معاشرہ عورت کی حمایت کیوں نہیں کرتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"afshan-musab\"پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2015ء میں غیرت کے نام پر قتل کے کُل 987 کیس ریکارڈ پر آئے۔ ان میں 1096 خواتین اور 88 مرد، جِن میں سے 170 بچے تھے زندگی کے حق سے محروم کردیے گئے۔ یہ تعداد گزشتہ تین برسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ جو معاشرے میں بڑھتے اجتماعی رجحان و ہیجان کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ڈبلیو-اے-آر (War Against Rape) کی رپورٹ پر نگاہ ڈالی جائے تو ان کے مطابق پاکستان میں روزانہ چار خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ بچوں اور مردوں کی تعداد اس میں شامل نہیں۔ قابلِ غور رُخ اس المیے کا یہ ہے کہ درج شدہ ایف۔ آئی۔ آر اور ہسپتال میں آنے والے کیسز کی تعداد میں فرق نمایاں ہے۔ جِس کی وجہ شاید تھانے کے عملے کا رویہ اور نظامِ انصاف پر عدم اعتماد جب کہ دوسری وجوہات یقیناً معاشرتی دباؤ، کسی قسم کا معاشی لالچ اور سماجی خوف کے تحت معاملات کو دبا دینا شامل ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کے مطابق 2014ء میں 1515 جنسی زیادتی جب کہ غیرت کے نام پر قتل کے 713 کیسز سامنے آئے۔ اگرچہ اس تعداد میں جلا کر مار ڈالنے، تیزاب گردی، گھریلو تشدد، اغواء، مبینہ خود کشی اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کا ڈیٹا شامل نہیں ہے۔ ایسی خطرناک صورت حال میں قانون سازی، اجتماعی ذہن سازی، معاشرتی شعور، اپنے حقوق سے آگہی کا عالم کیا ہوسکتا ہے اس کو سمجھنے میں دقت نہیں ہونی چاہیے۔ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں جاری صورت حال کے تناظر میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا۔ اور اسی کارروائی کے دوران دو اہم قوانین کثرتِ رائے سے پاس کروا لیے گئے۔ غیرت کے نام پر قتل اور انسداد عصمت دری کے یہ دونوں بِل رواں سال جولائی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے منظور کیے تھے۔ یاد رہے کہ 16 جولائی کو غیرت کے نام پر ماڈل قندیل بلوچ کے قتل سے پیدا ہوئی صورت حال نے بھی اس منظوری پر دباؤ بڑھایا تھا۔

مذکورہ قوانین (ترمیم شدہ شکل) کے پاس ہوجانے کے بعد جو بحث دیکھنے میں آئی وہ افسوس ناک حد تک سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ہاہاکار کے سوا کچھ خاص دکھائی نہیں دیتی۔ قانون کے مندرجات آسان زبان میں سمجھانے، سقم سمجھنے اور انہیں دور کروانے کی کوشش جب کہ عملدرآمد کروانے جیسی باریکیاں یوں بھی زیرِ بحث لانا روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کے خلاف پاس شدہ بل میں قصاص کا پہلو برقرار رکھا گیا لیکن اس کے باوجود عمر قید کی سزا لازم بنا دی گئی ہے جو پچیس برس ہے اور وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد صاحب کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب ان مقدمات میں فریقین کا راضی نامہ ماضی کی طرح ہونا ممکن نہیں ہوگا۔

 2004-2005 میں ایک ترمیم لائی گئی تھی جس میں جج صاحبان کو سزا کے تعین بارے صوابدیدی اختیار دیا گیا تھا۔ اس ترمیم کا کچھ خاص فائدہ اتنے برسوں میں تو دکھائی نہیں دیا۔ حالیہ قوانین کے متن کے مطابق مقتول کے ولی اسی صورت معاف کرسکتے ہیں اگر عدالت کی جانب سے سزائے موت کا حکم آئے جب کہ کم از کم سزا (عمر قید) میں کمی یا معافی کی گنجائش نہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھی جائے کہ \”کم از کم سزا\” والا پہلو اکثریت نظر انداز کر رہی ہے۔

فساد فی الارض یا قتلِ عمد جیسی اصطلاحات کا استعمال کر کے اس قانون کو کچھ مذہبی جماعتوں کے لیے قابلِ قبول بنانے کی راہ نکالی گئی تاکہ \”فقہ کا قانون\” والی بات بھی بنی رہی۔

دوسری جانب نوے روز میں زنا بالجبر کے کیس کو نبٹانے کا فیصلہ تو کرلیا گیا ہے اب اس پر عمل کِس طرح ہوگا یہ مستقبل میں دیکھنا پڑے گا۔ اہم قدم یہ ہے کہ مذکورہ قانون متاثرہ خواتین اور مرد دونوں کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس بل کی سب سے نمایاں خصوصیت ڈی۔ این۔ اے ٹیسٹ کو بطور شہادت قانونی حیثیت حاصل جانا ہے۔ پارلیمنٹ نے یقیناً اپنی بالا دستی اس ضمن میں قائم کرلی ہے۔ دوسرا اہم نکتہ زنا بالجبر کے مقدمے میں قانونِ شہادت کے تحت متاثرہ فرد کے کردار کی جانچ پڑتال کا تلف کیا جانا ہے۔ یوں سیکس ورکرز کو بھی یہ قانون بظاہر تحفظ فراہم کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

جب ہم سینہ پھلا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسدادِ عصمت دری کے قانون میں اب بچوں اور ذہنی و جسمانی معذور افراد کے ساتھ جنسی تشدد کے مجرم کو موت کی سزا ہو گی تو دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ \”اب\” سے کیا مراد ہے؟ کیا واقعی ستر برسوں سے بچوں اور ذہنی معذوروں کے ساتھ اس حیوانیت کے خلاف کوئی قانون موجود ہی نہ تھا؟ کیا ہمارے عوامی نمائندے، لیجسلیٹر کہلوانے والے اس تمام عرصے میں سفاکیت سے معاشرے کے اس ناسور کو پلتا دیکھتے رہے ؟

خراب تھانہ کلچر نے ہمارے ہاں جو تباہی مچائی ہے شاید اسی کے تناظر میں انسداد عصمت دری کے قانون کے تحت تھانے کی حدود میں کسی خاتون کے ساتھ زیادتی پر دوہری سزا کا عندیہ دیا گیا ہے۔ جب کہ تفتیشی بددیانتی پر پولیس اہلکار یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے اور متاثرہ فرد کی شناخت ظاہر کرنے والوں کو قید یا جرمانہ یا دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیل میں ہونے والی جنسی زیادتی کے مجرم کو بھی پھانسی ہو گی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ان مقدمات میں متاثرین کی پہچان ظاہر نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ ایسے مقدمات کی سماعت بھی اِن کیمرے رکھنے کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ اور کسی بھی قسم کے جانی یا معاشرتی نقصان سے تحفظ کی خاطر وڈیو لنک کے ذریعے بھی گواہی ممکن ہوگی۔

کچھ ناقدین کو سننے کا اتفاق ہوا جِن کا اعتراض یہ ہے کہ اب قتل کا محرک ثابت کرنا ہوگا، ملزم کوشش کرے گا کہ لفظ غیرت کو عدالتی کارروائی میں استعمال نہ ہونے دے جب کہ استغاثہ اسی پہلو پر زور دے گا یوں مقتول کی نجی زندگی کو کھنگالا جائے گا۔۔۔ یہاں جب تک کسی مقدمے کی کارروائی اس قانون کے تحت عمل میں نہیں آتی صورت حال واضح ہونا مشکل ہے۔ سقم کی نشاندہی عموماً عمل کے دوران زیادہ نمایاں ہوا کرتی ہے۔

دو انتہائیں ہیں اور لطف یہ ہے کہ دونوں ہی اس قانون کو مسترد کر رہے ہیں۔ ایک جانب مذہبی جماعتیں ہیں جو اسے شریعت کی روح کے منافی اور دہشتگردی کی شکل قرار دے رہے ہیں اور اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے (یہ حیثیت ہے کیا؟ اس بارے رائے محفوظ ہے) اور دوسری جانب روشن خیال کہلوانے والے اس قانون کو بہلاوا کہہ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ان جرائم کو ناقابلِ مصالحت ہونا چاہیے۔ اور محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ہی انتہاؤں پر بیٹھے لوگ یونہی مصروفِ عمل رہیں گے۔

آپ مجرم کو بھلے ہی کڑی سے کڑی سزا دیتے رہیں، لیکن وہ عوامل تبدیل نہ کریں جن کی بنا پر جرائم کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے، تو سخت ترین قانون کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ قوانین کا مقصد جرائم کا خاتمہ کرنے سے زیادہ مثبت اور بہتر معاشرتی رویوں کی تشکیل کی جانب رہنمائی ہوتا ہے نہ کہ جرم کی پاداش سے کسی قسم کا استثنیٰ مسلسل تخریبی سوچ اور رویوں کی جڑیں مضبوط کرتا رہے۔ عوامی رجحانات اور قانون سازی کا تال میل ہمارے جیسے معاشرے میں بہت اہم ہونا چاہیے اور اس کے لیے نصاب، عوامی رابطہ سازی اور کمیونٹی پولیسنگ کے علاوہ پولیس، تفتیشی اور عدالتی نظام میں اصلاحات لا کر ہی قوانین کی روح کے مطابق عملدرآمد ممکن ہو پائے گا۔

(یہ تحریر سب سے پہلے ڈان نیوز پر شائع ہوئی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply