مسلط جمہوریت اور تختوں کا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت کی تعریفوں سے بھرپورگردان ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں۔ ہم نے اِس کی برائیاں بھی بہت سُنی ہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں میں تو یہ سخت مکروہ تصور ہوتی ہے۔ کسی کسی ملک میں حرام بھی ہے۔ بعض لوگ اس کو دَجال کا نظام بھی کہتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کی اچھی بھلی مصیبت یہ ہے کہ جمہوریت کا نام لے تو اپنے مقتدر حلقوں کا ڈنڈا، نہ لے تو بیرونی طاقتوں سے پھینٹی اور پابندیاں۔ قسمت کا مارا غریب آدمی جائے تو جائے کہاں؟

حالانکہ اس غریب کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ شاخ پہ اُلو ایک ہے یا دو چار سو۔ اس کو تو دو وقت کی پیٹ بھر کے روٹی، بنیادی تعلیم، صحت، امن اور انصاف کی ضرورت ہے۔ علامہ جارج آر ٓارمارٹن نے اپنی فحش کتابوں ”نغمہء آتش و ثَلج“ میں کچھ اسی قسم کی بات بیان فرمائی ہے۔ لیکن جمہوریت کا یہ گیت ہے کہ سانپ کے منہ کی چھچھوندر بن چکا ہے۔

ارسطو، سقراط اور افلاطون سے لے کر آج تک بہت بڑے بڑے لوگوں نے اس طرزِ حکمرانی پر بہت غور و فکر کیا ہے۔ میں عالمِ دین نہیں کہ مسئلہ دجال پر خاطر خواہ گفتگوکرسکوں لیکن گزشتہ 70 برس میں اپنے یہاں اور دنیا بھر کے مختلف حکمرانوں پر غور کرتا ہوں تو بہت سے فرعون، نمرود اور دجال نظر آتے ہیں۔ میراایک شریر دوست ہمارے ایک ماضی کے حکمران جو کہ ایک امریکی صدر کے یارِخاص تھے کو ازراہِ تفنن ”دجال کا بھتیجا“ کہاکرتا تھا۔ ایک سکول میں استاد ہوا کرتے تھے جو عالمانہ شفقت اس طرح جتاتے تھے کہ ”بہت شریر ہو تم! دجال کہیں کے“۔

بعض دانشوروں کے نزدیک جمہوریت کی ”منحوس“ پیدائش تیرہویں صدی کے اوائل میں اس وقت ہوئی جب برطانیہ کے بادشاہ جان کے خلاف بغاوت ہوئی جس کا اختتام میگنا کارٹہ پر ہوا۔ یاد رہے کہ اس جان کا اُس جان سُنو سے کوئی تعلق نہیں جو آٹھ سال ہم سب کو بے وقوف بناتا رہا۔ ایسانہیں ہے کہ ایک ہی دن میں جمہوریت اپنی مکمل شکل میں نازل ہو گئی۔ یہ کئی صدیوں، کئی ممالک اور کئی طبقوں کی جدوجہد کے بعد اپنی موجودہ ”دجالیت“ تک پہنچی ہے۔ ان میں خاص الخاص ممالک برطانیہ، فرانس اور امریکہ ہیں جبکہ عمومی طور پر کُل یورپ اور بالخصوص مغربی یورپ کے حالات پیش پیش رہے۔

پچھلی صدی میں بیرنگٹن مور نام کے ایک بڑے محقق گزرے ہیں جنہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”جمہوریت اور آمریت کی سماجی ابتدا“ میں تاریخ میں تین انقلابات کو اور تین طبقوں کے باہمی تعلق کو خاص طور پر جمہوریت کی پیدائش میں اہم جانا ہے۔ ان انقلابات میں سترہویں صدی میں ہونے والی برطانیہ کی خانہ جنگی اور مارشل لاء، اٹھارہویں صدی میں فرانس کا انقلاب اور انیسویں صدی میں امریکی خانہ جنگی شامل ہیں۔ جبکہ تین طبقات میں جاگیردار، طبقہ متوسطہ یا مڈل کلاس، اور کسان ہیں۔ لیکن دراصل معاملہ اس سے کہیں پیچیدہ ہے اتنا سادہ نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے تاریخ پر ایک طویل نشست چاہیے۔

یہ تصور عام ہے کہ جمہوریت دولت اور معاشی استحصال کا کھیل ہے شاید اسی لئے اس کو دجال کا نظام کہا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک صدی کی سیاسیات اور سماجیات کی تحقیق کارل مارکس کے اس تصور کی نفی کرتی ہے کہ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کاسیاسی لبادہ ہے۔ تحقیق اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ مستقل معاشی ترقی اور سرمایہ دارانہ نظام کا فروغ جمہوریت کا باعث بنتے ہیں۔ معاشی ترقی جمہوریت کو جنم نہیں دے سکتی، ہاں اگر جمہوریت نافذ ہو تو معاشی ترقی اس کی بقاء کا باعث ضرور بن سکتی ہے۔

تحقیق یہ بات بھی ثابت کرتی ہے کہ آمرانہ طرزِ حکومت میں معاشی ترقی زیادہ تیز رفتاری سے ممکن ہے۔ چین ایک زندہ مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اس کی معاشی ترقی نے جمہوریت کو جنم نہیں دیا۔ اور جمہوریت کے بغیر بھی وہ آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکاہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں انفرادی حقوق اور آزادی کا کیا حال ہے۔ ویسے بھی چین تو اپنا یار ہے۔ بہرحال مغربی طرزِجمہوریت انفرادیت اور عوام کے اقتدار کے تصور کو فروغ دیتی ہے۔ اہلِ مغرب کا اصرار ہے کہ مغربی طرز ہی واحد صحیح اور جائز نظامِ حکومت ہے۔ جب کہ کئی ملکوں اور گروہوں کو اس سے اختلاف ہے۔ اور یہ بات باعثِ نزع ہے۔ لاکھوں لوگ اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

درحقیقت جمہوریت ہو یا آمریت یا کوئی اور طرزِ حکومت دراصل کامیاب صرف اسی وقت ہوتے ہیں جب کوئی نظام معاشرے کے اندر آزادانہ طور پر ازخود جڑیں پکڑ کر فروغ پاتا ہے۔ نظام کو اچھا یا برا نظام بنانے والے بناتے ہیں۔ نظام کے نام یا حکمرانوں کی تعداد سے عام آدمی کو کئی فرق نہیں پڑتا نہ ہی عام آدمی اس طبقہ اشرافیہ میں شامل ہو پاتا ہے جو حکومت کرتا ہے۔ فیضؔ کے شعر کتابوں اور جلسوں میں اچھے لگتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی سب دیکھتا ہی ہے اسے ملتا کچھ نہیں۔

جب تک کسی بھی نظام کے اندر اس کو نافذ کرنے والے عام آدمی کے تحفظ، اس کی فلاح اور اس کے لئے انصاف کو یقینی نہیں بناتے کسی بھی حکمران یا حکومتی نظام کی جڑیں عوام میں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ قانون کو قانون نافذ کرنے والے جب تک ایمانداری اور غیرجانبداری سے نافذ نہ کریں وہ محظ ایک قانون کی کتاب ہے جو کسی قانون دان کی طاق پہ رکھی ہے۔

جمہوریت کی طرح جب بھی کسی نظام کو چاہے وہ بظاہر کتنا ہی خوبصورت اور بلند بانگ دعوے کرتا ہو، زور زبردستی، دھونس دھڑلے، دھمکی، دھاندلی اور بندوق کے سہارے مسلط کیا جائے گا اس سے خرابی اور ہیجان پیدا ہوگا۔ اور ہیجان صرف ایسے طبقوں کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے جو عوام کے تحفظ کے نام پر ان کے حقوق پر ڈاکے ڈالا کرتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نظام کے لئے دھونس دھمکی باہر سے آرہی ہے یا اپنی ہی بندوق کے دہانے پر آپ نے لوکل طور پر اس کی کوئی سستی اور انجنیرڈ کاپی تیار کی ہے۔

یہ فیصلہ عوام ہی کریں تو بہتر ہے کہ اس کو شاخ پہ کتنے الو چاہیے ہیں۔ جب تک عوام اس کے اوپر متفق اور مطمئن نہیں ہوں گے اس وقت تک سلیکٹر، سلیکٹڈ اور نان سلیکٹڈ کے درمیان بقولِ علامہ جارج آر آر مارٹن یہ تختوں کا کھیل جاری رہے گا اور ہیجان کی یہ کیفیت مستقل طور پر طاری رہے گی۔ نہ انصاف ہو گا نہ ترقی، نامِ حکومت کتنا مقدس ہی کیوں نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلال خان، امریکہ کی دیگر تحریریں
بلال خان، امریکہ کی دیگر تحریریں