چونیاں کے بچوں کا قاتل کیسے پکڑا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار بچوں کے قاتل سہیل شہزادہ کو کس طرح اور کن شواہد کے تحت گرفتار کیا گیا، کیا سہیل شہزاد کو ڈین این اے کے آخری بیچ میں شامل کیا گیا تھا؟ روزنامہ دنیا حقائق سامنے لے آیا۔ 6 رکنی کرائم سین انویسٹی گیشن ٹیم جب چونیاں پہنچی تو گہرے گڑھے میں الٹی بچے کی لاش پڑی تھی، لاش کے پاس جوتے کا نشان موجود تھا جسے فرانزک ماہرین نے محفوظ کرلیا۔ لاش ملنے کی جگہ کے 50 میٹر کے اندر بچوں کی دو کھوپڑیاں اور 136 کے قریب ہڈیاں ملیں۔

کرائم سین ایکسپرٹس نے جھاڑیوں کا جائزہ لیا جہاں سے پرانے گرد آلود پھٹے ہوئے کپڑے برآمد ہوئے، کپڑوں پر ڈیڑھ انچ تک مٹی جمی ہوئی تھی اور وہ کسی بھی صورت لباس معلوم نہیں ہوتے تھے بلکہ پھٹے پرانے چیتھڑوں میں بدل چکے تھے۔ یہ کپڑے مقتول فیضان کے تھے۔ ان کپڑوں کو سائنسی پراسس سے گزارا گیا اور زیادتی کرنے والے شخص کا ڈین این اے ملا۔ جس پر سارے کیس کا دارو مدار تھا۔ فیضان کے کپڑوں پر لگے ڈین این اے جیسی کامیابی کے بعد فرانزک ایکسپرٹس نے اس علاقے میں جھاڑیوں اور بنجر علاقوں میں سے چیتھڑوں کی تلاس شروع کردی۔

چیتھڑوں کی تلاس میں ایک کپڑا ایسا بھی ملا جس پر خون کا ایک دھبہ بھی موجود تھا مگر یہ کپڑے کا ٹکڑا تقریبا تین ماہ سے مٹی میں پڑا ہوا تھا جس پر گرد کی موٹی طے جم چکی تھی۔ بعد ازاں فرانزک ایکپرٹس اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ کپڑا مقتول علی کے لباس کا حصہ تھا۔ علی کے لباس پر ملنے والا خون کا دھبہ ملزم سہیل شہزداہ کے ڈی این اے سے میچ کرگیا جس سے ملزم سہیل شہزادہ کے سیریل کلر ہونے کا حتمی سراغ ملا۔ ملزم سہیل شہزادہ تک پہنچنے کے لئے 1649 ڈین این اے مکمل کیے گئے، پہلے مرحلے میں 41 افراد کے ڈین این اے کیے گئے اورپولیس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان 41 لوگوں میں ایسا شخص بھی شامل ہے جس سے سانحہ چونیاں کی گتھی سلج جائے گی مگر ایسا نہ ہوا۔

ہزار لوگوں کے مزید ڈی این اے کیے گئے۔ ہزار لوگوں کے ڈی این اے کے بعد پولیس کے اعلی حکام نے 22 بندوں کی لسٹ بنائی اور ان کے ڈ ی این اے کروائے گئے اور پولیس حکام کا خیال تھا کہ ان افراد میں مطلوبہ ہدف موجود ہے۔ ڈی این اے کے سیمپل بیچز کی صورت میں فرانزک لیب بھجوائے جاتے اور فرانزک کی 9 رکنی ٹیم چونیاں میں ڈی این اے کا سیمپل وصول کرتی۔ 30 ستمبر کو 100 افراد پر مشتمل ڈی این اے سیمپل فرانزک لیب کو بھیجا گیا۔

یکم ستمبر کو ڈی این اے میچ کرگیا۔ ڈی این اے میچ ہوتے ہی سیکرٹری ہوم کو اطلاع کی گئی۔ فرانزک ایکسپرٹس نے سہیل شہزادہ کو دوبارہ ڈی این اے کرنے کے لئے لاہور طلب کیا اور 5 مزید افراد بھی چونیاں سے دوبارہ ڈی این اے کے لئے بلوائے گئے تاکہ صرف سہیل شہزادہ پر کسی کو شک نہ ہوسکے۔ ڈی پی او قصور اور آر پی او جب سہیل شہزادہ کو لاہور فرانزک لیب لے کر پہنچے تو فرانزک کے ماہرین نے سہیل شہزادہ کے جوتے کے مارک فوری طور پر حاصل کیے اور اپنے پاس محفوظ نشان کے ساتھ میچ کیے تو نشان میچ کرگئے۔

پولیس کو بتایا گیا کہ سہیل شہزادہ وہی جوتا پہنے ہوئے ہے جس جوتے کو پہن کر یہ بچوں کی لاشیں ٹھکانے لگاتا رہا۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ سہیل شہزادہ کا ڈی این اے ترجیحی بنیادوں پر نہیں کروایا گیا بلکہ پولیس تو محمد شہزاد کو مرکزی کردار سمجھتی رہی اور اگر فرانزک کے پاس تین شواہد نہ ہوتے تو اس کیس کو حل کرنا ناممکن تھا اور اگر خدا نخواستہ ڈی این اے میچ نہ کرتا تو جوتے کے نشانات کے شواہد بھی مرکزی کردار کو پکڑنے میں معاون ثابت ہوسکتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •