگایا، مگر ان کا ہر قدم پرانے لوگوں کو مضبوط کرتا رہا۔

جس میں عام آدمی ذلیل و رسوا ہوتا رہا۔ پہلے ہم مذہبی لحاظ سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ اب ہم ایک دوسرے کو پٹواری، یوتھیا پہ گالی دیتے ہیں۔ قوم اس قدر منتشر ہو چکی ہے۔ یوتھیے پچھلے دنوں اس لیے چپ تھے ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ مارکیٹ میں تازہ تقریر کا چورن آیا تو یوتھیو میں جان آ گئی اور پٹواریوں کی حالت بری ہونی شروع ہو گی۔ آخر ہم کب تک علیحدگی پسند ہو کے خوبصورت رشتوں سے جدا ہوتے جائیں گے۔ مجھ سے یوتھیے بھی ناراض ہیں اور پٹواری بھی۔ میں چاہتاہوں بھاڑ میں جائیں سب۔ مجھے میرا پاکستان چاہیے جس میں عام آدمی کی عزت ہو۔ اس کی زندگی محفوظ، خوبصورت ہو۔ انصاف ملتا ہو۔ عدالتیں آزاد ہوں۔ جہاں ادارے مضبوط ہوں۔

نوٹ۔ معذرت تمام دوستوں سے جنہیں میرا یوتھیا، پٹواری کہنا برا لگے۔ ہم عام لوگ ہیں، کوئی بھی حکمران نہیں بن سکتا۔ رشتوں کی عزت، پیار کرنا سیکھیں۔ یہ حکمران اور اپوزیشن پردے کے پیچھے ایک دوسرے سے اس طرح گلے ملتے ہیں جیسے فلمی ہیرو اور ولن

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •