ہینڈسم تمہارے خاندان میں ہاتھِی کا شکار نہیں کیا جاتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جنگل میں ایک شیر اور شیرنی رہتے تھے۔ شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شیرنی اب بچوں کا خیال رکھے گی اور شیر شکار کر کے لایا کرے گا۔ کئی دن تک ایسا ہوتا رہا کہ شیر ہرن یا نیل گائے مار کر لاتا اور سب پیٹ بھر کر کھاتے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سارا دن شکار کی تلاش کے باوجود شیر کو شکار نہیں ملا۔ چلتے چلتے جنگل میں اسے ایک گیدڑ کا بچہ بھٹکتا ہوا ملا۔ شیر نے اسے دیکھا تو اسے بہت رحم آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگل میں اسے کوئی بھی مار ڈالے گا، اس لئے شیر نے اسے نرمی سے اپنے منہ میں پکڑا اور اپنی کچھار میں لے آیا۔

شیرنی نے پوچھا ”سرتاج آپ آج کھانے کے لئے کیا لائے ہیں؟ “

شیر نے جواب دیا ”مجھے آج جنگل میں اس گیدڑ کے ننھے سے بچے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اسے میں نے یہ سوچ کر نہیں مارا کہ ہمارے بچوں جیسا ننھا منا سا ہے۔ تم نے وہ کہاوت سنی ہو گی کہ ’کسی سادھو، عورت یا بچے کو نہیں مارنا چاہیے، اگر اپنی جان بھی دینا پڑے تو دو مگر ان کے اعتبار کو مت توڑو‘ ۔ اگر تم اتنی ہی بھوکی ہو تو اسے کھا جاؤ ورنہ کل تک صبر کرو میں کل کوئی شکار مار لاؤں گا“۔

شیرنی نے جواب دیا ”سرتاج، آپ نے اسے نہیں مارا تو کیا میں آپ سے کم رحم دل ہوں؟ یہ ننھا سا بچہ ہے، ہمارے بچوں سے کچھ ہی بڑا۔ ہم اسے ان کے ساتھ پالیں گے اور یہ ہمارا تیسرا بیٹا ہو گا“۔

شیرنی نے گیدڑ کے بچے کو بھی اپنے بچوں کی طرح دودھ پلانا شروع کر دیا اور کچھ ہی عرصے میں وہ خوب موٹا تازہ ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا اور تینوں بچے کچھ بڑے ہو گئے اور جنگل میں ادھر ادھر چھوٹے موٹے جانوروں کے شکار کو جانے لگے۔ شیر کے دونوں جڑواں بچے گیدڑ کے بچے کو اپنا بڑا بھائی سمجھ کر اس کی بہت عزت کرتے تھے۔

ایک دن ان کی کچھار کے قریب ایک ہاتھی آ گیا۔ شیر کے بچوں کو اتنا موٹا تازہ شکار دکھائی دیا تو وہ اس کی طرف لپکے لیکن گیدڑ کے بچے نے کہا ”بھائیو یہ ایک ہاتھی ہے، تمہاری نسل کا بہت بڑا دشمن۔ تم اس کے قریب مت جاؤ“۔ اتنے میں ہاتھی شیر کی بو پا کر چنگھاڑا تو گیدڑ دم دبا کر کچھار کی طرف بھاگا۔ شیر کے بچوں نے اپنے بڑے بھائی کو اس طرح ڈر کر بھاگتے دیکھا تو ان کی ہمت بھی جواب دے گئی اور وہ واپس پلٹ گئے۔

جب وہ دونوں کچھار میں پہنچے تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے ہاتھی کو دیکھ کر دم دبا کر بھاگ نکلنے کا قصہ خوب نمک مرچ لگا کر سنایا اور خوب ہنسے۔

گیدڑ کو بہت غصہ چڑھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور دانت باہر آ گئے۔ وہ غصیلے انداز میں شیر کے بچوں پر غرانے لگا اور اس نے انہیں خوب ڈانٹا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ مجھے بزدل کہو، میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں؟

شیرنی اسے دھکیل کر ایک طرف لے گئی اور اسے سمجھانے لگی ”تمہیں اس طرح کبھی بات نہیں کرنی چاہیے۔ وہ تمہارے بھائی ہیں“۔

لیکن گیدڑ پر اس کے سمجھانے بجھانے کا کوئی اثر نہ ہوا، اس کا غصہ بڑھتا ہی گیا ”کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ میں ان سے بہادری یا طاقت یا حسن یا علم یا ہنر میں کسی طرح کم ہوں؟ انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ میرا اس طرح مذاق اڑائیں؟ میں انہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا“۔

یہ سن کر شیرنی نے پہلے تو ضبط کیا مگر گیدڑ کا غصہ جب کسی طرح کم نہ ہوا تو اس نے نرمی سے کہا ”ہینڈسم تو تم بہت ہو، اور بہادر بھی ہو۔ تمہارا دماغ بھی ایک عالم کا سا ہے۔ لیکن میرے بچے تمہارے خاندان نے کبھی بھی ہاتھی کا شکار نہیں کیا“۔

Handsome you are, and valorous
You have a scholar’s brain
But in your family, my boy
No elephants are slain

”اب غور سے سنو میرے پیارے بچے۔ تمہاری ماں ایک گیدڑی تھی اور میں نے تمہیں اپنا دودھ پلا کر اس لئے پالا پوسا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا تھا۔ ابھی میرے بیٹے چھوٹے بچے ہیں اور انہیں یہ علم نہیں کہ تم ایک گیدڑ ہو۔ انہیں سمجھ آنے سے پہلے پہلے تم بھاگ جاؤ اور اپنے لوگوں میں جا ملو۔ ورنہ وہ تم سے لڑیں گے اور تمہیں کچا چبا جائیں گے۔ “

یہ جان کر گیدڑ کی جان ہی نکل گئی کہ وہ شیر نہیں ہے۔ وہ دبے پاؤں جنگل میں گیدڑوں کے بھٹ کی جانب چل پڑا۔

نتیجہ: اگر جنگل کے بادشاہ کی سرپرستی کی وجہ سے کسی ہینڈسم اور حسین و جمیل ہستی کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ شیر ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ شیر ہی ہو۔ جب معاملہ سر پر آن پڑتا ہے تو وہ گیدڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
قدیم ہندوستانی کلاسیک پنچ تنتر کی ایک حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1199 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar