حکومت ایک پیج پر نہیں، ایک ہاتھ میں ہونی چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے مہینے ڈیل کی باتیں عروج پر تھیں۔ سیاست اور سیاسی جوکروں کی فسوں سازی نئے نئے رنگ بکھیر رہی تھی۔ عوامی دباؤبڑھتا جا رہا تھا۔ ریت کا بورہ ہمیشہ عوامی لیڈر بنے ہیں۔ دباؤ کی سمت موڑنے کے لئے ڈیل کا ڈول ڈالا گیا۔ جوں جوں زعفران کے کھیت خون آلودہ ہوئے، چھروں سے کشمیری آنکھیں اندھی ہوئیں، ہماری اپنی آنکھیں مردہ ہوتی گئیں۔ خون کا نوحہ تو لکھا نہیں گیا، خون ہوتے ارمانوں کا نوحہ کہنے اور عالمی سوئے ضمیروں کو جگانے کی جھوٹی امید پر گرجنا شروع کردیا۔ متحدہ اقوم کے سالانہ میلے میں کیا خوب شعلے برسے۔

الفاظ کا ورلڈکپ جیت کر فاتح اقوام عالم تشریف لائے ہیں اب کچھ دیر تک تو یہ خمار نو خیز امیدوں کا سہارا بنے گا۔ اس کے بعدڈالر کی وہی اٹھان، روپے کی وہی بے قدری، کاروبار مملکت وہی الجھا الجھا، معیشت گرتی ہوئی، اور جذباتیت سے سجے ہوئے وہی نعرے، کب تلک۔ ترقی پسند ادبی نظریے سے وابستہ شاعر اختر پیامی یاد آ گئے

وہی ڈالر کا طلسم

وہی تہذیب و تمدن کے پرانے دعوے

وہی پسماندہ ممالک کی ترقی کا فریب

وہی تاریخ سیاست کے پرانے شاطر

ایٹمی جنگ کا اعلان کرتے ہوے

سالانہ بجٹ منظور کروانا ہو تو بڑی طاقت کی مدد لینا پڑتی ہے، الیکشن کی کامیابی کی کہانی تو پہلے ہی زبان زد عام تھی اب خراب معیشت کو لئے کاروباری طبقہ بھی رفو گر کی تلاش میں اسی در پر پہنچ گیا ہے۔ لیکن اس انہونی کا چاک گریباں کون رفو کر پائے گا۔

باسک ناگ اب پھر پھن کاڑھے گا۔ پھنکار کی زد میں مملکت کے کئی کمزور سول افسر، نا اہل، نا فرمان، ناکارہ ساتھی اور ناکام سیاستدان آئیں گے۔ لیکن سرداروں کے سردارپر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ زبان اور احتساب کا کوڑا مخالفیں پر اور زور سے برسے گا۔ پہلا شکار بہترین کامیاب دورے کی میزبان ہو چکی ہے، کئی اور بھی نشانہ بنیں گے۔ میڈیا تو ہے ہی فتور، اس کو مزید دبایا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کو فساد فی الارض کا موجب قرار دینا چاہیے، نہ یہ بولیں نہ کسی کو دگرگوں حالات کا پتا چلے۔ دی نیشن کا کارٹونسٹ اور جیو کا نیازی تو نشان عبرت بنا دیے گئے ہیں۔ ساحر لدھیانوی فرما گئے ہیں،

تمام ارضِ جہاں کھولتا سمندر ہے

تمام کوہ و بیا باں ہیں تلملائے ہوئے

میری صدا کو دبا نا تو خیر ممکن ہے

مگر حیات کی للکار کون روکے گا

وہ کہتے ہیں کہ طاقت کے سارے منبع ان کے ساتھ ہیں۔ غیر ملکی آقا بھی خوش ہیں۔ عرب دوست بھی مسلمانوں کے اس ہیرو کو اپنے جہاز دے دیتے ہیں۔ ڈالر اور ریال بھی جتنے مانگیں مل جاتے ہیں۔ لیکن ملکی خزانہ ہے خالی کا خالی۔

حسن کا دامن پھر بھی خالی

عشق نے لاکھوں اشک بکھیرے

قرضے بڑھتے جا رہے ہیں۔ عوام الناس کے حالات خراب سے خراب۔ بجلی اور مہنگی۔ حیات کے پیرہن کو عوام الناس کے آنسوؤں نے تر کردیا ہے۔ لاکھوں گھر بننے تھے، ان آشیانوں کا تصور بھی محال نظر آتا ہے۔

ان کی ساری ٹیم مشرف کے دور والی ہی ہے۔ اب اقوام متحدہ میں بھی اسی کے دور کا درخشاں ستارہ ضوفشاں ہوگا۔ اس ٹیم نے اس وقت تو ملک کو سنبھال لیا تھا۔

اُس دور میں تو ترقیاتی منصوبے عروج پر تھے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہسپتالوں کی ایمر جنسی میں مفت ادویات ملنے کا آغاز ہوا۔ میڈیا کو مکمل آزادی دی گئی۔ پرائیویٹ چینلزکا آغاز ہوا۔ معاشی ٹیم یہی تھی اور ملک کی معیشت بہترین تھی۔ پنجاب اورکے پی بہترین حکمرانی کی مثال بنے۔ سندھ بھی ٹھیک جا رہا تھا۔ ڈپلومیسی اتنی بہتر تھی کہ ہندوستان کوآگرہ میں حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی ٹیم اچھے رزلٹ دے رہی تھی حالانکہ آمریت ہونے کی وجہ سے حکومت عوام میں انتہائی غیر مقبول تھی۔

مشرف کو پتا تھا کہ بینظیر اور نواز شریف عوام میں مقبول ہیں۔ جن کا حق چھین کر وہ ناجائز طریقے سے آیا تھا۔ محترمہ پہلے ہی ملک سے باہر تھیں، نواز شریف کو ملک بدر کر کے اس نے اپنے سب سے بڑے مخالف کو خاموش کردیا۔ اب اس دور میں دونوں مخالف اور ان کی خواتین جیل میں ہیں اوروہ کانٹے کی طرح اس حکومت کے دل میں پیوست ہیں۔ جونہی حکمران اور ان کے لانے والے دباؤ میں آتے ہیں ڈیل کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ حکومت کو کوئی ریلیف دینے کو تیار نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

حکمران کہتے ہیں کہ طاقت کے سارے منبع ان کے ساتھ ہیں۔ غلط کہتے ہیں۔ غلط سمجھتے ہیں۔ اگر طاقت ان کے پاس ہوتی تو تاجر اور صنعت کار شکایات لے کر راولپنڈی نہ جاتے۔

وزیر اعظم کی اصل طاقت پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ اس سے وزیر اعظم خود خوف زدہ ہیں۔ اس کے ممبران اجلاس میں آجائیں تو وہ ڈر جاتے ہیں۔ ساری طاقتیں کہیں اور ہیں۔ یہی وجہ ہے ناکامی کی۔

اگر حکومت دہلی میں ہو اور طاقت کلکتہ میں توایرانی وافغانی، روحیلے اور مرہٹے ملک میں تباہی مچا دیتے ہیں۔ تخت دہلی پر بیٹھے مغل بادشاہ کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی جاتی ہے۔ طاقت دمشق میں ہو اور حکومت مدینے میں، تو خلیفہ وقت، حیدر قرار ؑکو بھی سوچنا پڑتا ہے کہ دارالخلافہ یہاں سے منتقل کرنا پڑے گا۔

طاقتور حکومت ہی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کر سکتی ہے۔ یہی وزیر کام کر سکتے ہیں اگر طاقت ان کے ہاتھ میں ہو۔ اچھی حکمرانی کے لئے طاقت اور حکومت ایک ہی ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو طاقت صرف عوامی نمائندے ہی مہیا کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں اگر مقتدرہ حلقے ان سے بالا ہی بالا کرسکتے ہیں تو ان کو بھی آئین کے مطابق چلتے ہوے اپوزیشن کے ساتھ مل کر بیٹھنا پڑے گا۔ اپوزیشن ان کی طاقت بن سکتی ہے اگر آئین کے مطابق ان سے نمٹا جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو بنی گالا کے کسی جن کو حکم دیں کہ ملائیشیا جائے اور ملاکا کین کی ایک بیٹن لا کر وزیر اعظم کے ہاتھ میں بھی پکڑا دے شاید اس سے ڈر کر وزرا سیدھے ہو جائیں اور مولانا مارچ کا ارادہ ترک کردیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •