خبر دینے والوں کی خبر لینے والا کوئی نہیں: میڈیا ورکرز پر کڑا وقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشکل حالات ہیں بھائیو! صبر کریں اور خود پر یقین رکھیں۔ پاکستان میں تبدیلی کی خواہش کا سب سے بڑا خمیازہ اس وقت پاکستانی میڈیا بھگت رہا ہے۔ جی یہ وہی میڈیا ہے جو عمران خان اور تحریک انصاف کی جلسیوں کو بڑے اور کامیاب جلسے دکھا کرعوام میں تبدیلی کی امیدیں پیدا کرتا تھا۔ زیادہ پرانی نہیں کچھ ایک سال قبل کی ہی بات ہے تحریک انصاف کے لیڈران صحافیوں کی آؤ بھگت کرتے نظر اتے تھے۔ وہ وقت بھی تھا جب ان کے وہ لوگ جو اج اہم عہدوں پر براجمان ہیں ایک ایک شاٹ دینے کے لئے حاضر رہتے تھے۔

لیکن مولا علی کا ایک قول ہے جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والا ہر شخص چاہتا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت آئے۔ بڑے بڑے تجزیہ کار اس ناکام حکومت کے قصیدے پڑھتے تھے۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کو نظریاتی ملک کے لئے آخری چوائس قرار دیتے تھے۔ بس پھر کیا، ذہن سازی کرنے والے میڈیا کا کام اثر کر گیا۔ دو ہزار اٹھارہ کے ضمنی انتخابات میں بلاشبہ تحریک انصاف کو عوام کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ دیا۔

ہاں وہ الگ معاملہ ہے کہیں کہیں پر خوب انجینئرنگ بھی کی گئی۔ خیر اس بات پر شبہ نہیں کہ ووٹ انہیں ملے۔ ووٹ بالکل ملے اور پی ٹی آئی برسراقتدار آ گئی۔ یہ وہ پس منظر ہے جو اس حکومت میں انے سے پہلے یہ واضح کر رہا ہے کہ کس طرح پوری قوم کی ذہن سازی کر کے میڈیا نے تحریک انصاف کی جیت میں حصہ ڈالا۔ یہ مولا علی کے قول کا پہلا حصہ تھا۔ احسان کیا۔ اب اس کے شر سے بچو۔ سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے سب سے شر انگیز شخص کو وزیر اطلاعات کی وزارت سے نوازا۔

یہ وہی شخص ہے جو میڈیا اداروں سے وابستہ رہا۔ بیٹھ کے بلند وبانگ تبصرے کرتا تھا۔ البتہ اس کی سنتا کوئی نہیں تھا لیکن صاحب شر انگیزی میں یقیناً مہارت رکھتے ہیں۔ وزارت اطلاعات کی کرسی سنبھالتے ہی میڈیا اداروں کے بقایاجات میں گھپلے کیے۔ واجب الادا رقم دینے سے مکر کر حکومت نے غریبی کا رونا رویا اور اصل رقم کی بجائے اپنی طے شدہ رقم پر بضد ہوئی اس سب سے پہلا اثر یوں پڑا کہ سیٹھوں نے کئی سو افراد کو پیسہ نہ ملنے ادارے کو خسارے میں دکھا کر فارغ کردیا پھر ملک میں تبدیلی مینجمنٹ کے نام پر میڈیا اداروں کو اشتہارات کی مد میں جاری کی جانی والی رقم میں کٹوتی کردی گئی اور پھر جو سلسلہ چلا وہ تاحال جاری ہے۔

ملک بھر کے میڈیا اداروں سے ہزاروں افراد اب تک نکالے جا چکے ہیں۔ عوام کے مسائل کی خبریں دینے والوں کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ کئی افراد کے گھر میں فاقے ہیں کئی افراد کے بچے اسکول سے نکال دیے گئے۔ اور جو افراد اب تک روزگار پر ہیں ان کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ ذہنی اذیت تواتر سے انہیں دی جارہی ہے۔ عوامی مسائل دکھانے والے میڈیا کے مسائل دکھانے والا اور دیکھنے والا کوئی نہیں جبکہ عوام کی خاطر بات کرنے والوں کی زبان بھی بند کردی گئی ہے۔ ایک سال کے اقتدار میں میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہوئی البتہ حکومتی پالیسیوں کے باعث دیگر شعبوں میں بھی کئی افراد اور کئی انڈسٹریز بحران کا شکار ہیں یہ صورتحال یقینا ہر شہری کے لئے پریشان کن ہے جبکہ میڈیا اداروں سے وابستہ اور جو جبری برطرف کردیئے گئے ہیں ان کے لئے بھی شدید اذیت والی بات ہے لیکن میرے بھائیوں ہمت مرداں مدد خدا، اپنے اپ پراعتماد کریں، زندگی کٹھن ہے، امتحانات وقتی ہیں۔ جلد ایک نیا آغاز ہوگا اور کسی طور پر آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔ باشعور اور اپنے حقوق جاننے والے لوگ ہیں۔ اعتماد کو مضبوط کریں اور مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں۔  صحافت سے جڑے ہر شخص کی دعا اپنے ہر بھائی بہن کے ساتھ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •