قانون تو بن گیا، اب انسان کب بنو گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


\"mehwish\" پاکستان کی پارلیمان سے متعلق بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسئلوں کی وجوہات پہ اکثر مباحثہ ہوتا رہتا ہے۔ کوئی کہتا ہے \’کرپشن بہت ہے۔ جب تک کرپٹ حکمران نہیں جان چھوڑیں گے، کچھ نہیں بدلے گا۔\’ پھر یہ جملہ کہہ کے وہی لوگ کنڈے والی بجلی سے چلنے والا اے سی آن کرتے ہیں اور لمبی تان کے سو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں عوام بہت بہک گئے ہیں۔ ہر طرف بے راہ روی ہے۔ پھر یہی بات کہہ کے سامنے سے گزرنے والی لڑکی کو جی بھر کر تاڑنے لگ جاتے ہیں۔ اور ہاتھ میں موجود کاغذ یا کچرا سڑک پر ہی پھینک دیتے ہیں۔ اوپر ہی دیوار پہ لکھا ہوتا ہے – یہاں کچرا پھینکنا منع ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پارلیمان نے قانون تو پاس کر دیا۔ کہہ بھی دیا کہ جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پہ قتل کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔ بہت اچھی بات ہے۔ اس قانون کو تو پاکستان کے بننے کے ساتھ ہی بن جانا چاہئے تھا۔ مگر 1947 سے لے کے 2016 تک نہ جانے کتنے معصوم لوگ ان حیوانی رسومات کی بھینٹ چڑھتے رہے۔ کسی کو زندہ جلایا گیا، کسی کو پتھروں سے مار مار کے ہلاک کیا گیا۔ کتنے ہی باپوں نے اپنی پیاری بیٹیوں کو بیدردی سےجان سے مار دیا۔ کتنے ہی شوہروں نے اپنی شریک حیات کو بنا کچھ سوچے سمجھے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کتنے ہی بھائیوں نے اپنی غیرت کو بچانے کے لئے اپنی جیتی جاگتی بہنوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اب قانون تو آ گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا برسوں کی اس پسماندہ سوچ کا علاج کیا جا سکتا ہے؟ جن درندوں نے معصوم جانوں کا نقصان کیا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور غیرت کو عورت کی شلوار سے جوڑا اور جو سامنے آیا اسے گولیوں سے بھون دیا۔ کیا قانون کے وجود میں آنے سے ایسے افراد کی سوچ مر جائے گی؟

کبھی کبھی میں ان واقعات کے بارے میں سوچتی ہوں تو جسم میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ چند ہی دن پہلے اسلام آباد کی خبر ملی۔ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے کردار پہ شک کیا اور اس کا گلا گھونٹ دیا۔ ایک ہفتے پہلے ہی راولپنڈی میں ایک آدمی نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پہ قتل کیا۔ اکتوبر کے مہینے میں ہی دیپال پور نامی شہر میں باپ نے اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے گھر مجبوراً چھوڑ کر اپنی پسند سے شادی کر لی تھی۔

صرف اکتوبر کے مہینے میں یہ اخبار اور ٹی وی پہ آنے والے واقعات ہیں۔ خدا جانے اور کتنی ہی عورتیں اپنے خونی رشتوں سے خائف ہو \"women-feature-01\"کر جی رہی ہیں کہ کب ان کا غصہ غضب میں بدلے اور کب ہماری جان خطرے میں پڑے۔ پاکستان میں غیرت کے ٹھیکے دار کثرت اور باقاعدگی سے امریکہ بھارت اور یورپ وغیرہ کو برا بھلا کہنا اپنا دینی اور دنیاوی فریضہ سمجھتے ہیں۔ گو نماز روزہ ہو نہ ہو، سچ بولیں نہ بولیں۔ لیکن دوسروں کی ثقافت اور ان کے ممالک اور ان کی سیاست پہ خود راستی پر مبنی تبصرے کرنے کا معاملہ ہر گز نہ چوکنے پائے۔ اپنے ملک میں غیرت کے نام پہ قتل ہونے کی خبر بھی آجائے تو جواب یہ دیا جاتا ہے، ارے آپ کو پتہ نہیں امریکا میں عورتوں کو کتنا زیادہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہاں بھائی معلوم ہے۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ آخر کیوں امریکا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت اور پاکستان میں غیرت کے نام پہ مرنے والی عورت کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ستم ظریفی کافی نہیں کہ ان کے اوپر ہونے والے مظالم کا ازالہ ہی نہ ہو پا رہا ہے بلکہ الٹا مرد کو پوری دنیا میں پدرانہ نظام کے فیض سے عورتوں کے خلاف زیادتیوں سے بری الذمہ ہونے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس نظام سے کبھی تو براک ٹرنر نامی شخص سٹینفورڈ یونیورسٹی میں فائدہ اٹھاتا ہے تو کہیں دیپالپور میں ایک باپ غیرت کو بچانے کے نام پہ فیض پاتا ہے۔

کبھی غور کریں ان بچیوں اور ان عورتوں کی عمروں پہ، بھرپور جوان خواتین۔ ایک بچی تو 16 سال کی تھی۔ ایک لڑکی 18 سال کی، کوئی بیس کی تو کوئی پچیس سال کی۔ وہ لڑکی جسے اس کے کسی مرد رشتہ دار نے بے وقت موت کی نیند سلا دیا، اس کی پوری زندگی اس کے سامنے رکھی تھی۔ نہ جانے اس کے کیا شوق ہوں گے۔ اس کو کون سے کھانے پسند ہوں گے۔ وہ کون سے گانے سنتی ہوگی۔ گھر کا کام کاج کر کے جب وہ تھوڑی در سستانے کے لئے لیٹتی ہوگی، تو تھکن دور کرنے کے لیے کون سے نغمے گنگناتی ہوگی۔ اپنے باپ اور بھائیوں سے چھپ کے جب وہ کسی دوست سے ملنے جاتی ہوگی، تو کیا اسے معلوم ہوگا کہ اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس وقت اپنی \’جان کے مالک\’ کے آگے گستاخی کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اور وہ پھر بھی کبھی محبت کے ہاتھوں مجبور تو کبھی اپنی عمر کے ہاتھوں۔ دل تو مرد کے سینے میں بھی وہی دھڑکتا ہے جو عورت کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ تو مرد کی نظر میں عورت کے دل میں پیدا ہونے والی محبت صرف برتنوں اور شادی کے بعد پیدا ہونے والے بچوں سے ہی کیوں منسوب ہے؟ کیا اس کا دل کسی دوسرے انسان پہ نہیں آ سکتا؟ کیا وہ کسی جیتے جاگتے انسان سے اپنی زندگی کی باتیں، اپنی سوچ، اپنی پسند نا پسند پہ پات چیت کرنے کا حق نہیں رکھتی؟

\"Indian

جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، جب تک ہم عورتوں کو انسان نہیں سمجھیں گے تب تک یونہی قتل ہوتے رہیں گے۔ قانون بنانے کے ساتھ ساتھ ہم سب کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ عورت کو \’چیز\’ سمجھنے کے بجائے ایک جیتا جاگتا جذبات، خواہشات اور امنگیں رکھتا ہوا انسان سمجھنا ہوگا۔ جس کی اپنی ایک منفرد سوچ اور شخصیت ہے۔ جس کا اپنا ایک نظریہ ہے۔ جس کی اپنی پہچان ہے۔ جس کی اپنی پسند نہ پسند ہے۔ جس کے سینے میں دل ہے۔ جس کو محبت بھی ہوتی ہے۔ اپنی ذات پات سے باہر بھی محبت ہوتی ہے۔ اپنی زندگی اور اپنی خودی کو پہچاننے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔ جب تک ہر شخص اپنے اندر سوچ کی تبدیلی نہیں لائے گا تب تک ہر باپ کو لگتا رہے گا کہ اس کی بیٹی انسان نما شے ہے جو کسی بھی وقت ذبح کی جاسکتی ہے۔ جب تک ہم عورتوں کو ان کے حق دلانے پہ اصرار نہیں کریں گے تب تک ہر بھائی کو یہ لگتا رہے گا کہ وہ اپنی بہن سے بہتر ہے اور اس پہ ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔ جب تک ہم عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا اعتماد اور مواقع فراہم نہیں کریں گے تب تک ہر شوہر کو یہی لگتا رہے گا کہ بیوی اس کے پاؤں کی جوتی ہے اور وہ اس کو کبھی بھی اٹھا کے باہر پھینک سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply