قوم کے معماروں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

ہر سال 5 اکتوبر کو اقوام اپنے محسنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ”ٹیچر ڈے“ کی مناسبت سے پروگرام منعقد کر تی ہے۔ پاکستان میں بھی اسی ریت کو دہرایا جاتا ہے۔ اسلامی لحاظ سے استاد کو ایک امتیا ز ی حیثیت

حا صل ہے۔ خو د ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :۔

” بے شک مجھے معلم بنا بھیجا گیا ہے“

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے :۔

” جس نے مجھے ایک حرف سکھایا گویا اس نے مجھے غلام بنا لیا وہ چاہے تو آزاد کر دے یا غلام رکھے“

ہر دورہ اور ہر معاشرے میں استاد کو خا ص مقام حاصل رہا ہے۔

استاد ہی وہ ہستی ہے جو قوم کو تہذیب و تمدن، اخلاقیات اور معاشرتی اتار چڑھاؤ سے واقف کرواتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ استاد کا مقام کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کامستقبل اس قوم کے استاد کے ہاتھ میں ہو تا ہے، استاد ہی قوم کو تربیت دیتا ہے، وہی اسے بتاتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ آج تک انہی اقوام نے عروج کی بلندیوں کو سر کیا جنہوں نے استاد کو معاشرے کا اہم اور معتبر فرد گردانا۔ اس کے ساتھ ساتھ بحثیت استاد اپنے کردار اور رویوں کا محا سبہ بھی بے حد ضروری ہے۔ تا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں سر انجام د ے سکے۔ جس کے لئے درج ذیل خصوصیات استاد کی شخصیت کا نمایاں جزو ہونی چایئے۔

1۔ استاد اپنے علم کو بڑھانے کی جستجو کا قائل ہونا چاہیے اور اپنے مضمون پر دسترس حاصل ہو۔

2۔ استاد قدامت پسند نہ ہو۔

3۔ استاد خود کو تعصب سے بالا تر رکھے۔

4۔ استاد کا مزاج معتدل ہو۔

5۔ استاد کی سوچ مثبت کردار کی حامل ہو۔

مندرجہ بالا خصوصیات نہ صرف استاد کے وصف کو منفرد بناتی ہیں بلکہ معاشرے کو بدلتے ہوئے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کرتی ہیں۔

اس کے بر عکس آج کے استاد کے مسا ئل کو نظر انداز کرنا بھی حقیقت سے نظریں پھیرنے کے مترادف ہے جو درج ذیل ہیں۔

1۔ استاد کی تعیناتی کا غیر مؤثر اور فرسودہ نظام۔

2۔ استاد کو تدریسی سر گرمیوں کی بجائے غیر تدریسی عوامل کی تفویض۔

3۔ استاد کے عزت نفس کا سرعام تذل کھلواڑ۔

4۔ استاد کی پروموشن کا سالہا سال التوا۔

5۔ بدلتے تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے والے اداروں کا قدامت پسندوں کے ہاتھوں یر غمال ہونا۔

6۔ سہولیات کا فقدان۔

مندرجہ بالا مسائل کا فوری تدارک معاشرے کی ترقی اور قومی تشخص کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہے کہ معاشرے کی ترقی کا ضامن استاد ہے۔

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •