فنون عالیہ کے سرپرست: پاویل تریتیاکوو
لنن وہ کپڑا ہے جو ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق فراعین کے مقابر میں ہزاروں سال محفوظ رہا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے ادوار سے اس پہ کی گئی مصوری محفوظ رہی ہے۔ اس سے تیار کیے گئے ملبوسات اور بستر کی چادروں وغیرہ کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ امراض کا علاج کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی جراثیم کش خصوصیات کے بارے میں جان کر اہل فرانس روس سے لنن خریدتے تھے اور انہیں ہسپتالوں میں عمل جراحی کے کمروں میں آویزاں کیا کرتے تھے۔ روس میں لنن سے مختلف طرح کے ملبوسات تیار کیے جاتے تھے۔
تریتیاکوو کے پڑ دادا لنن کے کپڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ ان کے والد امیر تاجر نہیں تھے، تعلیم نہیں حاصل کر پائے تھے مگر اپنے بچوں پاویل اور سرگئی کے لیے گھر میں استاد کی خدمات حاصل کر لی تھیں۔ انہیں سہ پہر کو پڑھایا جاتا تھا۔ صبح کے وقت یہ لڑکے دکان پر اپنے والد کی مدد کیا کرتے تھے۔ وہ نوکروں کے ساتھ مل کر مال رکھا کرتے تھے اور تھان کھولتے لپیٹتے تھے۔ پاویل نے تیرہ برس کی عمر سے ہی کھاتوں کا خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ اپنے تھوڑے سے جیب خرچ سے پاویل ماسکو کے مرکز میں لگنے والی منڈی کو چھان کر کتاب یا ابھری ہوئی پینٹنگ خرید لیا کرتے تھے۔
باپ کے مرنے کے بعد تریتیاکوو برادران نے لنن، سوتی کپڑے اور اون کے کپڑے کی دکان بنا لی تھی۔ باپ کے عزم کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا کارخانہ لگانے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کر دی تھی۔ برے معاشی زمانوں میں بھی پاویل نے خر کی پرواہ کیے بغیر 1856 میں ہی مصوری کے دو روسی فن پارے خرید کر لیے تھے۔ تب سے وہ روس کے مصوری کے حقائق پسند مکتب کے شیدائی ہو گئے تھے۔ ان کے ہی اثر و رسوخ سے روس کے ماہر مصوروں ریپن، سوریکوو اور واسنیتسوو نے جنہیں تریتیاکوو ”تین سورما“ کہا کرتے تھے، دوسرے مصوروں کے ساتھ مل کر مصوری کی نمائشوں کا اہتمام کرنے والا اکٹھ بنا لیا تھا۔ ایسی پہلی نمائش میں جانے اور پہلی پینٹنگ خریدنے والے پاویل تریتیاکوو تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب لنن کے کارخانے کو روس کے مصوروں کے بہترین کام کو خریدتے ہوئے چار برس ہو چکے تھے۔
تریتیاکوو بہت عاجز مزاج شخص تھے، خود کے لیے بہت سی چیزوں سے انکار کیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی نے یاد کرتے ہوئے کہا تھا ”اپنے لیے وہ بہت کم خرچ کیا کرتے تھے۔ سالہا سال ایک ہی لباس پہنے رہتے تھے“۔ جب بیٹی نے اس منکسرالمزاجی پر رنجش ظاہر کی تو تریتیاکوو نے ایک خط میں وضاحت کی تھی ”میں جہاں ضرورت ہوتی ہے بخل نہیں کرتا۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں میں مرضی سے خرچ کرتا ہوں۔ ۔ ۔ میں فن پاروں پر خرچ کرتا ہوں جو ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ یوں رقم محنت کرنے والے مصوروں تک پہنچتی ہے جن کی زندگی کوئی اتنی اچھی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ “
کاروباری معاملات میں کامیابیوں اور نوادرات جمع کرنے میں تریتیاکوو محنتی اور پر عزم تھے۔
ان کے کردار میں درد دل، ضرورتمندوں کے لیے مہر اور براہ راست کام سے کام رکھنے کی مضبوط عادات تھیں۔ فن پارہ خریدتے وقت وہ ہمیشہ مناسب قیمت لگایا کرتے تھے۔ بناے والے کے ساتھ صبر کے ساتھ سودے بازی کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات ایسی تصویروں کو خریدنے سے، جن کو خریدنے کی شدید خواہش ہوا کرتی تھی بہت مہنگا ہونے کی وجہ سے لینے سے انکار بھی کر دیا کرتے تھے۔ تریتیاکوو میں ایک کمزوری بھی تھی کہ اپنے ”محبوب“ مصوروں کے کام کو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکتے تھے مثال کے طور پر واسیلی ویریشاگن کے فن پاروں کو۔
انہوں نے دماغ چکرا دینے والی بھاری قیمتوں کے عوض اس مصور کی ترکستان کے سفر، ہندوستان یاترا اور 1877۔ 1878 کی جنگ سے متعلق تصویریں خرید لی تھیں۔ اس کا انہوں نے کبھی گلہ نہیں کیا کیونکہ ان کی گیلری فن پاروں سے بھر رہی تھی۔ دلی محبت، ضرورتمندوں کی مدد کرنے کو ہر وقت تیار رہنا اور اہم ترین ان کے مقصد یعنی روس کے مصوری کے مکتب کی ہر طرح سے معاونت کرنے کی وجہ سے تب کے تمام مصور ان کی گہری تعظیم کیا کرتے تھے۔ ایک بار یہ سن کر کہ ایک مجسمہ ساز، جو بعد میں دنیا بھر میں مشہور ہوا، کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تریتیاکوو نے اسے پہنچانے کے لیے ایک ہزار روبل دیے تھے اور اس کا کام خریدنے پر آمادگی ظاہر کی تھی مگر ساتھ ہی کہا تھا ”میں مجسمے تو خریدتا ہی نہیں“۔
روس کے مصور تریتیاکوو کے مقصد کو سمجھتے تھے۔ ان میں ایک خاموش فیصلہ تھا کہ پہلا انتخاب ہمیشہ ہی تریتیاکوو کا ہونا چاہییے۔ یوں وہ مجموعے کرنے والے کسی سے بھی مسابقت کرنے سے آزاد ہو رہے تھے، تاحتٰی شہنشاہ سے بھی جو ان سے کہیں زیادہ رقم دے سکتے تھے۔
تریتیاکوو نے اپنی زندگی میں ہی، 1892 میں، اپنا پورا مجموعہ اور اس کے لیے خاص طور پر تعمیر کی گئی عمارت ماسکو شہر کی کونسل کے نام کر دیے تھے۔ ایک سال بعد اس کو ”پاویل اور سرگئی میخائیلووچ تریتیاکوو کی شہر کی مصور گیلری“ نام دے دیا گیا تھا۔ پاویل تریتیاکوو کو زندگی بھر کے لیے گیلری کا سرپرست بنا دیا گیا تھا۔ وہ اس عہدے پر زیادہ دیر نہیں رہ پائے تھے۔ تریتیاکوو 64 برس کی عمر میں 1898 میں ماسکو میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کے آخری الفاظ قابل ذکر ہیں ”گیلری کی حفاظت کرنا اور خوش رہنا“۔ ماسکو کے عین مرکز میں سرخ رنگ کی عمارت میں قائم تریتیاکوو گیلری دنیا میں روسی مصوری کا سب سے بڑا مجموعہ تصور کی جاتی ہے اور روسی دارالحکومت کا ایک اہم قابل دید مقام ہے۔










