ثقافتی اقدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز اس وقت بے شمار مسائل میں گھِرا ہوا ہے۔ معیشت کی خرابی، امن و امان کے مسائل، مذہبی رواداری کا فقدان اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت مل کر معیشت کی بحالی اور امن و امان کی بحالی کے لیے انتھک کام کر رہے ہیں اور قوی امید ہے کہ سال کے آخر تک نئے سال کے شروع تک سیاسی اور عسکری قیادت اس سلسلے میں کامیاب بھی ہو جائے گی۔ لیکن معاشرے میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی رواداری کے فقدان کے خاتمے کے لیے موجودہ سیاسی حکومت کی کوئی قابل ذکر کوشش نظر نہیں آتی۔

تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے دس سال تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتیں وفاقی میں رہی ہیں۔ ان دو حکومتوں نے بھی اس نکتے پرغور نہیں کیا آخر ہمارے سماج میں مذہبی رواداری کا فقدان کیوں ہے، ہم ثقافتی اقدار سے نابلد کیوں ہیں، فنون لطیفہ کی تمام اوصاف کو معاشرے میں قبولیت کیوں نہیں مل رہی۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمارے حکمران طبقات جن میں سیاست کار، سول اور ملٹری بیوروکریٹ شامل ہیں۔ سب کو اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی تشدد کی فضا کو کیسے روکا جائے۔

حکمران طبقات یہاں تو اس قدر بے حس ہو چکے ان کو اس بات کی پروا ہی نہیں کہ معاشرہ جس مرضی سمت کی طرف چلتا جائے۔ یہاں ان کی سمجھ سے باہر کہ عدم تعاون کی بڑھتی ہوئی فضا پر کیسے قابو پایا جائے۔ بہرحال یہ سب ایک لمحہ فکریہ ہے آخر کیسے اس عمل کو روکا جائے۔ حکومتی اور ریاستی سطح پر خاموشی کے بعد بطور معاشرہ ہمیں خود ہی کوئی کردار ادا کرنا ہوگا۔ کچھ احباب اپنے حصے کی شمع جلا رہے ہیں وہ ثقافتی تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔

خاص طور پر ایس پی او والے اس سلسلے میں بہت متحرک ہیں۔ پورے ملک میں ثقافتی اقدار کے فروغ کے لیے بھرپو رکام کر رہے ہیں۔ فنون لطیفہ کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ فنون لطیفہ کے جس قدر بھی شعبے ہیں جس میں موسیقی، رقص، سنگ تراشی، ناول، افسانہ، ڈرامہ، فلم، شاعری، مصوری، گلوکاری شامل ہیں۔ ان سب کو پرموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان اصناف کی افادیت بڑھانے کے لیے ہمیں اپنے نصاب کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کہیں بنام مذہب ان اصناف کے خلاف باتیں نصاب میں شامل تو نہیں اگر ہیں تو ان کو فوراً نکال دیا جائے تاکہ نونہالوں کے دماغوں پر ان اصناف کے حوالے غلط تاثر نہ پڑے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سماج میں فنون لطیفہ کو قابل قبول کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں لاہور برصغیر کا چوتھا بڑا فلمی مرکز تھا۔ جس میں چنائے، حیدرآباد، کولکتہ کے بعد فلمسازی کے حوالے سے لاہور کا ہی نمبر آتا تھا مگر اب یہ حال ہے کہ تمام نگارخانے ویران ہوچکے ہیں اور گوداموں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ڈرامہ انڈسٹری کراچی شفٹ ہو چکی ہے۔ تھیٹر کے نام پر ایک پھکڑپن ہے جو جاری ہے۔ سنجیدہ تھیٹر لکھنے والے ناپید ہو چکے ہیں۔

معاشرے میں فن کاروں کو غیر پارلیمانی ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ وطن عزیزمیں اس وقت کتنے ثقافتی ہیروز ہیں، کتنے شاعر، ادیب، فن کار ایسے ہیں جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے عوام کا جم غفیر اکٹھا ہو جائے جسے کسی دور میں وحید مراد ہوتے تھے، احمد فراز ہوتے تھے، اب حالات ابتر کیوں ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ مذہبی شدت پسندی ہے۔ بنام مذہب فنون لطیفہ کے خلاف اس قدر زہریلاپروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ معاشرے نے قبولیت کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔

پہلے تو بند دروازے کھلنے ہیں اور مذہبی اعتبار سے فنون لطیفہ کو قابل قبول عمل بنانا ہوگا۔ علمائے کرام سے مکالمہ کرنا ہوگا س کے بعد فنون لطیفہ کی تحرویخ کرنی ہو گی۔ ریاستی سطح پر جو ادارے ثقافتی رقصا کے فروغ پر کام کر رہے ہیں ان کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا اس کے بعد عوامی تربیت کی بات آتی ہے۔ جہاں تک ہمارے عوام میں صلاحیت کی بات ہے اس کا فقدان نہیں ہے۔ یہاں اکیڈمیاں نہیں جو ان صلاحیتوں کی تزئین و آرائش کرے۔

مذہبی شدت پسندی کے خلاف فنون لطیفہ ایک بند کا کام کر سکتاہے۔ شدت پسندوں کے مرکز کی جگہ اگر پورے ملک میں آرٹ اکیڈمیاں بنائی جائیں وہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں داخلے لیں ان کو سکرپٹ رائٹنگ، اداکاری، رقص، موسیقی کی تربیت دی جائے ان کا مائنڈ سیٹ ہی تبدیل ہو جائے گا۔ جس میں فلمی مرکز کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے جہاں ہندو، مسلمان، عیسائی ہنرمند اور فن کار کام کرتے ہیں اور کیسے ایک د وسرے کے شانہ بشانہ کھڑتے ہوتے ہیں۔ اگر عدنان سمیع خان بھارت جا کر بستا ہے تو اس کے پیچھے ایک مائنڈ سیٹ ہے وہ مائنڈ سیٹ جو موسیقی کو سرسوتی دیوی کا درجہ دیتاہے۔

اس وقت شہر لاہور میں چند ادبی تنظیمیں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ میں یہ بات وثوق سے کہنے کو تیار ہوں کہ ثقافتی اقدار کی تربیت سازی کے بعد معاشرے کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو جائے۔ والدین اپنے بچے کو ڈاکٹر انجینئر بنانے کے درپے ہیں ایسے کتنے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ ادیب بنے، فن کار بنے۔ ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے آج ہمارا سماج آلودہ ہو چکا ہے اور عدم تشدد پھیل گیا ہے، مذہبی رواداری کا قدان ہے۔

ہمیں معاشرے کی سمت تبدیل کرنے کا کام کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر اس سلسلے میں بالکل خاموشی ہے۔ وہاں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ہو رہا بلکہ خیبرپختونخواہ میں پہلے جامعہ حقانیہ کے فنڈ بڑھائے گئے اب برقع کی پابندی کی بات ہو رہی ہے۔ پنجاب میں چند سال قبل گرلز کالجوں میں مرد فوٹوگرافرکے داخلے پر پابندی لگائی گئی۔ اس سارے حالات کے تناظرمیں باہمت ہیں وہ دوست جو ثقافتی اقدار کے پھیلاؤ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •