نئی ٹیم مینجمنٹ، پرانا کپتان اور سری لنکا سے ہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی ٹیم کی کارکردگی 2019 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں بری نہیں تھی۔ ہمارے میچ میں بارش کی وجہ سے بدقسمتی سے ہم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکے۔ مگر ہماری کرکٹ کی روایات کے مطابق ہر ورلڈ کپ کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور کپتان وغیرہ کو تبدیل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ سکندر بخت، شعیب اختر، اور محمد یوسف جیسے تجزیہ کار ہر دور میں رہتے ہیں۔ جن کو سن کے یہی لگتا کہ کوچ اور کپتان کو تبدیل کرنے سے ٹیم نمبر ون بن جائے گی۔ جب کہ عوام بھی مطمئن ہو جاتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو مکی ارتھر کا دور اچھا رہا ہے، کیوں کہ اس نے سب سے پہلے 2016 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی بری ترین پرفارمنس کے بعد شاہد آفریدی سے ٹیم کی جان چھڑائی۔ جو ابھی بھی کھیلنا چاہ رہا تھا اور فٹنس اور پرفارمنس لیول زیرو تھا۔ اور پھر آفریدی فیر ویل میچ کے لیے روتا رہا، جیسے کرکٹ آفریدی کے گھر کی کھیل ہے۔ اس کے بعد مکی آرتھر نے فٹنس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور احمد شہزاد جیسے فلاپ ایکٹر اور ٹیلنٹڈ عمر اکمل سے بھی یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ یہ دونوں بس ڈومیسٹک میٹیریل ہیں۔ یہ بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے کبھی چیمپئن ٹرافی نہیں جیتی تھی۔ جبکہ چیمپئن ٹرافی 1998 سے پہلی بار شروع ہوئی جب ہماری ٹیم کو بہت بہتر سمجھا جاتا تھا۔ یہ جو باہر بیٹھ کر فضول بولتے رہتے ہیں محمد یوسف، شعیب اختر وغیرہ جیسے جو چار، پانچ بار چیمپن ٹرافی میں کھیلنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور ایک بار بھی جتوا نہیں سکے۔ اب ان سے ٹیم کی جیت ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان لوگوں کی وجہ سے انضمام الحق صاحب کو سلیکٹر لگا دیا اور تب سے ٹیم نیچیے جانا شروع ہو گئی۔ جنہوں نے اقربا پروری کو فروغ دیا اور اظہر علی جیسے بیٹسمین کو ایک روزہ کرکٹ سے فارغ کر دیا۔ اور پھر ایشیا کپ میں گھٹیا ٹیم سلیکشن کر کے ایشیا کپ جو متحدہ عرب عمارات میں ہمارے کرائے کے گھر میں ہو رہا تھا وہ بھی ہروایا۔

ٹھیک ہے اگر آپ نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم تبدیل کرنی ہی تھی تو ورلڈکپ ایک روزہ تھا۔ پھر ٹی ٹوینٹی ٹیم میں تبدیلیاں کیوں کی؟ جس میں ہم ایک نمبر ایک پر ہیں دو تین سال سے اور شعیب ملک اور محمد حفیظ کا بھی کردار ہے جبکہ ان کو ایک روزہ ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹوینٹی ٹیم سے بھی نکال دیا۔ مصباح الحق کو ایک ساتھ تین تین عہدے دے دیے ہیں۔ سری لنکا جیسی ٹیم سے اپنے ہوم گراونڈ میں ٹی ٹوینٹی میں وائٹ واش ہونے کے بعد سرفراز کی ٹیم میں جگہ پر سوالیہ نشان بنتے ہیں۔

ہمارے تینوں فارمیٹ کے کپتان سرفراز احمد صاحب جن کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی وہ بغیر کسی پرفارمنس کے دو، تین سال سے مسلسل ٹیم میں کھیل رہے ہیں۔ ان کو نا صرف کپتانی سے ہٹانا بنتا بلکہ ٹیم سے بھی نکالنا بنتا۔ مصباح الحق جیسا ڈرپوک بندہ جو اپنے ایک روزہ کیریر میں کبھی سینچری نہیں بنا سکا۔ انتہائی بزدل کپتان رہا ہے، اس کے دور میں ہم ایک روزہ کرکٹ میں ساتویں نمبر، ٹی ٹوینٹی میں چھٹے اور ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھے نمبر پر آ گئے تھے۔ اس کو چیف سلیکٹر اور کوچ بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔

خیر جو بھی ہے۔ اب اس نئی ٹیم مینجمنٹ کو اور کوچز کو رکھ ہی لیا ہے تو ان کو اب پورا چانس دیں۔ حالانکہ میرے خیال میں، مکی آرتھر کو ہی کوچ رہنے دینا چاہیے تھا۔ اور سلیکٹر انضمام الحق کو ہٹا کر مصباح کو لگا دینا چاہیے تھا۔ لیکن ان کو مصباح میں ایسا کیا نظر آ گیا کہ تین عہدے دے دیے۔ اور اب عمر اکمل احمد شہزاد سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑائی جائے۔ جبکہ نیا کپتان ٹی ٹوینٹی اور ایک روزہ کے لیے تلاش کیا جائے کیوں کہ سرفراز صرف ٹی ٹوینٹی کی پرفارمنس کی وجہ سے کھیل رہا تھا وہ بھی صرف کپتان کی حیثیت سے بیٹنگ میں تو وہ کافی دیر سے کچھ نہیں کر رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •