نواز شریف کا تختہ الٹنے کے احکامات کس نے دیے تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے ٹھیک دو دہائیاں قبل جنرل مشرف نواز شریف کی حکومت فتح کرنے کے بعد رات اڑھائی بجے بجے ٹی وی پر آئے اور قوم سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا میرے عزیز ہم وطنو مجھے یہ قدم پاکستان اور خصوصاً پاکستان کی فوج کو بچانے کے لیے اُٹھانا پڑا۔

آخر کیا وجہ تھی کہ میاں نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان بداعتمادی بڑھی جس کی وجہ سے مشرف کو منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا پڑا۔ لیفٹننٹ جنرل مجید ملک اپنی کتاب ”ہم بھی وہاں موجود تھے“ میں لکھتے ہیں کہ جس طریقے سے جنرل جہانگیر کرامت کو فوج سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا فوج کے اندر اس کو اچھا نہیں سمجھا گیا۔ میاں نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان بداعتمادی تو موجود تھی مگر اس میں شدت کارگل واقعہ کے بعد آئی۔

مشرف کے ذہن میں اس خیال نے جگہ بنا لی کہ نواز شریف اُن کو بھی اسی طرح فوج سے چلتا کر دیں گے جس طرح اُنھوں نے جنرل جہانگیر کرامت کو کیا تھا۔ دوسری طرف سویلین حکومت میں بھی اس خیال کو تقویت مل رہی تھی کہ فوج ہمارے خلاف کوئی بڑا قدم اُٹھا سکتی ہے۔ میاں نواز شریف کو اُن کے والد میاں محمد شریف نے کہا آپ کو پرویز مشرف کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہیں اس کے بعد ان دونوں حضرات میں ملاقات ہوئی اور تعلقات میں بہتری ہوئی۔

ساتھ ہی انہی دنوں میاں نواز شریف کا عمرے پر جانے کا پروگرام بنا ہوا تھا تو انھوں نے پرویز مشرف کو بھی اپنے ساتھ عمرے پر جانے کی دعوت دی۔ اس سلسلے میں پرویز مشرف اور اُن کی اہلیہ محترمہ کو رائے ونڈ کھانے پر بھی بلایا گیا اور شاید کچھ تحائف بھی دیے گئے اور بعد ازاں دونوں نے ایک ساتھ عمرے کی سعادت بھی حاصل کی۔ تعلقات کی اس بہتری کو مزید رنگ دینے کے لیے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے خالی عہدوں پر اضافی تعیناتی کے احکامات جاری کر دیے۔ حالات کے سدھارنے کی جو امید ہو چُکی تھی وہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ مشرف نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا پروگرام بنا چُکے تھے۔

جنرل شاید عزیز اپنی کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک“ میں لکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج میں تختہ اُلٹنے کا منصوبہ تیار پڑا ہوتا ہے ایسا نہیں ہے فوج میں کسی بھی غلط کام کا یوں کھل کے حکم نہیں دیا جاتا۔ ویسے بھی تختہ الٹنا کوئی پیچیدہ کام تو نہیں جس کے لیے لمبی منصوبہ بندی کی ضرورت ہو دو سے تین اہم کور کمانڈر ساتھ ملانے کے بعد ٹرپل ون بریگیڈ ہی یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف جب سری لنکا جا رہے تھے تو انھوں نے جانے سے پہلے کہا ”آپ تینوں میں سے ہر ایک انفرادی طور پر اس بات کا مجاز ہو گا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے احکامات جاری کرے میں آپ تینوں کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جنرل محمود، جنرل عزیز اور شاہد آپ جنرل مشرف نے مٹینگ کرتے ہوئے ہمیں اس معاملے میں با اختیار کیا اور ذمہ دار ٹھہرایا۔

سری لنکا جانے سے قبل یہ آخری مٹینگ تھی۔ کئی دنوں سے اُن کے گھر پر اس سلسلے کی ملاقاتیں جاری تھی ان ملاقاتوں میں میرے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمود کور کمانڈر دہم، لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان سی جی ایس، میجر جنرل احسان الحق اور بریگیڈیئر راشد قریشی موجود ہوتے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ہمیں ہر حالت میں فوج کو تحفظ دینا ہو گا اگر اس بار نواز شریف آرمی چیف کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانے کے سوا کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں ہمیں ہر حال میں یہ جنگ لڑنا ہو گی۔

جنرل مشرف کو کور کمانڈر کوئٹہ اور کور کمانڈر پشاور پر بھروسا نہیں تھا اس لیے ان جرنیلوں کو پلان کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

جب ہمیں پتہ چلا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اُن کی جگہ جنرل ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف لگایا گیا تو جنرل محمود کور کمانڈر دہم ٹرپل ون بریگیڈ کو ”go“ دے چُکے تھے۔ ہمیں صدر اور وزیراعظم کے گھروں دفتروں کے علاوہ، ٹیلی فون اور مواصلاتی نظام کو اپنے قابو میں کرنا تھا۔ لاہور کور کمانڈر جنرل خالد مقبول گوجرانوالہ گالف کھیلنے گئے ہوئے تھے اُن کی جگہ مجیر جنرل طارق مجید نے معاملات سنبھالے۔

اسلام آباد میں پرائم منسٹر ہاؤس اور صدارتی ہاؤس کو گھیرے میں لینے کے بعد صدارتی ہاؤس کی بٹالین سے ایک میجر کچھ سپاہ کے ساتھ ٹی وی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے گئے تاکہ وہاں سے جو لگاتار نئے چیف کو رینک کے بیج لگانے ویڈیو چل رہی تھی اسے بند کیا جائے مگر ہم نے نشریات ہی بند کروا دی۔

منتخب جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے بعد جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ فوج کو بچانے کی خاطر یہ قدم اُٹھانا پڑا۔ مگر وقت نے دیکھا کہ مشرف امریت میں فوج وردی پہن کر عوامی مقامات پر جاتی تو اُنھیں عوام زدوکوب کرتی جس کی وجہ سے جوانوں نے وردی میں عوامی مقامات پر جانے سے گریز کرتے۔ وقت اور حالات پلٹا کھاتے ہیں آمریت کی سیاہ رات ختم ہوتی ہے پی پی کے بعد نواز شریف ایک بار پھر اقتدار میں آتے ہیں۔

پی پی حکومت آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مشرف کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہے۔ نواز شریف اقتدار میں آ کر مشرف کے خلاف کارروائی کا بھاری پتھر اُٹھاتے ہیں جنرل راحیل شریف اُنھیں مجبور کرتے ہیں کہ پتھر اُٹھا دیا تو اُسے چومیں اور رکھ دیں۔ کہنے کو تو آج ہمارے ملک میں جمہوریت ہے مگر یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں جمہور کی رائے کو کُچلا جا رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کی آوازوں کو پابند سلاسل کر کے خاموش کیا جا رہا ہے۔ ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوریت لانے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا 12 اکتوبر 1999 ءکیوں ہوا؟ اس سوال کا تفصیلی جواب ڈھونڈے بغیر آپ کی جمہوریت ویسی ہی کھوکھلی اور کھیل تماشا رہے گی جیسی 11 اکتوبر 2019 کے دن نظر آ رہی ہے۔ اس کے استحکام کے دعوے کرنے والوں پر اب مجھے ہنسی بھی نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 84 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui