خواہشیں۔۔۔ بے کراں رات کے سناٹے میں

یہ خواہشیں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں ان سے دور بھاگو تو یہ خوابوں میں آنے لگتی ہیں اور بس خواب میں آنے پر بات ختم نہیں ہو جاتی یہ تو خود کو کسی کم عمر شوخ چنچل دلہن کی طرح سجائے پوری رنگینی اور حسرت کا آنچل اوڑھے بے چینی کے دروازے پر دستک دیتی ہیں جب بے چینی اس کی آہٹ محسوس کرتی ہے تو دل کے در و دیوار پر لرزش کرتی ہے زور زور سے ہاتھ

Read more

توبہِ عشق

میں تو یہ جانتی ہی نہیں کہ کیا ہو گئی میری توبہ قبول کیا ہو گئی معافی میری تو پھر۔ تو پھر کیسے ایک اور گناہ پر راضی ہو گئی کیا یہ جو آئینے میں موجود میرا عکس ہے کیا یہ بھی جواب نہیں دے گا کیوں یہ بھی تو میں ہی ہوں میں ہوں ہاں میں ہی تو ہوں خودکو جانتی ہوں سمجھتی ہوں مطلب اور کوئی تو ویسے جانتا بھی نہیں جیسے یہ عکس مجھے جانتا ہے تو

Read more

خواہشات کی غلامی

مجھے بتا اے زندگی کہ جو خواب دیکھے میں نے جو دراصل دکھائے بھی تو نے تھے اور دکھائے بھی کیا کچھ اس طرح دل و دماغ کی دیواروں پر نقوش پیوست کر دیے کہ جیسے یہ بنے ہی میرے لئے تھے اور ان پر صرف میرا ہی حق ہے۔ تو جانتی ہے اے زندگی! وہ جو تو نے خواب دکھایا تھا پہلی بار اس من چاہی گڑیا کا جس کو میں روز روز خواب میں دیکھنے سے اپنا ماننے

Read more

طلاق اور اولاد

بھائی کیا مرنے سے تمام پریشانیاں حل ہو جاتی ہیں؟ معصوم حیدر نے اپنے بڑے بھائی علی سے پوچھا نہیں میری جان ایسا تم سے کس نے کہ دیا کہ مرنے سے تمان پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں؟ بھائی وہ۔ وہ۔ وہ بولو بھی حیدر ( علی افسردگی سے پوچھا) حیدر معصومیت سے اپنی قمیض کا گھیرا اپنی انگلیوں میں لپیٹتے ہوئے بولا پھپھو نے کہا فون پر جب وہ رضیہ آپی سے کہ رہی تھیں ”یہ مرتے بھی تو

Read more

آپ بیتی لکھنا آسان اور بھگتنا مشکل ہے

ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں اور کسی حد تک سنتے بھی آ رہے ہیں کہ آپ بیتی کیا ہے چلیں میں پھر بھی بتائے دیتی ہوں جناب جو خود پر بیت رہی ہو اس کیفیت اس احساس کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ اب اس میں تو کچھ خاص نہیں آپ بیتی کیا ہے سب کو پتہ لیکن۔ معلوم ہونے میں اور حقیقتاً اس سے واقف ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہم اگر کسی کی پریشانی سنتے ہے کچھ

Read more

افسانوی ادب

کیا اس کو خبر ہوگی کہ کیسے ایک ایک لمحہ گراں گزرتا ہے اس کے بنا کیسے وقت کاٹے نہیں کٹتا میں لاکھ سمجھاتی ہوں اس نادان دل کو کہ اب نہ یاد کر وہ نہیں آئے گا وہ جا چکا دامن چھڑوا کر میرا۔ پر یہ دل بے چارہ محبت کا مارا مانتا نہیں جانتا نہیں کہ جو ایک بار دور چلا جائے لوٹ کر آیا نہیں کرتا میرا محبت کا مارا دل کہتا ہے کہ تُو تو بڑے

Read more

آخری لمحے

وہ بڑا سا کمرہ جس کی سفید دیواریں جیسے کوئی قید خانہ ہو جہاں انسان آتا اپنی مرضی سے ہے لیکن گھر جائے گا یا قبرستان یہ وہ خود بھی نہیں جانتا اس کمرے میں بڑے بڑے بیڈ جن پر بچھی سفید چادریں جیسے یاد دہانی کروا رہی ہوں کہ صفِ ماتم کبھی بھی بچھ سکتا ہے اس کمرے میں نوجوان بوڑھے بچے سب موجود ہیں کچھ صحت یاب ہو کر گھر کو روانہ ہوتے ہیں کچھ تنہا اپنی تکلیف

Read more