پاکستان میں عالمی کانفرنس برائے بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی سے دوروزہ کانفرنس میں شرکت کے لئے جب میں اسلام آباد روانہ ہوا، تومیرے ذہن میں اس کانفرنس کے حوالے سے وہی خیالات تھے، جو زیادہ تر پاکستان میں ہونے والی کانفرنس کے لئے کسی بھی عام شخص کے ہوتے ہیں، یعنی نشستم گفتم برخاستم۔

جب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کے گیٹ کے اندر داخل ہو رہا تھا، تو اس یونیورسٹی نے مجھے اپنے قدرتی حسن میں پہلے ہی جکڑ لیا تھا، اور یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش کے لئے دیے گئے کمرے، ان کا ماحول، کسی بھی ایک عالمی یونیورسٹی کے ماحول سے کسی قدر مختلف نہیں تھا۔ اور ان گزرے دو دنوں میں علامہ اقبال یونیورسٹی پاکستان میں فروغ تعلیم اور خاص کر بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما کے موضوع پر جتنا منظم طریقے سے کام کر رہی ہے اس کے بارے میں جان کر ناصرف خوشی بلکہ فخر محسوس ہوا۔

25 ستمبر کی صبح، کانفرنس کے لئے مختص آڈیٹوریم کے دروازے کے اندراستقبالیہ بنایا گیا تھا جہاں پر ایک بہت بڑی تعداد کانفرنس میں شرکت کے لئے، پورے پاکستان، اورپاکستان سے باہرسے آئے ہوئے شرکا کی موجود تھی، منتظمین بہت ہی منظم اندازمیں، کانفرنس کے لئے آنے والے شرکا کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ایک خود کارعمل کے بعد، ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ قسم کے آڈیٹوریم میں پہنچے اور کانفرنس، دیے گئے وقت کے مطابق شروع ہوئی۔

اس عالمی کانفرنس کا موضوع، ”پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما“ تھا، یہ کانفرنس اپنے انعقاد کی تاریخ کے حساب سے تیسری سالانہ کانفرنس تھی، اوراس سے پہلے اس حوالے سے، ملکی سطح پر دو سالانہ کانفرنسز کروائی جا چکی تھیں، لیکن اس موضوع پر عالمی سطح کی پاکستان میں یہ پہلی کانفرنس تھی۔

یہ کانفرنس، پاکستان الائنس فار ارلی چائلڈہوڈ کے زیر انتظام منعقد کی گئی جن میں پاکستانی اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کا تعاون بھی شامل تھا، اس کانفرنس کی خاص باتوں میں سے ایک خاص بات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، وفاقی وزارت برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت اور وفاقی وزارت برائے منصوبہ بندی، ترقی اوراصلاح کا اشتراک بھی تھا۔

کانفرنس کی ایک اور خاص بات اس میں کانفرنس کے موضوع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین کا آنا بھی تھا، حیران کن طور پر اس موضوع پر پاکستان ان دنیا کے چند ممالک میں شامل ہے جہاں اس موضوع پر پاکستان کے ماہرین تعلیم، عالمی ماہرین کے ہم پلہ کام کر رہے ہیں، اور اس ہی حوالے سے اس کام کو دنیا میں سراہا بھی جا رہا ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تقریبا 44 فی صد تعداد ایسی ہے جن کی ابتدائی عمروں میں بہتر نشونما نہیں ہو پاتی، اور ان کی دماغی و ذہنی صحت باقی دنیا کے ممالک کے بچوں کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے، اور اس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب بھی، اس حوالے سے اپنے کئی انٹروویوز میں یہ بات کر چکے ہیں۔

کانفرنس کے منتظمین، مقررین اور ماہرین تعلیم نے پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما کے حوالے سے اپنی اپنی ریسرچ، ماہرانہ رائے، تجاویز، مشورے اور وہ تمام پالیسی لیول کے موضوعات کا احاطہ کیا جو اس حوالے سے اہم تھیں۔ اس کانفرنس میں جناب شفقت محمود، ٖوفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، حکومتِ پاکستان، جناب اعظم سواتی، فیڈرل منسٹر برائے پارلیمانی امور نے خاص طور پر شرکت کی۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 اے ”تعلیم کے حق کے مطابق“، ”اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے“۔ لیکن اس کانفرنس میں شرکت کے بعد جناب شفقت محمود، ٖوفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، حکومتِ پاکستان نے اس بات کی ضرورت کوناصرف محسوس کیا کہ بچوں کی ابتدائی نشوونما و تربیت تو اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے بطن میں شروع ہو جاتی ہے، جس میں خصوصا ماں کی ذہنی اور جسمانی حالت خاص طور پر زیر بحث آتی ہے، تو اب اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہو گی کہ اس کو کس طرح سے ٓائین کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

اور یہ بات اس کانفرنس کی کامیابی کا ایک منہ بولتا ثبوت بھی تھا، کہ اس ایک فلور پر تمام متعقلہ لوگوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر سن کی اس بات کی اہمیت اور ضرورت کو ناصرف محسوس کیا گیا بلکہ اس حوالے سے حکومتی ذمہ داریوں کا ادراک بھی ہوا۔ علامہ اقبال یونیورسٹی میں اس حوالے ایک سینٹر کے قیام کے حوالے سے بھی ایم او یو سائن ہوا، جو پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما پر تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ حکومت کو مشاورت بھی فراہم کرے گا۔

اس کانفرنس کے روح روا جناب نصرالدین روپانی صاحب تھے، جو کہ ایک پر عزم پاکستانی ہیں، اپنی کاروباری مصروفیا ت کی بنا پر امریکہ میں رہائش پذیر ہیں لیکن دل پاکستان اورپاکستانیوں کے لئے ڈھرکتا ہے اوراس اہم موضوع پر اگر حکومت پاکستان، پاکستانی اداروں، عالمی اداروں، ماہرین تعلیم، اور یونیورسٹیز کو ایک فورم پر جمع کیا گیا، تو ان سب میں ان کی انتھک محنت، پاکستان سے محبت، خلوص اورعزم شامل ہے۔ جناب روپانی صاحب ایک پرعزم پاکستانی کے طور پر اس مشن کو آگے لے کر چل رہے ہیں اور حال ہی میں ایک پاکستان آلائنس فار ارلی چائلڈ ہوڈ کے قیام کو بھی عمل میں لائے ہیں، جسے مس خدیجہ، اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر آگے لے کر جا رہی ہیں اور اس کا بنیادی مقصد ہی ان تمام اداروں، ماہرین، شعبہ جات، اور اشخاص کو ایک مقام پر جمع کیا جائے جو ”پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تربیت و نشوونما“ پر کام کر رہے ہیں۔

اس کانفرنس کے ایک اور روح رواں جناب پروفیسر محمد رفیق طاہر صاحب ہیں، جو اس وقت مشترکہ تعلیمی مشیر کی حیثیت سے وفاقی وزارت برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تربیت اور نشوونما کے موضوع کو ایک مشن کے طور پر لے کر چل رہے ہیں، پاکستان میں ایک نصاب تعلیم کو رائج کرنے کے حوالے سے بھی دن رات محنت کرنے میں مصروف ہیں۔

ان ہی جیسے کئی پاکستانی پتہ نہیں کہا کہا، خاموشی سے اس ملک کے لئے، بنا کسی صلے یا ستائش کے اپنے کاموں میں مصروف عمل ہیں، اور ان کے سامنے آج کا نہیں کل کا پاکستان ہے،

آئیں ان کے ساتھ کھڑے ہوں، آ ئیں آج کے پاکستان کے ساتھ ساتھ، کل کے پاکستان کے لئے مل کر کام کریں۔

اللہ ان سب پاکستانیوں کا جو بہت خاموشی سے اس ملک کی بہتری کے لئے اپنے کاموں میں مصروف عمل ہیں، میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •