سایہ ڈھل گیا۔ ڈاکٹر منیر الدین احمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اطلاعات کی بھرمار کے اس دور میں ان کے انتقال کی خبر کئی مہینے بعد ملی۔ ڈنمارک میں مقیم ادیب نصر ملک نے توجہ دلائی کہ اپریل میں ڈاکٹر منیر الدین احمد کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بیگم ادتا احمد کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی کہ فون پر بات ہوئی ہے اور انتقال کی خبر درست ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ یہ خبر اتنی تاخیر سے یہاں پہنچ رہی ہے۔ منیر الدین احمد ایسے گم نام اور غیرمعروف آدمی نہیں تھے کہ اتنی خاموشی سے دنیا سے رُخصت ہو جائیں اور ان کے جاننے والوں، پڑھنے والوں کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔ وہ ایک عرصے سے جرمنی کے شہر، ہیم برگ میں مقیم تھے اور اردو کے ساتھ ساتھ جرمنی کے علمی، ادبی حلقوں میں فعال تھے۔ ادھر ایک عرصے سے ان کی طرف سے خاموشی تھی۔ اس لیے گمان تھا کہ صحت اجازت نہیں دیتی ہوگی کہ پہلے کی طرح مسلسل رابطے میں رہیں۔ مگر اب رابطے کا امکان بھی ختم ہوگیا۔

بہت پہلے کی بات معلوم ہوتی ہے۔ 80 ء کی دہائی میں کراچی کا گوئٹے انسٹی ٹیوٹ بہت فعال تھا۔ وہاں کسی تقریب میں ملاقات ہوئی، ان کا نام تو پہلے سے سن رکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جدید جرمن ادب کے بے تحاشہ ترجمےکیے۔ برتولٹ بریشت سے لے کر ایرش فریڈ تک، کتنے ہی ادیبوں کی تحریریں انہوں نے اردو میں منتقل کر ڈالیں۔ اس دور کے رسالوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، بڑی باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ ان کے ترجمے شائع ہوتے تھے۔ ان کی بدولت جرمنی کے یہ شاعر اور ادیب اس قدر نزدیک اور اپنی دسترس میں معلوم ہوتے تھے جیسے سانگھڑ اور منڈی بہاؤ الدین سے ابھرنے والے نئے غزل گو شاعر۔

شاعری کے ترجمے ضرور کرتے تھے مگر وہ خود شاعر نہیں تھے بلکہ وہ افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانے بڑی باقاعدگی سے ادبی رسالوں میں شائع ہوتے تھے اور اپنے اندر موجود کرداری مطالعے، حقیقت پسندی کے بین الاقوامی تناظر اور زبان و معاشرت کے ایک سرے پر۔ on the edge۔ واقع ہونے کے تکلیف دہ احساس کو تخلیقی تجربہ بنا دینے کی مسلسل کاوش کی وجہ سے نمایاں نظر آتے تھے۔ میں ان کے افسانے خاص طور پر شوق سے پڑھتا تھا۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے مگر اب یہ بہت پرانے بات لگتی ہے۔ شاید وہ کتابیں بھی اب دستیاب نہیں۔

ان کی ادبی زندگی کا نقطۂ کمال وہ طویل اور مفصّل آپ بیتی ہے جو انہوں نے اسی زمانے میں لکھی۔ اپنی تعلیمی اور ادبی زندگی کا آغاز اور پھر ایک نوعمر تارک وطن کے طور پر جرمنی میں قیام پذیر ہونے کے تمام واقعات انہوں نے بہت سادہ مگر پُراثر انداز میں لکھے۔ اس بات کی ذرا پروا نہیں کی کہ اس صاف گوئی سے بعض لوگ کبیدہ خاطر ہوں گے۔ ان کی یہ آپ بیتی یادگار حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ”سویرا“ میں اپنے خواب قلم بند کیے، جو ایک دل چسپ تجربہ تھا۔ خوابوں کی اپنی منطق مگر ان کی باریافت میں موجود باریک بین مشاہدہ اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات حیران کر دیتی تھیں۔

ڈاکٹر منیر الدین احمد اصل میں ادب سے پڑھ کر امور اسلامی کے ماہر تھے۔ اس شعبے سے جرمن یونیورسٹیوں سے ان کی وابستگی رہی اور ان ہی معاملات پر وہ باقاعدگی سے لکھتے تھے، خطبے دیتے تھے اور پڑھاتے تھے۔ ادب سے دل چسپی ان کی اپنی افتادِ طبع تھی۔

ان سے ایک بار رابطہ ہوا تو پھر خط و کتابت کا سلسلہ چل پڑا۔ ایک بار جرمنی کے سفر کے دوران میں ان کے گھر ہیم برگ کے ایک مضافاتی علاقے کمر فیلڈ میں بھی گیا۔ اس سفر کی یادگار ایک تصویر ہے جس کو اب میں تعجّب سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ تصویر انہوں نے خود نوشت میں بھی شامل کی۔ ڈاکٹر صاحب مجھے اس وقت بزرگ معلوم ہوتے تھے مگر ان کی عمر لگ بھگ اتنی ہوگی جتنی کہ اب میری ہو گئی ہے۔ بزرگی کیا سن و سال سے ہوتی ہے؟ ان کی عمر کی حدود کے پاس پہنچ گیا، یہ کب ہو گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ ڈاکٹر صاحب سنتے تو اس بات پر اپنے مخصوص انداز میں ایک افسانہ لکھ ڈالتے۔

پیٹر بخسل ایک اور جرمن ادیب تھے جس سے تعارف بلکہ دوستی ڈاکٹر صاحب کی بدولت ہوئی بخسل کا یہ اقتباس انہوں نے 2005 ء میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت سوانح ”ڈھلتے سائے“ کے آغاز پر درج کیا ہے :

 ”ایک غلط فہمی بہت عام ہے کہ صرف غیر معمولی انسانوں کی کہانی سنائی جا سکتی ہے یا صرف انہیں اپنی کہانی سنانے کا حق حاصل ہے۔ درحقیقت ہر زندگی کی ایک کہانی پائی جاتی ہے، بشرطیکہ انسان اس کو سنانے کی استطاعت رکھتا ہو اور اس کی تکنیک اسے آتی ہے۔ تکنیک کی ایجاد ادب کی اوّلین فرض ہے اور ادیبوں کو کہانیاں اس لیے سنانی ہوتی ہیں تاکہ مزید زندگیاں سُنائے جانے کے قابل بن سکیں۔ “

ڈاکٹر صاحب نے یہ سوانح بہت سادگی اور بڑی تفصیل کے ساتھ لکھی ہے۔ اپنی زندگی کے مختلف ادوار، مراحل، کانفرنسیں اور سفر کا احوال انہوں نے اتنی ترتیب کے ساتھ لکھا ہے کہ مجھ ایسا آدمی رشک کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے زندگی بھی اسی ترتیب کے ساتھ گزاری ہوگی۔ اس کے باوجود کتاب کے اس حصّے پر زیادہ توجّہ دی گئی جس میں انہوں نے ایک عقیدے یا فرقے کے ساتھ اپنی وابستگی اور پھر انتظامی امور پر اختلافات کا بے کم وکاست ذکر کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ غالباً ان ہی حصّوں کی بنا پر ایک نقاد نے اس کتاب کے لتّے لے ڈالے۔ میں اس کتاب کو مصنّف کے کسی فرقے یا عقیدے سے وابستہ ہونے، نہ ہونے کے معاملے سے الگ ہٹ کر کتاب کی اپنی ادبی خوبیوں کی بنیاد پر دیکھنا چاہتا ہوں اور ایسی خوبیاں اس کتاب میں کم نہیں۔

اس کتاب میں اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے وہ بڑی روانی کے ساتھ اپنے افسانوں کا حوالہ بھی شامل کر دیتے ہیں اور ان افسانوں میں چھپے ہوئے حقیقی واقعات کو اجاگر کر دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں وہ کتاب کے اختتامیے میں لکھتے ہیں:

”اس سے یہ نتیجہ نہ نکالیے گا کہ بس یہی چند افسانے ہیں جن میں سچّی کہانیاں بیان ہوئی ہیں اور دوسرے افسانوں میں حقیقت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ میں پہلے بھی کسی جگہ پر لکھ چکا ہوں کہ کوئی کہانی نہیں پائی جاتی جس میں حقیقت سرے سے موجود نہ ہو۔ البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ حقیقت عام طور سے اکثر و بیش تر سپاٹ ہوتی ہے جس کو افسانہ بنانے کے لیے بہت کچھ گھڑنا پڑتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے اپنی طرف سے اس میں افسانویت پیدا کرنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی۔ اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ نقاد اس کو ناول قرار دینے پر اصرار کریں گے۔ “

ناول معلوم ہونے کے بجائے مجھے یہ اپنی وضع کی عمدہ خود نوشت معلوم ہوتی ہے۔ بے تکلّف سادگی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ مگر اس وقت مجھے ان کے تراجم یاد آ رہے ہیں۔ اپنی خود نوشت میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ جرمن زبان سے پہلے پہل انہوں نے برٹولٹ بریشٹ کی نغموں کے ترجمے کیے، جن کو فیض احمد فیض نے سنا اور پسند کیا مگر ان کا تجویز کردہ ناشر جرمن حکومت کی مالی امداد کے بغیر کتاب شائع کرنے پر تیار نہ ہوا۔ انہوں نے نغموں کے ترجمے اس دور کے رسالوں کو بھیجے تو ان کو بہت پسند کیا گیا۔ اردو ادب کی طرف اپنی واپسی کا حال لکھتے ہوئے انہوں نے ذکر کیا کہ چند نظموں کے ترجمے کشور ناہید کو بھجوا دیے جو اس زمانے میں ”ماہ نو“ کی مدیرہ تھیں۔ کشور ناہید نے جواب میں لکھا:

 ”یہ آخر آپ چھپے ہوئے کہاں تھے؟ “

اور یہ کہ ”نہ جانے کتنے لوگ بطور تحفہ ان نطموں کو پڑھ کر لُطف لیتے رہے۔ ماہ نو اور ادب لطیف جیسے رسائل نے اس دور کی ادبی فضا بنانے میں ایسے تراجم کی مسلسل اشاعت سے کام لیا۔ اب یاد آتا ہے تو ایسا لگتا ہے وہ تراجم کا خاص دور تھا۔ سارے تراجم ظاہر ہے اچھے نہیں تھے مگر ترجمہ ایک قابل احترام ادبی کاوش بن گیا۔ کشور ناہید خود مسلسل ترجمے کرتی تھیں اور مدیرہ کے طور پر ان کا اصرار ہوتا تھا کہ سبھی ادیب ترجمہ کریں، زیادہ سے زیادہ ترجمہ کریں اور کرتے رہیں۔

 ادبی افق کو وسعت عطا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ عالمی ادب کے یہی تراجم تھے۔ منیر الدین احمد کے تراجم کی خاص بات وہ اسلوب تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔ جُملے کی سخت انہوں نے ویسی بنائی جو اصل زبان کے زیادہ قریب تھی اور اس طرح اگر ترجمہ غرابت کا شکار ہو جائے تو وہ اس کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک اصل زبان کا مفہوم زیادہ اہم تھا۔ یہ انداز اس دور کے تراجم میں بہت دیکھنے میں آتا رہا، اس دور کے پڑھنے والوں کی پیاس ایسی تھی کہ وہ ایسے تراجم کو بھی قبول کر لیتے تھے۔

اسلوب کی یہ کیفیت زندگی کو دیکھنے کا ڈھنگ بن کر ڈاکٹر صاحب کی تحریروں میں بھی داخل ہوگئی تھی۔ افسانوں کا ایک مجموعہ 90 ء کی دہائی کے آخر میں ترتیب دیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ میرے ادارے کی طرف سے شائع ہوا۔ مجھے اس کے نام پر اعتراض ہوا مگر وہ اس کو بدلنے پر تیار نہ ہوئے۔ آخر ’بنتِ حرام‘ ہی کے نام سے وہ کتاب دہلی سے شائع ہوگئی۔ ان کے افسانوں کا پانچواں (اور میرے علم کے مطابق ان کا آخری مجموعہ) ”لافانی عشق اور دوسرے افسانے“ کے نام سے 2008 ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی لکھ دیا ہے :

 ”یہ کہانیاں جرمن معاشرے کی دین ہیں، جو اتفاقی طور پر اردو زبان میں لکھی جا رہی ہیں۔ “

اس کے برملا اعلان کے باوجود یہ امر محض اتفاق نہیں ہے بلکہ اس میں مصنّف کی منشا اور تربیت کی کار فرمائی شامل ہیں۔ اس کتاب میں ایک کہانی شامل ہے، جس کی آخری سطر کچھ اس طرح ہے :

 ”پانی کے بہاؤ کے رُخ پر صرف مُردہ مچھلیاں تیرتی ہیں۔ “

اپنی زندگی میں وہ مردہ مچھلی کبھی نہیں رہے۔ پانی کے بہاؤ کے مخالف نہ تیرتے تو اور کیا کرتے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •