فزکس نوبل انعام 2019 ء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امسال سائنس کا سب سے اعلٰی انعام یعنی نوبل انعام دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نوبل انعام کی کل مالیت نو ملین سویڈش کرونہ ہے جو کہ پاکستانی کرنسی کے مطابق چودہ کروڑ ستائیس لاکھ بیالیس ہزار چھ صد ایک روپے بنتی ہے۔ اس کا آدھا حصہ کاسمولوجی یعنی علم الکونیات کے شعبہ میں دیا گیا جسے کینیڈین سائنسدا ن جیمز پیبلز (James Peebles) نے وصول کیا۔ جیمز پیبلز کی پیدائش کینیڈا میں 1935 ء میں ہوئی۔ 1962 ء میں انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آج کل اسی ادارے میں البرٹ آئن سٹائن پروفیسر آف سائنس کے عہدے پر قائم ہیں۔

انعام کا دوسرا حصہ علم فلکیات کے شعبہ میں دیا گیا جسے مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی کل انعام کا ایک چوتھائی سوئس سائنسدان مائیکل میئر (Michel Mayor) کو دیا گیا۔ مائیکل میئر کی پیدائش 1942 ء میں سویٹزرلینڈ میں ہوئی۔ 1971 ء میں جنیوا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور وہیں پروفیسر کے عہدے پر قائم ہیں۔ انعام کا بقیہ چوتھائی دیدئر کیلوز (Didier Queloz) نامی سوئس ماہرفلکیات کو دیا گیا۔ کیلوز 1966 ء میں سویٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔ جنیوا یونیورسٹی سے 1995 ء میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ وہ آج کل کیونڈش لیب کیمبرج اور جنیوا یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ آئیے علم الکونیات اور علم فلکیات کا مختصر تعارف اور موجودہ نوبل انعام یافتہ احباب کی تحقیق پر روشنی ڈالتے ہیں۔

علم الکونیات فزکس کی وہ شاخ ہے جس میں کائنات کے مبداء و معاد اور بڑے پیمانے پر اس کی ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ سائنس کی دیگر شاخوں کی طرح علم الکونیات بھی دو حصوں میں منقسم ہے یعنی ایک نظری اور دوسری تجرباتی کاسمولوجی۔ نظری کاسمولوجی میں ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے کائنات کے بارے معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ گزشتہ صدی کے دوسرے نصف میں علم الکونیات کافی اہمیت اختیار کرتا گیا۔ اس کی بڑی وجہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت تھا جس کی مدد سے ہم بڑے پیمانے کی کائنات کے بارے نظری پیش گوئی کر سکتے ہیں۔

تجرباتی کاسمولوجی میں کائنات کا مشاہدہ جدید آلات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کل کائنات کا مشاہدہ بلاواسطہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ بالواسطہ ہی کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر یہ واسطہ روشنی کی شعائیں ہیں جو دور دراز کے زمان و مکاں سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ روشنی کی ماہیت کے متعلق جو تجربات ہم اپنی تجربہ گاہ میں ترتیب دیتے ہیں ان کی مدد سے ہم کائنات میں موجود ہر طرح کی شعاؤں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان شعاؤں سے ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرنے کی مدد کرتے ہیں جو کہ علم الکونیات کا موضوع ہیں۔

بگ بینگ نظریہ کے حوالے سے نظری جواز آئن سٹائن نے پیش کیا۔ جب کلارک میکسول (Clerk Maxwell) نے اپنی مشہور زمانہ مساواتوں کے ذریعے ثابت کیا کہ روشنی دراصل برقی مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہے جن کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے تو یہ نتیجہ سائنس کی دنیا میں ایک انقلابی قدم کے طور پر سامنے آیا۔ اس کی بنیاد پر ریڈیائی لہریں، خرد موجی لہریں اور ایکسرے سمیت دیگر کئی اہم ایجادات کی تفہیم ہوئی جن کی مدد سے طب، فلکیات کمیونکیشن سمیت بہت سے شعبوں میں ترقی ہوئی۔

آئن سٹائن نے دیکھا کہ میکسول کی مساواتوں کو اگر نیوٹن یا گلیلیو کی میکانیات کے اصولوں سے دیکھا جائے تو یہ مساواتیں درست (Invariant) معلوم نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ہمیں ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جس کے ذریعے میکسول کی مساوات بنیادی میکانیات کے ریاضیاتی اصولو ں کے مطابق درست رہیں۔ یہ نیا فریم ورک لارنٹز کے اصول تبادلہ (Lorentz Transformations) تھے جن کو بعد ازاں نظریہ خصوصی اضافیت میں استعمال کیا گیا۔ اس نظریہ میں کائنات منکوسکی (Minkowski) کے ایک چہار ابعادی سلسلہ نقاط سے تعبیر ہوتی ہے جس میں زمان و مکاں باہم مربوط ہو کر ایک اکائی بن جاتے ہیں۔ یعنی زمان اور مکاں ایک مطلق شے نہیں جن کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہ ہو۔

اسی نظریہ کی بنیاد پر اگر نیوٹن کے نظریہ کشش ثقل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی کچھ مسائل پیش آتے ہیں۔ اور گریوٹی کے لئے بھی نظریہ اضافیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کا نتیجہ ریمان کے علم الہندسہ (Riemannian Geometry) کی ضرورت کی شکل میں پیش آیا جس میں کشش ثقل زمان و مکاں کے واقعات کا ہی ایک مظہر بن کر سامنے آتی ہے۔ اسے عمومی نظریہ اضافیت کہتے ہیں۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر آئن سٹائن ایک اپنی مساوات پیش کیں جن کے مطابق زمان ومکاں میں ایک طرح کا پھیلاؤ پایا جاتا ہے۔

یہی پھیلاؤ اگر الٹ سمت میں دیکھا جائے تو کائنات ایک نقطہ آغاز پر مرتکز ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ اس نقطہ آغاز کو ہم بگ بینگ کا نام دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آئن سٹائن خود بھی اس نقطہ آغاز سے کائنات کے پھیلاؤ کا قائل نہ ہوسکا اور اپنی مساوات کو تبدیل کر دیا تاکہ ایک جامد اور ناقابل تغیرکائنات کو نقشہ پیش کر سکے۔ جبکہ ایک روسی سائنسدان فرائیڈمین (Friedmann) نے 1922 ء میں آئن سٹائن ہی کے نظریہ اضافیت کی بنیاد پر بگ بینگ کی مساواتوں کو اخذ کیا۔

اسی قسم کا کام بیلجیم کے ایک پادری جارج لی میترے (George Lemaitre) نے 1927 ء میں پیش کیا۔ یہ سارا معاملہ نظری طبیعات کے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جا رہا تھا۔ لیکن یہ صورتحال 1929 ء میں ایڈون ہبل (Edwin Hubble) کی دریافت سے یکسر تبدیل ہوگئی اور آئن سٹائن کو اپنی پہلی مساوات بحال کرنا پڑی کیونکہ کائنات واقعی پھیل رہی تھی اور بگ بینگ کے حق میں شہادتیں موصول ہورہی تھی۔

بیسویں صدی کے نصف تک سائنسدان مختلف طریقوں سے کائنات کیے ارتقاء کے حوالے سے شواہد اکٹھے کر رہے تھے۔ مثلاٗٗ 1948 ء میں جارج گیموو (George Gamow) نے عناصر کے ماخذ تلاش کرتے ہوئے حجت پیش کی کہ کائنات میں موجود مختلف ستاروں سیاروں کی صورت پذیری کے لئے لازم ہے کہ شعاؤں اور مادے کی کثافتیں برابر مقدار میں ہوں اور ایسا ہونے کے لئے چند ہزار ڈگری کا درجہ حرارت درکار ہوگا۔ بگ بینگ کے حق میں مزید ٹھوس شہادت 1965 ء میں آرنوپینزیاس (Arno Penzias) اور رابرٹ ولسن (Robert Wilson) کی دریافت کی شکل میں سامنے آئی۔

انہوں نے دیکھا کہ بیل لیبارٹری کے اینٹینا میں کچھ ایسی لہریں موصول ہو رہی ہیں جو اس وقت تک کی تمام لہروں سے مختلف ہیں۔ اور یہ لہریں ہر سمت میں برابر مقدار میں موجود ہیں۔ ان لہروں یا شعاؤں کا ماخذ معلوم کرنے کے لئے ان دونوں سائنسدانوں نے نظری کونیات کی طرف رجوع کیا۔ اور یہی وہ وقت ہے کہ جب جیمز پیبلز نے اپنی مساواتوں میں ایسی شعاؤں کی پیش گوئی کر رکھی تھی کہ جن کا درجہ حرارت دس ہزار کیلون تک ہوگا اور وہ یہی شعاعیں تھیں۔ یوں یہ ایک انتہائی اہم دریافت تھی کہ جس میں نظریہ اور تجربہ بعینہ ایک نتیجے پر پہنچے تھے۔

پیبلز کے مطابق یہ شعائیں بگ بینگ کے بعد پیدا ہوئیں اور آج ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بگ بینگ کے وقت ہی کائنات میں بھاری اور ہلکے عناصر پیدا ہوئے ہو ں گے۔ پیبلز اور دیگر نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔ پہلے پہل صرف ہلکے اور سادہ عناصر جیسے ہائیڈروجن یا ہیلیم وغیرہ پیدا ہوئے جو بعد ازاں کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہونے والی درجہ حرارت کی کمی سے ملکر بھاری عناصر میں تبدیل ہوتے رہے۔

بگ بینگ کے بعد ہیلیم کی مقدار کا درجہ حرارت اور مادی کثافت سے پتا چلایا جاسکتا ہے۔ اگر بگ بینگ کا واقعہ کوئی 14 کھرب سال پہلے واقع ہوا ہو اور اس وقت کی شعاؤں کا درجہ حرارت معلوم ہو تو آج یہ شعاعیں ٹھنڈی ہو کر منفی 271 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکی ہوں گی۔ دراصل یہ شعاعیں روشنی کے ذرات ہیں جنہیں فوٹان کہتے ہیں۔ یہ فوٹان بگ بینگ کے وقت پیدا ہوئے لیکن 380000 سال تک ایک دوسرے سے ہی ٹکراتے رہے حتٰی کہ کائنات کے پھیلاؤ سے کچھ توانائی اکٹھ جوڑ کر کے مادے یعنی پرٹان الیکٹران سے ایٹموں میں منتقل ہوئی تو فوٹان آزاد ہوئے اور زمان و مکاں میں سفر کرتے ہم تک پہنچے۔

لیکن شعاؤں کا یہ منظر نامہ مکمل طور پر یکساں درجہ حرارت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک حصے کے لاکھویں جزو میں درجہ حرارت اپنی کیفیت تبدیل کرتا محسوس ہوتا ہے۔ درجہ حرارت کی اس تبدیلی کا ماخذ کوانٹم لہروں کا اتار چڑھاؤ تھاجو بعد میں کائنات میں کہکشاؤں اور ستاروں سیاروں کے بننے کا موجب قرار پایا۔ اہم بات یہ ہے کہ ان شعاؤں کی دریافت 13 مئی 1965 ء کو ہوئی جبکہ پیبلز نے ان شعاؤں کے بارے پیش گوئی 8 مارچ 1965 ء کو کردی تھی۔

یوں امسال کے نوبل پرائز میں ان کی اس دریافت سے پھوٹنے والی فزکس کی شاخ یعنی فزیکل کاسمولوجی کو اہم تحقیق قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بگ بینگ کے وقت جس قدر توانائی موجود تھی اس کا صرف 4 فیصد حصہ ان عناصر کی شکل میں سامنے آیا ہے جن سے تمام نظر آنے والی کہکشائیں اور ستارے سیارے قائم ہیں۔ بقیہ 95 فیصد توانائی کے بارے میں ابھی تک کوئی خاص معلومات نہیں ہیں۔ تجربات کی روشنی میں اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ 23 فیصد مادہ ہے جو کہکشاؤں میں موجود ہے لیکن وہ ان عناصر سے نہیں بنا جنہیں ہم مینڈلیف کے جدول میں پاتے ہیں۔ اسی طرح 73 فیصد وہ توانائی ہے جو کائناتی پھیلاؤ میں اسراع کا باعث بن رہی ہے۔

نوبل انعام کا دوسرا حصہ علم فلکیات میں نئے سیاروں کی دریافت پر دیا گیا ہے۔ بگ بینگ کے بعد جیسے جیسے کائنات پھیلی اور ٹھنڈی ہوتی گئی، اس میں پیدا ہونے والا فیصد مادہ اکٹھ جوڑ کرتے ہوئے مختلف ستاروں کی شکل میں نمودار ہوا جن میں ایک ہمارا سورج بھی ہے۔ ہمارے سورج کے گرد کچھ سیارے مداروں میں حرکت کرنے لگے جن میں سے ایک زمین ہے۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک ہمیں یہی معلوم تھا کہ آسمان میں سورج چاند ستارے پائے جاتے ہیں۔

لیکن بعد ازاں دوربین کی ایجاد اور برقی مقناطیسی لہروں کی دریافت نے دکھایا کہ دراصل لاکھوں ستارے مل کر ایک کہکشاں بناتے ہیں اور ایسی بے بہا کہکشائیں کائنات میں پائی جاتی ہیں۔ ہماری کہکشاں کو ملکی وے یعنی دودھیا کہکشاں کہتے ہیں۔ ماہرین فلکیات نئے ستاروں اور سیاروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ نظام شمسی کی طرح مزید ایسے نظام دریافت ہوئے ہیں جن میں کچھ سیارے ایک بڑے ستارے کے گرد مداروں میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔

مائیکل مئیر اور دیدئیرکیلوز نے فلورنس میں منعقدہ ایک کانفرس بتاریخ 6 اکتوبر 1995 ء کو اپنی اہم دریافت کا انکشاف کیا جس کے مطابق زمین سے 50 نوری سال (ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے ) کے فاصلے پر ایک سورج نما ستارے پیگاسی کے گرد ایک بڑے حجم کا سیارہ گردش کر رہا ہے جس کا نام پیگاسی بی رکھا گیا۔ یہ چار دنوں میں اپنا مدار پورا کرتا ہے۔ زمین سورج سے ڈیڑھ ارب کلومیٹر دور ہے جب کہ یہ نیا سیارہ اپنے سورج سے محض 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا دورجہ حرارت 1000 ڈگری تک چلا جاتا ہے۔

یہ نیا سیارہ جسامت کے اعتبار سے ہمارے مشتری جتنا گیس کا ایک گولہ ہے۔ مشتری سورج سے دور ہے لہذا یہ کہا جاتا تھا کہ نظام شمسی میں بھاری سیارے سورج سے دور ہوتے ہیں لیکن یہ نیا سیارہ اپنے سورج سے بہت نزدیک تھا۔ اس مسئلے نے سیاروں کے بننے کے عمل کی تفہیم کو یکسر تبدیل کر دیا۔ یعنی اب یہ کہا گیا کہ بڑے حجم کے یہ گیسی گولے دراصل مرکزی سورج سے علیحدہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سورج سے پرے بنتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے مرکز کی طرف گھستے ہوئے اپنا مدار مرکز کے قریب بناتے ہیں۔

نئے سیاروں کی دریافت ایک خاص طریقہ کار سے کی جاتی ہے۔ سیارے چونکہ اپنے مرکزی ستارے کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں جیسے سامنے سے آتی گاڑی کی تیز روشنی میں اردگرد کی اشیاء نظروں سے اوجھل ہونے لگتی ہیں لہذا ان کو براہ راست دیکھنا انتہائی مشکل ہے۔ اس کے لئے دو طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی طرح مرکزی ستارے کی روشنی کا راستہ روکا جائے۔ جیسے کہ ہم سامنے کی گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو ہاتھوں سے روک کر اردگرد کو دیکھ لیتے ہیں۔

ایسے ہی فضا میں کسی سیٹلائٹ کی مدد سے اس مرکزی ستارے کی روشنی کو روکا جائے۔ یہ بہرحال ایک مہنگا اور پیچیدہ طریقہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ سادہ اور آسان ہے۔ وہ یہ کہ کشش ثقل ہمیشہ دو اشیاء کے درمیان باہمی قوت کا کام کرتی ہے۔ یعنی جیسے مرکزی ستارہ اپنے سیاروں پر قوت لگاتا اور ان کے راستے متعین کرتا ہے بعینہ سیارہ بھی مرکزی ستارے پر قوت لگاتا ہے جو اگرچہ کم مقدار میں ہوتی ہیں لیکن اس کی وجہ سے مرکزی ستارے میں آگے پیچھے ارتعاش ہوتا ہے جس کا اثر ہم ستارے سے آنے والی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب ستارہ آگے ہوتا ہے تو اس کی روشنی نیلی جبکہ دور جانے پر یہ سرخی مائل ہونے لگتی ہے۔

روشنی کی اس تبدیلی کا تعلق ستارے کی حرکت سے ہے جسے ہم ڈاپلر کی مساوات (Doppler Relation) سے معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں اصل چیلنج ایسی دوربین اور آلات ترتیب دینا ہے جو انتہائی خفیف تبدیلی کو بھی محسوس کرسکے۔ روشنی کی یہ معلومات کو پراسیس کرنے لئے جدید کمپیوٹر اور تکنیکی آلات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 1994 ء تک یہ تکنیکی آلات اس قابل ہو چکے تھے کہ 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتے اجسام کو بھی محسوس کر سکیں اور یوں دیدئیر اور مئیر اس قابل ہوسکے کہ وہ نئے سیارے کی دریافت کا علان کردیں۔ بعد ازاں اس شعبہ میں مزید ترقی ہوئی او ر 4000 کے قریب ایسے سیارے دریافت ہوگئے جس سے علم فلکیات میں ایک اہم انقلاب ممکن ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ نظام شمسی جیسے ان دیگر سیاروں میں کسی جگہ حیات کے آثار سامنے آجائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی شہباز کی دیگر تحریریں
محمد علی شہباز کی دیگر تحریریں