کپتان صاحب کارکردگی دکھائیں، کارکردگی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آغاز میں ہی وضاحت کر دوں کہ مضمون کرکٹ کے متعلق ہی ہے۔ مہربانی فرما کر اس سے کوئی اور مطلب نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔

آج کل کپتان سرفراز اور چیف سلیکٹر مصباح الحق شائقین کرکٹ اور دانشوروں کے طعن و تشنیع کی زد میں ہیں۔ جسے دیکھیے ان پر چڑھ دوڑ نے کو تیارہے۔ کچھ لوگ صدق دل سے درست اور صائب مشورے دے رہے ہیں، کچھ مخالفین دل ہی دل میں خوش ہو کر طنز کے تیر برسا رہے ہیں۔ کہیں عاشق زار کی دہائیاں ہیں تو کہیں ٹوٹے دلوں کی بددعائیں ہیں۔ دلائل دینے والے یہ فرماتے ہیں کہ کپتان کو آئیڈیل صورت حال ملی تھی۔ وہ سابقہ کھلاڑی کہ جو ٹیم پر خواہ مخواہ کا بوجھ سمجھے جا رہے تھے انھیں گذشتہ ورلڈ کپ میں بری کارکردگی کا ذمہ دار قرار دے کر ٹیم سے نکال دیا گیا تھا اور واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ ان کا کیرئر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہے۔ اب سرفراز کے پاس میدان کھلا تھا اور اس کے پاس اپنی مرضی سے بہترین نیا ٹیلنٹ آزمانے کا بھرپورموقع تھا۔ ایسی آئیڈیل صورت حال میں آخر ایسی بری کارکردگی کیوں ہے؟

اس کے جواب میں کچھ اس طرح کے دلائل بھی سامنے آ رہے ہیں کہ سلیکٹر ز نے اگرچہ نئے بندوبست میں اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ باہر نکالے گئے پرانے اور اہم کھلاڑی یعنی شعیب ملک وغیرہم دوبارہ ٹیم کا حصہ نہ بن سکیں لیکن اس کے باوجود اپنے ہم خیال چند پرانے کھلاڑیوں یعنی عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسوں کو سرفرازالیون کا حصہ بنا دیا۔ اب کپتان سرفراز یہ چاہتا تھا یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن وہ کھلاڑی ٹیم کا حصہ بن گئے اور یہ بات طے ہے کہ انھیں ٹیم میں سلیکٹرز ہی نے شامل کروایا۔

اب ان کی بری کارکردگی کا ذمہ دار سرفراز کو ٹھہرایا جا رہا ہے اور وہ بے چارہ ایسے ہی شرمندہ شرمندہ پھر رہا ہے۔ کہاں ہمارا وہ عظیم کپتان عمران خان تھا کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ٹیم خود فائنل کرتا تھا اور استعفیٰ جیب میں رکھتا تھا، اگر کوئی کھلاڑی اس کی مرضی کے خلاف ٹیم میں شامل کیا جاتا تو استعفی نکال لیتا تھا۔ آج کل عمران خان کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہے جس میں اس نے کئی برس پہلے کہا تھا کہ اگر ٹیم سلیکٹرز ہی نے سلیکٹ کرنی ہوتی ہے تو اس ٹیم کی کپتانی کا فائدہ۔

خیر۔ بات ہو رہی تھی سرفراز کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کی۔ ساری توپوں کا رخ کپتان کی طرف اس لیے ہے کہ چیف سلیکٹر کے عہدے پر مصباح الحق جیسا مرد باوقارمتمکن ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ دیانت دار، محب وطن اور بات کا پکا اور کھرا ہے۔ سو اس کی ذات پر تو سوال اٹھانا گناہ ہے۔

لیکن غور کریں تو چیف سلیکٹر کی صورت حال اپنی جگہ کچھ اچھی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ چیف سلیکٹر ٹیم کا ہیڈ کوچ بھی ہے۔ سو وہ ٹیم کی تربیت بھی کر رہا ہے اور انھیں ’موقع بے موقع‘ مشوروں سے بھی نوازتا ہے۔ حالیہ تنقید کے بعد مصباح الحق نے قوم کو صبر کی تلقین کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ابھی انھیں یہ عہدہ سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور لوگ بے صبرے ہوئے جا رہے ہیں۔ وہ اتنی خراب ٹیم کی حالت اتنی جلدی کیسے درست کر سکتے ہیں۔

موصوف سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا آپ کو کوئی کمزور ٹیم دی گئی ہے؟ آپ شاید بھول گئے کہ یہ ٹیم ٹی 20 رینکنگ میں دنیا میں پہلے نمبر پر تھی۔ افسوس کا مقام ہے کہ شکست بھی کھائی ہے تو کس سے؟ سری لنکا کی بی ٹیم سے۔ یعنی آپ مخالف ملک کی بی ٹیم سے بھی کمزور ہیں توپھرآپ ہی بتائیں شکست کا ذمہ دار کسے قرار دیا جائے۔ بے چارے کپتان کو؟ وہ جوبے چارہ بول ہی نہیں پا رہا حالانکہ اصولاً صبر کی تلقین اسے کرنی چاہیے۔ ہم نے مانا کہ کچھ پرانے بے کار کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن یہ تو آپ کے حکم پر ہی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

سنا ہے اگلے دن عبرت ناک شکست کے بعدکرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاؤں کی اعلٰی سطح کی میٹنگ ہوئی۔ ہم وہاں موجود نہیں تھے اور نہ ہی سب دیکھا کیے لیکن ہم اس میٹنک کی خیالی رودادپیش کرتے ہیں۔

میٹنگ میں سرفراز کوبری کارکردگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس کا جواب دینے کو کہا گیا توکپتان نے چیف سلیکٹر سے بصد نیاز کہا ”جب آپ نے چند اہم اور پرانے کھلاڑیوں کو باہر کرنے کا پورا پورا ا بندوبست کر لیا تھا تو پھر بی کلاس پرانے کھلاڑیوں یعنی ریلو کٹوں کو میری ٹیم کا حصہ کیوں بنایا؟

چیف سلیکٹر نے کپتان کا یہ سوال انتہائی پیشہ ورانہ تحمل سے سنا اور فرمایا ”ٹیم میں ڈالے گئے چند پرانے کھلاڑی برے کیسے ہو گئے، ہمیں کچھ مضبوط بلے باز بھی چاہییں جو مشکل صورتحال کو سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔ چلیں مان لیا کہ وہ نہیں چل پا رہے تو آپ کا نیا ٹیلنٹ کون سے کارنامے سر انجام دے رہا ہے؟ وہ کس مرض کی دوا ہے؟ کیا ان کا کام صرف باتیں بنانا ہی ہے یا کوئی کارکردگی بھی دکھانی ہے؟ “ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مصباح الحق کھرا آدمی ہے اور کچھ بھی بول سکتا ہے۔ سو اس نے بات جاری رکھی۔

”کیا اب میدان میں جا کر کھیلنا بھی ہمارا کام ہے؟ کیا رنز بھی ہم نے بنانے ہیں؟ کیا ان کا دفاع بھی ہم نے کرنا ہے؟ ہم میڈیا کے سامنے باتوں سے آپ کا دفاع تو کر سکتے ہیں، کچھ اہم لوگوں اور اشتہاری کمپنیوں کوبھی قائل کر سکتے ہیں تا کہ ریوینیو آتا رہے اور کرکٹ کے میدانوں کی رونق برقرار رہے لیکن میدان میں اصل کارکردگی تو آپ کی ٹیم نے دکھانی ہے۔ یاد رکھیں آپ نے خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اور سو باتوں کی ایک بات کہ ہم نے کوئی کرکٹ کی نرسری تو لگائی ہوئی نہیں کہ جہاں سے ہم کھلاڑی نکالیں اور آپ کے ہاتھ مضبوط کردیں۔ جو دستیاب کھلاڑی ہیں انھی سے آپ نے اچھا ٹیم کمبی نیشن بنانا ہے۔ “

اس کے بعد کپتان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ”سرکار یہ ٹیسٹ کرکٹ کا دور نہیں، ٹی 20 کا دور ہے اور جدید کرکٹ بہت تیز ہو گئی ہے، آپ اسے پرانے طور پر نہیں چلا سکتے۔ آپ ہمیں ہماری مرضی سے کھیلنے دیں۔ اور دعا کریں، انشا اللہ سب بہتر ہو گا۔ “

تو ہم نے چشم تصور سے دیکھا کہ تلخی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

چیف سلیکٹر صاحب نے میز پر زور سے مکہ مارا اوریہ کہہ کر میٹنگ سے اٹھ گئے۔ ”کپتان صاحب یہ تو آپ کو غور کرنا چاہیے کہ پرانے طریقوں سے کام کون چلا رہا ہے؟ اب دعاؤں اور خیراتوں سے کام نہیں چل سکتا۔ کارکردگی دکھائیں۔ کارکردگی۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •