عاشقِ کتاب (افسانہ)
اس جگہ سے ایک بڑی ندی گزرتی تھی۔ ندی کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت تھے۔ ان درختوں کے درمیان قد آور جھاڑیاں اور گھاس اگا ہوا تھا۔ میں وہیں جھاڑیوں اور گھاس کے درمیان، ایک درخت کے سائے میں، ندی کے کنارے بیٹھ گیا۔ کتاب کے ساتھ لگی غلاظت کو ندی کے شفاف پانی سے دھویا۔ اس طرح صاف کیا کہ صفحے بھی زیادہ نہ بھیگیں اور نہ ہی پھٹیں۔ اس کے بعد رومال کے ساتھ، جو بی بی نے مجھے دیا تھا اور ہر وقت میری جیب میں موجود رہتا تھا، اچھی طرح سے خشک کیا۔ تب بیٹھ کر ذوق و شوق سے کتاب کو پڑھنا شروع کیا یعنی صفحہ بائیس کے بعد۔ تاکہ پتا چلے کہ وہ بچہ گھر سے نکل کر کہاں گیا اور اس کے ساتھ پھر کیا بیتی۔ لیکن میرا تیر درست جگہ پر نہ لگا، جب میں نے دیکھا کہ کتاب کے دس صفحے غائب ہیں۔
میں ایک لمحے کے لیے تو بالکل چکرا کر رہ گیا۔ دوبارہ غور کرکے دیکھا۔ ہاں، کتاب تو وہی تھی۔ لیکن اس کے کچھ صفحے مش اسداللہ نے میرے بعد پھاڑ کر اور چیزیں لپیٹ کر دوسروں کو دے دیے تھے۔ ہر ممکن کوشش کی کہ درمیان کی کہانی کو صفحہ بائیس سے صفحہ بتیس کے ساتھ ملاؤں۔ لیکن اِدھر اس بچے کی کہانی کا رخ بالکل ہی تبدیل ہو چکا تھا۔
میں اٹھا اور پھٹے ہوئے صفحوں والی کتاب بغل میں دبائی۔ سیدھا دکان کی طرف گیا۔ مش اسد اللہ قند کے ٹکڑوں کو بوری سے نکال نکال کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے ہمارے پیتل کے کٹورے کو ترازو کے قریب رکھا تھا۔ اس نے میری طرف نہیں دیکھا۔ اس کا دھیان قند کی طرف تھا۔ میں کھانسا تاکہ وہ میری طرف دیکھے۔ لیکن اس نے سنا نہیں۔ آخر میں نے زبان کو ہونٹوں پر پھر کر آواز کو بلند کرکے کہا، ”مش اسد اللہ! انشاءاللہ تمہاری قند گیلی نہ ہو کہ اُس کی وجہ سے تمہیں ہمارے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ “
میری آواز سن کر اس نے زہر آلود نگاہوں سے میری طرف دیکھا، ”تمہیں میری جان میں سے اب مزید کیا چاہیے؟ کتاب تو لے چکے ہو۔ اب جا کر اپنا کام کرو۔ “
میں نے کہا، ”کیا یہ ممکن ہے کہ مہربانی کرکے بتاؤ باقی صفحے کسے دیے ہیں؟ پیتل کا کٹورا جس میں مَیں پانی لے کر آیا تھا اور اس وقت ترازو کے پاس رکھا ہے، وہ ہمارا ہے۔ “
مش اسداللہ میں اب مزید سننے کی ہمت نہیں تھی۔ شیر کی سی تیزی سے لپکا اور میری کلائی کو زور سے پکڑ کر بولا، ”اب اور کچھ ایسا نہ کرنا کہ مجھے گھونسا مار کر تمہارے دانت توڑنے پڑ جائیں۔ آخر تم میرے سر سے ٹل کیوں نہیں رہے ہو؟ “
میں نے کہا، ”بہت اچھا۔ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے سر سے ٹل جاتا ہوں۔ اور اپنے کام اور اپنی زندگی کی طرف لوٹتا ہوں۔ یہ لو اپنی پھٹی ہوئی کتاب۔ بس اس کا نام دیکھنا چاہتا ہوں۔ “
کتاب کے نام کی طرف دیکھا، جو ہر صفحہ کے اوپر لکھا ہوا تھا اور یاد کر لیا۔ کتاب کا نام ’پہاڑوں کی طرف فرار‘ تھا۔ پیتل کا کٹورا اٹھا کر میں گھر آ گیا۔ مش اسد اللہ کے سامنے درخواست کی کہ وہ میری دادی کو اس بارے میں کچھ نہ بتائے، اگر ابھی تک نہیں بتایا تو۔ مجھے معلوم تھا کہ نہیں بتایا ہے۔ وہ صرف دھمکا رہا تھا۔ وہ دراصل رحم دل انسان تھا۔ یہ دیکھ کر کہ میں نے اسے جان بوجھ کر تنگ نہیں کیا ہے تو نرم پڑ گیا۔
بہرحال، گھر واپس پہنچا۔ لیکن میرے دماغ سے کتاب اور بقیہ کہانی کا خیال نہیں نکل رہا تھا۔ ادھوری کہانی میرے ذہن میں گھومتی رہی۔ میری حالت اس پیاسے کی سی تھی، جو ٹھنڈے، شفاف اور میٹھے پانی سے صرف اپنے ہونٹ تر کرسکا ہو۔ اور اس کی طرح جو شفاف اور شیریں پانی کو دیکھنے اور پھر چکھنے کے بعد چاہتا ہے کہ خوب سیر ہو کر پانی پیے، لیکن اس سے پہلے ہی برتن چھین لیا جائے۔ میں اس کتاب اور باقی کہانی کے بارے میں ہی سوچتا رہا۔
اگلے دن تین ’قران‘ کی رقم اپنی دادی سے لی اور کتاب کو شہر میں موجود کتابوں کی دکانوں پر تلاش کرنے نکلا۔
”سلام آغا! آپ کے پاس کتاب ’پہاڑوں کی طرف فرار‘ ہے؟ “
”نہیں ہے۔ “
”سلام آغا! کیا آپ کے پاس کتاب ’پہاڑوں کی طرف فرار‘ ہے؟ “
”دیکھ کر بتاتا ہوں۔ شاید ہو۔ “
دکان میں ہر طرف موجود کتابوں اور ریکوں میں موجود انبار پر نظر ڈالنے کے بعد کہا، ”نہیں، ہمارے ہاں نہیں ہے۔ “
ہمارے شہر میں لائبریری نہیں تھی۔ صرف تین چار کتابوں کی دکانیں تھیں۔ بچوں کی کتابیں نہیں تھیں۔ کتاب ’پہاڑوں کی طرف فرار‘ بہت ڈھونڈی، نہ ملی۔ لیکن اس دوران بار بار دکانوں کے چکر لگا لگا کر، کتابیں دیکھ دیکھ کر اور دکانداروں سے بار بار پوچھنے کی وجہ سے، میری کتابوں سے واقفیت ہوتی گئی۔ جی چاہتا تھا کہ دنیا کی تمام کتابیں پڑھ ڈالوں۔ لیکن خریدنے کے لئے پیسے کہاں تھے؟ میرے پاس صرف کتابوں کو کرایہ پر لے کر پڑھنے کے ہی پیسے تھے۔
پھر اس کے بعد رات کا ’دس شاہی‘ کرایہ دیتا تھا، جبکہ ایک تومان، کتاب فروش کے پاس گروی رکھا ہوا تھا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی بھی میرا جی چاہتا ہے کہ کہانی کی وہی کتاب یعنی ’پہاڑوں کی طرف فرار‘ کہیں سے تلاش کر کے پڑھوں۔ چند بار خود بھی کوشش کی ہے کہ بچے کے گھر سے بھاگنے کے بعد کی بقیہ کہانی کو خود لکھ کر دیکھوں کہ آخر اس بچے کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار میرا لکھا ہوا مجھے پسند نہیں آیا۔ اسی دوران میں نے دوسری کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ میں چیزوں کو غور سے دیکھتا، لکھتا اور لکھتا اور۔

