اس کی بیوی کو کس کی تلاش تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شام روبی اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی کہ اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ابھی آفاق کے آنے کا وقت نہیں ہوا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ آفاق ہی تھا۔ آفاق نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔

”آج آپ جلدی آ گئے۔ “
”کیا واپس چلا جاؤں؟ “
”میں نے یہ تو نہیں کہا۔ “ وہ گڑ بڑا گئی۔
آفاق آگے بڑھا اور اسے بازؤں میں بھر کر چوم لیا۔

”کیا کر رہے ہیں آپ۔ دروازہ کھلا ہے۔ “
”تو اور کیا کروں تم اتنی پیاری لگ رہی ہو۔ “ آفاق بولا۔
روبی کا دل جھوم اٹھا۔ آج پہلی بار اسے نیا آفاق نظر آیا تھا۔ آفاق نے اس سے چند محبت بھری باتیں کیں۔ پھر سنجیدگی سے بولا۔

”روبی! تمہیں ایک بات بتانی تھی۔ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اپنا پرائیویٹ کالج بنا رہا ہوں۔ میری تنخواہ میں تو بس گزارا ہی ہوتا ہے۔ میں تمہیں موٹر سائیکل پر باہر لے کر جاتا ہوں لیکن اب اس سے بہتر زندگی گزارانا چاہتا ہوں۔ اگر ہمارا کالج کامیاب ہو گیا تو بہت جلد کار خرید لوں گا۔ پھر ہم گاڑی میں گھومنے جایا کریں گے۔ “ روبی بھی اس کا پلان سن کر بہت خوش ہوئی۔

کالج کے سلسلے میں آفاق بہت مصروف ہو گیا تھا۔ کئی بار اسے راتیں بھی باہرگزارنی پڑتی تھیں لیکن روبی بہت خوش تھی اور اس کی خوشی کا سبب آفاق میں آنے والی تبدیلی تھی۔ وہ اس کا والہانہ انداز پہلی بار محسوس کررہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے آفاق کے جذبات میں ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی ہے جیسے سمندر کا جوار بھاٹا اپنے جوبن پر ہو۔ ایسی شدت تو اس نے شادی کے ابتدائی دنوں میں دیکھی ہی نہیں تھی۔ وہ اس کی محبت کی بارش میں بھیگتی ہوئی اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آفاق کی محبت بڑھتی جاتی تھی۔ پھر اس نے ایک گاڑی بھی خرید لی۔ وہ روبی کو اکثر گاڑی پر گھمانے لے جاتا۔ وہ باہر کھانا کھاتے اور خوش و خرم واپس آتے۔ پھر ایک رات عجیب سی بات ہوئی۔ وہ آفاق کے بازوؤں میں تھی۔ آفاق نے جذبات کی شدت میں مخمور لہجے میں اسے پکارا۔ روبی کو ایک جھٹکا سا لگا۔ آفاق نے اسے ”زوبی“ کہہ کر پکارا تھا۔

”میرا نام روبی ہے۔ “ اس نے کہا۔
”تو میں نے کیا کہا؟ “
”آپ نے زوبی کہا۔ “
آفاق سناٹے میں آ گیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔
”کمال ہے میں نے ایسا کیوں کہا۔ واقعی تم روبی ہو۔ تم روبی ہو۔ “ اس نے چند لمحوں کے توقف کے بعد ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

اس وقت تو روبی مطمئن ہو گئی مگر آنے والے دنوں میں اس کا اطمینان قائم نہ رہ سکا۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا تھا۔ آفاق جب بھی جذبات سے مخمور ہوتا تھا تو اسے زوبی کہہ کر پکارتا تھا۔ روبی کے دل میں شک کی کونپل نے جڑ پکڑ لی تھی اور ہر روز یہ پودا تناور ہوتا جاتا تھا۔

”کون ہے یہ زوبی؟ “ اس نے ایک دن جی کڑا کر کے پوچھا۔
”بتاؤ کون ہے؟ “ آفاق نے کہا۔

”سوال کے جواب میں سوال نہیں ہوتا، میں آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ “ روبی نے کہا۔
”میں تو نہیں جانتا، اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔ “
” آپ مجھے زوبی کیوں کہتے ہیں؟ “
”شاید کبھی یوں ہی منہ سے نکل گیا ہو۔ “

”ایسا کیسے ہو سکتا ہے“
”چھوڑو نام میں کیا رکھا ہے۔ میں تمہیں کچھ بھی کہوں تم میری بیوی ہی رہو گی۔ “
آفاق نے بات ہنسی مذاق میں ٹالنے کی کوشش کی۔ روبی کا شک رفع نہیں ہو سکا تھا۔

آفاق اپنی جگہ پریشان تھا۔ اس شام وہ گاڑی میں بیٹھا اور باہر نکل گیا۔ اس نے روبی کو بتا دیا تھا کہ کالج کا کام کافی زیادہ ہے۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ روبی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ گاڑی چلتی رہی اور ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایریا میں داخل ہو گئی۔ پھر ایک مکان کے سامنے اس نے گاڑی روک دی۔ اس نے ایک گہری سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور پھر گاڑی سے اتر آیا۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ اس نے ڈور بیل بجائی۔ دروازہ کھلا تو ایک دلکش چہرہ نظر آیا۔ تراشیدہ براؤن بال اس کے شانوں پر لہرا رہے تھے۔ نیلی جینز پر بلیک ٹاپ اس کے متناسب جسم پر بھلے لگ رہے تھے۔ اس کے بھرے بھرے سرخ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

”تم خود دروازہ کھولنے آ گئیں، رضیہ کہاں ہے؟ “
”میں نے ٹیرس سے آپ کو آتے دیکھ لیا تھا۔ اس لیے خود آئی ہوں۔ وہ کچن میں کھانا بنا رہی ہے۔ “
”بہت خوب کیا بنوا رہی ہو؟ “

”ساری باتیں یہاں دروازے میں کھڑے ہو کر ہی کریں گے کیا؟ چلیں اندر چلیں۔ “ لڑکی نے اس کے بازو سے لگتے ہوئے کہا۔ آفاق سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑا۔
کمرے میں جاتے ہی لڑکی کی زبان پھر چل پڑی۔

”ابھی کچھ دیر پہلے آپ سے باتیں کرنے کو بڑا دل چاہ رہا تھا لیکن آپ نے مجھ پر اتنی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ فون بھی نہیں کرنا وغیرہ وغیرہ۔ بہت اچھا ہوا آپ آ گئے۔ بلکہ آپ آئے، بھاگ آئے۔ قسم سے دل خوش ہو گیا۔ “

”اچھا بس بس۔ میسج پر تو پابندی نہیں لگائی میں نے۔ میسج تو کر سکتی تھیں ناں۔ دو دن سے ملے نہیں بتاؤ تمہاری جاب کیسی چل رہی ہے؟ “

”نام جاب کا ہے اور پوچھنا کچھ اور چاہتے ہیں، صاف صاف پوچھیں ناں۔ اچھا میں بتاتی ہوں۔ کالج میں کسی کو ابھی تک پتا نہیں چل سکا کہ میں نے شادی کر لی ہے لیکن کوئی بتائے نہ بتائے میں خود کسی نہ کسی دن ضرور بتا دوں گی۔ میرا اتنا دل چاہتا ہے کہ میں سب کو بتاؤں۔ ہمارے کالج میں کسی کولیگ کی شادی ہو تو اسے بڑی اچھی سی پارٹی دی جاتی ہے۔ اور آپ ہیں کہ بتانے بھی نہیں دیتے۔ “

”زوبی میں نے بتایا تھا ناں، ابھی حالات سازگار نہیں ہیں۔ میرے والدین کسی قیمت پر میری تم سے شادی نہ ہونے دیتے اور ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ اس لیے یہ قدم اٹھانا پڑا لیکن تم فکر نہ کرومیں ایک نہ ایک دن انہیں منا لوں گا۔ “

”کب؟ اتنے مہینے ہو گئے ہیں، آپ نے کچھ بھی نہیں کیا۔ خیر کوئی بات نہیں آپ جتنا چاہیں اور وقت لے لیں۔ اب مجھے کوئی ٹینشن نہیں اب تو آپ میرے ہو چکے ہیں۔ “ زوبی نے سرشار لہجے میں کہا اور اپنا سر آفاق کے کندھے پر رکھ دیا۔ آفاق نے اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے اسے اپنے اور قریب کر لیا اور اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •