پولیس اصلاحات :بھرتی، تبادلے اور ترقی کانظام کیسا ہوناچاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کالم میں پولیس اصلاحات کے حوالے سے چند تجاویز دی تھیں، اس لئے کہ پاکستان میں پولیس کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ اسے سیاست سے پاک کرنا۔ میرٹ پرسپاہی اورافسرکا انتخاب۔ ان کی تربیت اورترقی شامل ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ہورہی ہے۔ سپاہی کوبھرتی کرنے کے لئے ناظم، رکن قومی وصوبائی اسمبلی اورسینٹ کی سفارش درکارہوتی ہے۔ افسروں کی تعیناتی کے لئے بڑے عہدوں پر وزیراعلی، وزیراعظم کے احکامات کا انتظار کرتا ہے۔

نیچلے درجے کے افسروں کا تقرر کرنے کے لئے آئی جی پولیس، وزیراعلی کے احکامات کا منتظر ہوتا ہے۔ وزیراعلی، ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کوخوش کرنے کے لئے ان کے حلقے میں ان ہی کا آدمی لگانے کی سفارش کرتا ہے۔ سیاست، میرٹ کی خلاف ورزی، پیشہ ورانہ تربیت کی کمی اور تر قی کے لئے کوئی خاص اورجامع نظام نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کا محکمہ زوال کا شکار ہے۔ اس کالم میں ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لئے چند تجاویز پیش کرتے ہیں۔

پولیس میں سب سے اہم مسئلہ صوبائی پولیس سربراہ کے انتخاب کا ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم صوبے کو وفاقی پولیس سروس سے کسی افسرکو بھیج دیتا ہے۔ وزیراعلی بھی اسی وفاقی افسرکو آئی جی بنانے کا پابند ہوتا ہے۔ اب چونکہ پولیس صوبائی محکمہ ہے اس لئے وفاق سے پولیس میں افسروں کو بھیجنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ صوبائی پولیس افسران کا انتخاب صوبائی کمیشن کریں۔ افسروں کی ترقی کے لئے بورڈ تشکیل ہو۔

جو بھی سب سے سینئر ہو اس کو پولیس کا صوبائی سربراہ بنایا جائے۔ وزیراعلی کو قانون کے تحت پابند کیا جائے کہ وہ ہر صوبائی پولیس سربراہ کی فارغ الخدمت ہونے سے ایک مہینہ قبل نئے آئی جی کے انتخاب کے لئے سلیکشن بورڈ بنانے کا پابند ہوگا۔ اس بورڈ کو قانونی طورپرپابند کیا جائے کہ وہ تین سینئر پولیس افسران کے ناموں کو وزیراعلی کو منظوری کے لئے بھیجے گا۔ وزیراعلی قانونی طورپرپابند ہوگا کہ وہ پہلے والے آئی جی کی ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل نئے سربراہ کے تقرر کا حکم نامہ جاری کرے گا۔

آئی جی کے انتخاب کے لئے جو سلیکشن بورڈ بنائی جائے۔ اس کا سربراہ صوبے کا چیف سیکرٹری ہو۔ دیگرارکان میں سیکرٹری صوبائی محکمہ داخلہ، صوبائی سیکرٹری قانون اور آئی جی پی کو ہونا چاہیے۔ وزیراعلی کو سلیکشن بورڈ کے انتخاب کے لئے قانونی طور پر پابند کرنا چاہیے اس لئے کہ ہمارے ہاں رواج یہی ہے کہ جب اپنا بندہ مل نہیں رہا ہو تو پھر کسی اپنے بندے کوعارضی طورپر سربراہ بنا کرادارے کو چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح سلیکشن بورڈ کو بھی قانونی طور پر پابند کرنا چاہیے کہ وقت مقررہ میں تین نام وزیراعلی کو بھیجنے کے پابند ہوں گے۔

جب پولیس میں آئی جی کا انتخاب میرٹ پر ہو جائے تو پھر پورے محکمے کو ان کے حوالے کرنے کی ضرورت۔ اس لئے ضلعی افسران، تحصیل افسران اوریونین کونسل کے پولیس یونٹ میں ایس ایچ اوز کے تقرر کا اختیار ان کو ہونا چاہیے۔ پہلے قانون میں اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ افسران ایک سٹیشن میں کتنا عرصہ ملازمت کرنے کے پابند ہوں گے۔ جب یہ تعین ہوجائے تو پھرضلعی پولیس افسران کے تقرر اور تعیناتی کے لئے آئی جی کی سربراہی میں مستقل ایک سلیکشن اینڈ پروموشن بورڈ ہونا چاہیے۔

اس بورڈ کے ارکان میں دوسینئر پولیس افسران، سیکرٹری صوبائی محکمہ داخلہ اور سیکرٹری صوبائی محکمہ قانون ہونا چاہیے۔ جب بھی کوئی پولیس افسر ریٹا ئرڈ ہو۔ تو اس سے ایک مہینہ قبل یہی بورڈ قانونی طورپر پابند ہوگا کہ وہ اس کی جگہ پر دوسرے سینئر افسرکو ترقی دیگاجبکہ خالی شدہ پوسٹ پرپہلے سے موجود سینئر افسر کو تعینات کرے گا۔ اسی طرح تحصیل لیول کے افسران کی ترقیوں اورتبالوں کا اختیار بھی اسی سلیکشن اینڈپروموشن بورڈ کو دیا جائے۔

لیکن تحصیل لیول کے افسران کی ترقی اور تبالوں کے حوالے سے بھی بورڈ کو وقت کا قانونی طور پر پابند کیا جائے تاکہ اپنا بندہ نہ ملنے کی صورت میں محکمے کو اپنے بندے کے ذریعے عارضی طور پر چلانے کا دروازہ بند کیا جاسکے۔ اس طرح اس بات پر بھی قانونی طور پر پابندی ہونی چاہیے کہ جب ایک افسر کسی سٹیشن پر اپنا وقت مکمل کرتا ہے تو پھر مسلسل دوسری مرتبہ ان کو وہاں ملازمت کی اجازت نہیں ہو گی۔

پولیس افسران کے تقرر اور ترقیوں کے لئے جس طرح آئی جی کی سربراہی میں محکما نہ سلیکشن اینڈ پروموشن بو ڈہونا چاہیے۔ اسی طرح ضلع اور تحصیل میں پولیس سپاہیوں کے تقرر اور پرموشن کے لئے بھی ضلعی پولیس سربراہ کی سربراہی میں مستقل ایک سلیکشن اینڈ پروموشن بورڈ ہونا چاہیے۔ ضلعے کی ہرتحصیل پولیس چیف کو اس بورڈ کا رکن ہونا چاہیے۔ ضلع کے تمام پولیس سٹیشن میں ایس ایچ اوزاور دیگر نفری کا تقرر، تبادلے اور ان کی ترقی کا ذمہ دار اس بورڈ کوہونا چاہیے۔

اس بورڈ کو پابند کیاجائے کہ سالانہ بنیادوں پرآئی جی کے پاس رپورٹ جمع کرائے کہ ان کو ضلع میں کتنی نفری کی ضرورت ہے۔ اسی کے مطابق ہر چھ مہینے بعد ہر ضلع میں سپاہی کی بھرتی ہو۔ ان کی پولیس اکیڈمیوں میں مکمل تربیت ہو۔ جب پولیس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی میرٹ پر ہوگی۔ ان کو جدید دور کے مطابق جرائم کو قابو کرنے کی تربیت ملے گی۔ ان کو معلوم ہو گا کہ معینہ مدت کے بعد ان کو سٹیشن سے بغیر کسی سفارش کے جانا ہوگا۔

جب وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ کسی سیاسی پارٹی کی بجائے پیشہ ورانہ صلاحیت ان کی ترقی کی بنیاد ہوگی تو پھر وہ سیاست کی بجائے پیشہ ورانہ مہارت پر توجہ دے گا۔ جب اس کو معلوم ہوگا کہ تبادلے اور ترقی کے لئے وہ کسی سیاست دان یا سیاسی جماعت کا محتاج نہیں تو پھر وہ قانون کے مطابق اپنی ذمہ دار ی نبھائے گا۔ جس طرح محکمہ پولیس میں بھرتی، تبادلوں اور ترقی کے لئے صوبائی اور ضلعی سطح پر مستقل سلیکشن اینڈپروموشن بورڈز کا ہونا ضروری ہے اسی طرح پولیس میں محکمانہ طور پر جواب دہی کا بھی ایک نظام ہونا چاہیے کہ اگر تبادلے یا ترقی دیتے وقت کسی پولیس سپاہی یا افسر کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو اس کا بروقت محکمانہ طور پر ازالہ ہو۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس کی اصلاح ہو تو اس کا حل ہرگز یہ نہیں کہ اسے پولیس سروس سے آزاد کرکے بیوروکریسی کی غلامی میں دیا جائے۔ پولیس میں اصلاحات کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی کا شفاف نظام وضع کیا جائے۔ ان کے لئے جدید دور کے مطابق تربیت کا انتظام کیا جائے۔ ان کے تبادلوں اور ترقیوں کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔ پولیس سٹیشن میں ان کو تمام رہائشی سہولیات میسرہوں۔ ڈیوٹی پر لانے اور لے جانے کے لئے ان کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات دی جائیں۔ سب سے اہم کہ پولیس سپاہی اور افسر کی تربیت ان خطوط پر ہو کہ آپ قانون کے مطابق عوام کے خادم ہیں۔ ہر کسی کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •