زین العابدین، عبدالرحمن، جوزف اور رام داس کی جنگ


\"Wajahatبھائی سلیم ملک نے 1971ئ کی جنگ کے بارے میں اپنے ذاتی مشاہدات لکھے ہیں۔ عام انسانوں کے دکھ سکھ کی باتیں لکھیں۔ کچھ امن اور جنگ کے معاملات بیان کئے۔ سب کے لئے امن اور سلامتی کی دعا لکھی۔ اس پر کچھ دوست بہت خفا ہوئے۔ بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کی مذمت کرتے ہیں اور شہادت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ایک بہن نے لکھا کہ مسلمان کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا۔ ایک بھائی نے ٹائی ٹینک جہاز کے کپتان کی مدح لکھی۔ ہم نے پہلے مذہب اور ریاست کو خلط ملط کیا تھا۔ اب مذہب  اور جنگ کو الجھایا جا رہا ہے۔ ان معاملات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہیے۔ ہر وقت جوش و جذبے کے گھوڑے پر سوار رہنا مناسب نہیں ہوتا۔

ہم نے پاکستان کو ایک آزاد قومی ریاست کے طور پر قائم کیا تھا۔ قومی ریاست میں مذہب اور جنگ کے دائرے طے ہیں۔ عقیدہ، ہر شہری کی ذاتی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ قومی ریاست عقیدے کی آزادی فرد کو عطا کرتی ہے۔ فرد کو حق ہے کہ وہ گروہ تشکیل دے اور یہ گروہ عبادت کا حق مانگ سکتا ہے۔ اجتماعی عبادت کا حق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تاہم عقیدے کی نمائندگی فرد کا اپنا ضمیر کرتا ہے۔عقیدے کی آزادی پر کسی دوسرے کو مختار نہیں بنایا جا سکتا۔

اسے کچھ مثالوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کے چار شہری ہیں۔ زین العابدین، عبد الرحمن، جوزف گل اور رام داس۔ زین العابدین جہلم میں رہتے ہیں۔ ریاست نے انہیں عقیدے کی آزادی کا تحفظ دیا ہے۔ انہیں حق ہے کہ وہ اپنے لئے عقیدے کا انتخاب کریں۔ وہ اثنا عشری عقائد کو درست سمجھتے ہیں۔ ریاست ان سے اثنا عشری عقائد پر بحث نہیں کرتی۔ عقیدے میں بحث نہیں ہوتی۔ عقیدے کی سچائی کمرہ عدالت اور پارلیمنٹ میں طے نہیں کی جاتی۔ عقیدہ انسانوں کے ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ مذہب کی آزادی دراصل ضمیر کی آزادی ہے۔ ضمیر ہر فرد کا شخصی دائرہ کار ہے۔ زین العابدین کے محلے میں ان کے عقیدے سے اتفاق رکھنے ولے بہت سے شہری رہتے ہیں۔ ان سب نے مل کے رضا کارانہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک جگہ جمع ہوکر عبادت کریں گے۔ آئین نے زین العابدین کو تنظیم سازی کا حق دے \"waj-01\"رکھا ہے، اجتماع کا حق دے رکھا ہے۔ زین العابدین کے ایک دوست نے عبادت گاہ کے لئے اپنی زمین دی ہے۔ ایک غریب شیعہ نے عبادت گاہ تعمیر کرنے میں مدد دینے کی پیشکش کی ہے۔ دھوپ میں کھڑے ہو کر امام بارگاہ کی چار دیواری بنا رہا ہے۔ فرش بندی کرتا ہے۔ ایک کم عمر نوجوان سکول سے واپس آتا ہے تو دیواروں پر رنگ و روغن کر رہا ہے۔ زین العابدین انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ دن میں ایک مرتبہ تشریف لاتے ہیں۔ مزدوروں کو بتا دیتے ہیں کہ وضو کرنے کی جگہ کہاں ہو گی۔ باہر سے مہمان آئیں گے تو انہیں کہاں ٹھہرایا جائے گا۔ نیاز کہاں پر تقسیم کی جائے گی۔ پینے کا پانی کہاں دستیاب ہوگا۔ یہ سب لوگ بہت نیک لوگ ہیں۔ اور انہوں نے اپنے ضمیر کی روشنی میں ایک اچھا کام کرنا چاہا ہے۔ پاکستان کی ریاست کا ایک ہی فرض ہے اور وہ یہ کہ اس عبادت گاہ پر کوئی حملہ نہ کرے۔ اور یہ کہ اس عبادت گاہ سے کسی پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ عبادت ہر انسان کا داخلی مکالمہ ہے۔ یہ اتنا ذاتی معاملہ ہے کہ اسے مقدس قرار دیا گیا ہے۔ مقدس کسے کہتے ہیں؟ مقدس وہ ہے کہ جس پر سوال کرنا مناسب نہ ہو۔ مقدس معاملات پر سوال اٹھایا جائے تو جھگڑا ہو جاتا ہے۔ ہمیں ہر انسان کے حق عقیدہ کا غیر مشروط احترام کرنا چاہیے۔ کوئی اپنے قلبی اطمینان کے لئے میلاد شریف کی مجلس کرنا چاہتا ہے تو بسم الله۔ کوئی امام عالی مقام کو یاد کرنا چاہتا ہے تو علی کے چاہنے والوں کی خیر ہو۔

لاہور کے نواح میں رہنے والے جوزف گل نے ایک گرجا گھر تعمیر کیا ہے۔ اصول وہی ہیں۔ جوزف اور اس کے ساتھیوں کے لئے عبادت کا \"waj-02\"حق طے ہے۔ ریاست کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عقائد کی بحث نہیں کر سکتی۔ جوزف اور ان کے ہم عقیدہ شہریوں نے جائز طریقے سے زمین حاصل کر کے قانون کے مطابق ایک عبادت گاہ بنائی ہے۔ یہاں مریم مقدس کی تسبیح ہوگی۔ یہاں یسوع مسیح کی تعلیمات بیان کی جائیں گی۔ یہاں اخلاق کی تعلیم دی جائے گی۔ یہاں ایسٹر کی عبادت ہو گی۔ کرسمس کا اجتماع ہو گا ۔ریاست کا کام عبادت میں خلل ڈالنا نہیں اور نہ عبادت کی سچائی کی تحقیق کرنا ہے۔ پولیس، عدالت اور  پارلیمنٹ سمیت ریاست کے تمام اداروں کا فرض ہے کہ وہ چرچ کی حفاظت کریں۔ سڑک کے دوسری طرف بھائی عبد الرحمٰن نے مسجد بنائی ہے۔ مسجد نیکی بیان کرنے اور پھیلانے کی جگہ ہے۔ مسجد میں داخل ہونے والے دروازے پر جوتے اتارتے ہیں تو دنیا کی آلائشیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ نماز کی نیت باندھتے ہیں تو گویا اپنے اندر کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جوزف گل اور زین العابدین پر فرض ہے کہ وہ عبد الرحمٰن کے لئے مسجد کے حق کا احترام کریں۔ ان کی عبادت گاہ کا تقدس برقرار رکھیں اور بھائی عبدالرحمٰن کے ساتھ ان کے عقیدے کی بنیاد پر کوئی ناانصافی نہ کی جائے۔

یہاں سے کئی سو میل دور رام داس جی نے سرسوتی کا ایک پرانا مندر مرمت کر کے عبادت کے قابل بنایا ہے۔ یہاں رام کے نام کی مالا جپی جائے گی۔ یہاں کرشن گوپال کی شان بیان کی جائے گی۔ یہاں ہولی کھیلی جائے گی۔ یہاں دیوالی کے چراغ جلیں گے۔ یہ مندر نشان ہے کہ پاکستان کی ریاست زین العابدین، عبد الرحمٰن، جوزف گل اور رام داس کو پاکستان کا برابر کا شہری سمجھتی ہے۔ یہ پاکستان کی قومی ریاست \"waj-03\"ہے۔ رام داس، زین العابدین، عبدالرحمٰن اور جوزف گل کے بھائی اور بچے مقابلے کے امتحان پاس کر کے ملک کے اعلٰی ترین عہدوں تک پہنچیں گے۔ وہ فوج میں کمیشن لے کر ملک کا دفاع کریں گے۔ وہ شہر کے بازار میں دوکان کھولیں گے تو ان کی دکان قانون کی نظر میں دوسری دوکانوں جیسی ہوں گی۔ انہیں آگے بڑھنے کا برابر کا موقع دیا جائے گا۔ ان کے بچوں کو سکول میں وہی تعلیم ملے گی جو کسی دوسرے شہری کے بچوں کو دی جاتی ہے۔ انہیں سرکاری ہسپتال میں برابر کا علاج معالجہ ملے گا۔ ان پر کوئی ٹیکس عقیدے کی بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا۔ ان کے پاسپورٹ پر کوئی ایسا نشان نہیں لگایا جائے گا جس سے یہ ظاہر ہو کہ ریاست انہیں کسی امتیاز کی نظر سے دیکھتی ہے۔

پاکستان ایک قومی ریاست ہے۔ یہاں سب شہری ووٹ دینے اور ووٹ لینے کا مساوی حق رکھتے ہے۔ پاکستان کسی مہاراجہ کا رجواڑا نہیں، کسی نواب کی ریاست نہیں اور کسی رئیس کی جاگیر نہیں۔ یہ ملک یہاں کے رہنے والوں نے اپنے حق حکمرانی کی بنیاد پر حاصل کیا ہے۔ اس ریاست میں کچھ آئینی ادارے ہیں جو ملک کا بندوبست چلاتے ہیں جیسے پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ کچھ عوامی خدمت کے ادارے ہیں۔ جیسے پولیس، فوج، محکمہ صحت، ریلوے، محکمہ ڈاک وغیرہ۔ کچھ ادارے ایسے ہیں جنہیں شہری اپنی آئینی آزادیاں استعمال کرتے ہوئے قائم کرتے ہیں جیسے اخبار، ٹیلی ویژن۔ آئین کا آرٹیکل 19 اظہار کی آزادی کا حق دیتا ہے۔ یہاں ادب اور ثقافت کی ترقی کے لئے کچھ مجلسیں ہیں، انجمنیں ہیں، رفاہی ادارے ہیں۔

ہمارے ملک کا رقبہ طے ہے۔ پاکستان کی ریاست کو اپنی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے۔ دفاع کے اس حق کو استعمال کرنے کے لئے بری، \"waj-04\"فضائی اور بحری افواج قائم کی گئی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کے دفاع کا حق ہے کیونکہ ہم نے اعلان کر رکھا ہے کہ ہم کسی کے خلاف جارحیت نہیں کریں گے۔ ہمارے دفاع کا حق جارحیت نہ کرنے کے عزم سے بندھا ہے۔ کسی نے ہمارے خلاف جارحیت کی تو ہم اپنا دفاع کریں گے۔ کوئی اسے جنگ کہنا چاہتا ہے تو کہے، ہم یہ جنگ بہادری سے لڑیں گے۔ ہمارے  شہری فوج کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ فوج ہمارے گھر کی حفاظت کرے گی، ہم اپنی فوج کی ضروریات کے لئے مالی وسائل فراہم کریں گے۔ اسے ہتھیار دیے جائیں گے۔ وطن کے سپاہیوں کا احترام کیا جائے گا۔ پاکستان کا احترام جوزف گل، عبد الرحمٰن اور صوبے دار دریا خان اور میجر نعیم بٹ کے احترام سے بندھا ہے۔ ہم جنگ کے لئے تیار رہتے ہیں تا کہ اپنےوطن کی حفاظت کر سکیں۔ جنگ ہمارا نصب العین نہیں۔ ہم جنگ شروع نہیں کرتے اور ہم نے جنگ لڑنے کے بین الاقوامی اصولوں کی پابندی اختیار کر رکھی ہے۔ ہم جنگ کو قوم کی عظمت کا نشان نہیں سمجھتے۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کو بہادری سمجھتے ہیں۔ ہم کسی ملک کے دشمن نہیں ہیں۔ جو ہم پہ حملہ کرے گا ہم اس کے دشمن ہیں۔ ہم ملک کے دفاع میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کریں گے۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “زین العابدین، عبدالرحمن، جوزف اور رام داس کی جنگ

  • 12/10/2016 at 2:19 شام
    Permalink

    اس ریاست میں جب تک صوبدار دریا خان اور میجر نعیم بٹ اپنے تسلط کے ساتھ موجود ھیں یے خواب کبھی شرمنده تعبیر نهیں ھو سکتا

Comments are closed.