اس کی بیوی کو کس کی تلاش تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ڈاکٹر میں کیا کروں۔ روبی کا شک اب یقین میں بدلتا جا رہا ہے اور زوبی بھی شاید جلد ہی حقیقت جان لے گی۔ “

ڈاکٹر سہیل نے اسے دوا لکھ دی۔ سکون آور دوا نے اسے کسی حد تک آرام دیا مگر زوبی پر حقیقت کھل گئی۔ کسی مخمور لمحے میں اس نے خود سب کچھ اسے بتا دیا۔ زوبی پر اس کا اثر بہت گہرا ہوا۔ آفاق کو اس رویے کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ وہ اس کا ہاؤسنگ سوسائٹی والا گھر چھوڑ کر اپنی ماں کے پاس چلی گئی جو اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا مگر وہ بیسویں سکیل میں ریٹائر ہوئے تھے لہٰذا اس کی ماں کو اچھ خاصی پنشن مل جاتی تھی۔

آفاق نے بڑی کوشش کی کہ وہ واپس آ جائے لیکن وہ واپس آنے کو تیار نہیں تھی۔ اس نے طلاق کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

روبی بھی بے خبر نہ رہ سکی۔ اسے دکھ تو ہوا لیکن جب اسے پتا چلا کہ زوبی اس کے خاوند کو چھوڑ کر چلی گئی ہے تو وہ مطمئن ہو گئی۔ آفاق کے والدین نے بھی اسے خوب برا بھلا کہا اور حکم دیا کہ زوبی کو فوراً طلاق دے دو۔ آفاق ان کے سامنے بالکل چپ رہا۔ مگر اس نے زوبی کو طلاق نامہ نہ بھجوایا۔ پیشیاں جاری تھیں۔ اب آفاق اپنے گھر میں وقت گزارتا تھا۔ اس کا پرائیویٹ کالج اس کا عملہ چلا رہا تھا۔ وہ کالج سے فارغ ہو کر دوپہر دو بجے گھر آ جاتا تھا اور پھر کہیں باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔ ٹی وی دیکھتا اور کتابیں پڑھتا رہتا۔

روبی رنجشیں بھلا کر اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔ وہ ہر وقت اس کے پاس ہوتا تھا اس کے لیے یہ خوشی بہت بڑی تھی۔ چند مہینے اسی طرح گزرے پھر روبی کہیں باہر جانے لگی۔ آفاق کی ماں نے اس سے دو تین بار پوچھا لیکن وہ ٹال گئی۔ اس کی بتائی ہوئی وجوہات اس کی ساس کو مطمئن نہ کر سکی تھیں۔ انہوں نے اپنے خاوند کو بتایا۔ روبی کے سسر نے بہو سے پوچھا۔ روبی نے روتے ہوئے انہیں بتایا وہ کسی کو ڈھونڈ رہی ہے۔ ابھی مت پوچھیں بعد میں وہ سب کچھ بتا دے گی لیکن وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہی۔ ان دونوں کو اپنے خاندان کی لڑکی پر بھروسا تھا پھر بھی بے چین ضرور تھے۔ روبی کی تلاش جاری تھی پھر وہ ڈاکٹر سہیل کے پاس پہنچ گئی۔

”میں روبی ہوں، مجھے پتا چلا ہے کہ میرے خاوند آفاق بھی آپ سے ملتے رہتے ہیں۔ “
”جی فرمائیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ “ ڈاکٹر سہیل نے اس سے پوچھا۔

”میں زوبی سے ملنا چاہتی ہوں۔ میں نے آفاق سے بات کی تھی لیکن مجھے انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔ وہ مجھے کبھی اس سے ملنے نہیں دیں گے جبکہ میں ہر حال میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔ “ روبی نے کہا۔

”لیکن کیوں؟ اب تو وہ ایک طرح سے آپ کی زندگی سے نکل چکی ہے اوربقول آفاق آئندہ پیشی پر طلاق کا فیصلہ بھی ہونے والا ہے۔ تو پھر کیا پریشانی ہے۔ “
”پریشانی یہی ہے کہ کہیں طلاق نہ ہو جائے۔ میں اس کی منت کروں گی، ہاتھ جوڑ دوں گی، اس کے پاؤں پڑ جاؤں گی اور اسے مناؤں گی کہ وہ طلاق نہ لے۔ “ روبی نے کہا۔
”اوہ! تو آپ نے اسے تسلیم کر لیا ہے اور آپ اسے اپنے ساتھ گھر میں رکھنا چاہتی ہیں۔ “ ڈاکٹر سہیل نے سر ہلایا۔

”نہیں ڈاکٹر صاحب، میں اس سے شدید نفرت کرتی ہوں، لیکن اس کا وجود میرے لیے بے حد ضروری ہے۔ آپ کو نہیں پتا میں کس عذاب سے گزری ہوں۔ آفاق سے میری شادی ہوئی تو وہ میرے ہو کر بھی میرے نہیں تھے۔ پھر اچانک ان کا رویہ بدل گیا۔ وہ مجھ سے بے حد پیار کرنے لگے۔ میں محبت کے اس احساس کو بھول نہیں سکتی۔ جب سے وہ چلی گئی ہے ایک بار پھر آفاق پہلے والے آفاق بن گئے ہیں۔ گم سم، محبت سے خالی۔ اب تنہائی کے لمحات میں انہوں نے کبھی مجھے زوبی نہیں کہا لیکن محبت کا سحر بھی اب باقی نہیں رہا، زوبی اسے بھی ساتھ ہی لے گئی ہے۔

میں زوبی کو واپس لاؤں گی۔ زوبی اسی طرح ان کے دوسرے گھر میں رہے گی تو میری محبت مجھے مل جائے گی۔ میں آفاق کی محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور ان کی محبت حاصل کرنے کی یہی ایک صورت ہے۔ پلیز آپ کسی طرح زوبی کا پتا حاصل کر کے مجھے بتا دیں۔ آفاق آپ کے پاس آتے جاتے ہیں، آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ خدارا مجھے زوبی تک پہنچا دیں۔

ڈاکٹر سہیل حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ یہ ان کی زندگی کا انوکھا کیس تھا۔ زوبی نے روبی کی بات مانی یا نہیں یہ ایک الگ قصہ ہے مگر ڈاکٹر سہیل نے مجھے یہ کہانی سنائی تو محبت کا یہ رنگ میرے لیے تعجب خیز تھا۔ ہاں جاتے جاتے اتنا بتا دوں کہ آفاق کے ہاؤسنگ سوسائٹی والے گھر میں زوبی واپس آ گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •