عاشقِ کتاب (افسانہ)
میں نے دیکھا کہ یہ کام تو الٹا خراب ہوگیا ہے۔ میں تو اس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ اسے نرم کر کے کتاب لے لوں۔ لیکن یہ کام تو الٹا بدتر ہو چکا تھا۔ میرے دل میں آیا کہ معافی مانگوں۔ لیکن خالی معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بوڑھے کی آنکھیں جل رہی تھیں، جس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی۔ اس کا برا حال تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، ”مجھے پانی لے کر آنا چاہیے۔ جس سے وہ اپنی آنکھیں دھوئے اور شاید میرا گناہ معاف ہو۔ “ یہ ایک اچھا خیال تھا۔ میں دوڑا اور اپنے گھر سے، جو کہ بالکل نزدیک ہی تھا، پیتل کا ایک بڑا کٹورا پانی سے بھر کر لے آیا۔
کٹورے کو اس کے سامنے کیا اور کہا، ”مش اسد اللہ! معاف کرنا۔ میں نے غلطی سے تمہاری آنکھوں میں نمک ڈال دیا ہے۔ “ تبھی مجھے ایک مزیدار بات سوجھی اور میں نے ہنستے ہوئے کہا، ”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ الٹا تمہاری آنکھیں بہت بانمک ہوجائیں گی۔ میری خیال میں نمک کے ساتھ مرچیں بھی ملی ہوئی تھیں۔ بہرحال، یہ تمہاری اپنی بدقسمتی ہے۔ باور کرو۔ “
ابھی یہ مزیدار الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ بوڑھے نے، جھنجلاہٹ میں زور سے ہاتھ ہلایا۔ اس کا ہاتھ پانی سے بھرے کٹورے کے نیچے جا لا، جو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا۔ ضرب شدید تھی۔ اس کا ہاتھ کٹورے کو لگا، کٹورا ہوا میں اچھلا اور اس کا پانی قریب ہی پڑی ہوئی اس بوری پر گرا جس میں قند تھی۔
بوڑھا اپنی آنکھوں میں ہونے والی جلن اور تکلیف بھول گیا اور مشکل سے آنکھیں کھول کر کٹورے اور گیلی ہوچکی قند کو دیکھنے لگا۔ پیتل کا کٹورہ ابھی تک لٹو کی طرح گھوم رہا تھا، جس سے چھن چھن کی آواز آ رہی تھی۔
میں بھی گردن ٹیڑھی کرکے حق بجانب اور مہربان چہرے کے ساتھ، ایک نگاہ مش اسداللہ کی طرف اور ایک نگاہ کٹورے اور بھیگی قند کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مش اسداللہ کچھ بول نہیں رہا تھا۔ بلکہ اپنے دانت پیس رہا تھا تھا۔ لیکن دانتوں سے ’کرچ کرچ‘ کے بجائے، ہونٹوں سے ’ملچ ملچ‘ کی آواز آ رہی تھی۔ ہم دونوں کو کوئی بات نہیں سوجھ رہی تھی۔ غلطی اس کی اپنی تھی۔ بدحواسی میں عجیب طرح سے ہاتھ ہلا رہا تھا جو کٹورے کو لگ گیا۔ بندے کو چاہیے کہ ایسے موقع پر صبر اور حوصلے سے کام لے نہ کہ غصے اور جھنجھلاہٹ میں کام کو الٹا مزید بگاڑ بیٹھے۔
تو میرا دل اس کی آنکھوں اور بھیگ چکی قند کے لیے غمگین ہوا۔ جی چاہا کہ یہاں سے نکل کر بھاگ جاؤں۔ لیکن پھر اس خیال سے کہ بھاگنے کے بجائے صبر اور حوصلے سے کام لوں اور یہیں ڈٹا رہوں، تاکہ جس طرح بھی ممکن ہوسکے کتاب حاصل کر لی جائے۔ چنانچہ میں وہیں کھڑا رہا۔ اپنے منہ میں جمع شدہ تھوک کو نگلا۔ بولنے کی کوشش کی لیکن آواز میرے گلے میں ہی دب کر رہ گئی۔ پھر دوبارہ ہمت کرکے کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ کہا، ”مش اسد اللہ! شکر ہے کٹورہ چینی مٹی کا نہیں تھا۔ اگر چینی مٹی کا بنا ہوتا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہوتا۔ نہیں؟ دراصل پیتل کے کٹورے ایسے موقعوں کے لیے بنائے گئے ہوتے ہیں۔ “
مش اسد اللہ کا خون میری ضد اور خود سری کی وجہ سے کھول رہا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے من کو شانت کرنے کے لیے اور میرے سر پر دے مارنے کے لیے کوئی چیز تلاش کرنے لگا۔ ہر طرف دیکھنے کے بعد اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جو اٹھا کر مجھے ماری جا سکتی۔ شاید اسے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں مارنے سے وہ شے ہی خراب یا ٹوٹ نہ جائے۔ اِس سے پہلی شاید اُسے کبھی خیال نہیں آیا تھا کہ ایسے موقعے کے لیے ہاتھ میں چھڑی ہونی چاہیے۔
وہ دکان کی پچھلی جانب گیا کہ شاید وہاں پر کوئی ایسی چیز مل جائے۔ اگر چاہتا تو ترازو کے باٹ، جو اس کے بالکل قریب ہی تھے، اٹھا کر میرے سر پر مار سکتا تھا۔ باٹ لوہے کے تھے اور ان کے ٹوٹنے کا ڈر بھی نہیں تھا۔ لیکن یہ ایک خطرناک کام ہوتا جس سے میرا سر پھٹ سکتا تھا۔ اگر وہ باٹ پھینکتا تو پھر میرے اور اس کے لئے ایک نئی مصیبت کھڑی ہو جانی تھی۔ واقعی عجیب سمجھ دار اور رحمدل قسم کا انسان تھا۔ خلاصہ یہ کہ وہ دکان کی پچھلی جانب گیا اور میں اس انتظار میں تھا کہ اب میرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اسی دوران میں دکان کے اندر داخل ہوا اور وہی کتاب جس پر ہم میں جھگڑا ہو رہا تھا، اٹھا لی۔ مش اسد اللہ میری یہ جسارت دیکھ کر کہ میں اس کی دکان میں داخل ہو گیا ہوں، قریب آیا اور کہا، ”دکان کے اندر کیوں آئے؟ چلو باہر۔ “
کتاب میں نے اٹھا کر سینے سے لگا رکھی تھی۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا، ”مہربانی کرکے یہ کتاب ہی میرے سر پر دے مارو۔ بدحواسی میں کوئی دوسری چیز ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔ “
اُس نے بھی مجھ پر مہربانی کی۔ مجھے مارنے کے لئے کتاب میرے ہاتھ سے پکڑ لی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں مارنے سے کتاب پھٹ ہی نہ جائے اور باقی کہانی نہ پڑھ سکوں، تو میں فورا دکان سے باہر بھاگا۔ کتاب ہوا کی سی تیزی کے ساتھ میرے قریب سے گزرتی ہوئی گلی کے کونے میں موجود نالی میں جا گری۔ جس میں غلاظت اور گندہ پانی تھا۔
میں نے بیچاری کتاب کو اٹھایا، ”بہت بہت شکریہ! آپ نے مجھ بڑی مہربانی کی۔ جب کتاب پڑھ لوں گا، واپس دے جاؤں گا۔ “
میں نے پیچھے سے آواز سنی کہہ رہا تھا، ”کس عجیب جانور سے واسطہ پڑا ہے۔ میں ابھی بی بی کے پاس آکر تمہارے بارے میں بتاتا ہوں۔ “
میں اپنی دادی کو بی بی کہہ کے بلاتا تھا۔ دوسرے لوگ بھی بی بی ہی کہتے تھے۔ بی بی ایک مہربان اور رحم دل عورت تھی جس نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا تھا اور چاہتی تھی کہ میں اسے ہمیشہ خوش رکھا کروں۔ کبھی کبھی وہ سختی بھی کرتی تھی تاکہ میں کوئی غلطی نہ کر بیٹھوں۔ اگر اس نے سن لیا کہ میں نے مش اسد اللہ کو تنگ کیا ہے تو وہ میری خوب خبر لے گی۔ بی بی سے ڈانٹ پڑنے کے اسی ڈر سے میں گھر نہ گیا، بلکہ ہمارے گھروں کی پچھلی جانب موجود کھلی جگہ کی طرف چلا گیا تاکہ اس سب جنجال سے دور بیٹھ کر اطمینان سے باقی کتاب پڑھوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

