بدکلام سیٹھ اور وفادار ملازم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بلا کا باتونی، ملنسار، خدمت گزار، رحم دل، صاف گو، اور حد درجہ معصوم تھا۔ جب میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ تب بمشکل اس کی عمر پندرہ سولہ برس تھی۔ میں نے دوران تعلیم پارٹ ٹائم ملازمت اختیار کر رکھی تھی۔ وہیں پر اس سے ملاقات ہوتی۔ وہ جیسے ہی کام سے فراغت پاتا تو اپنی چائینہ کی صاف ستھری سائیکل پر سوار میرے پاس آپہنچتا۔ سائیکل کا خیال وہ خود سے بھی زیادہ رکھتا تھا۔ پھر گھنٹوں سائیکل کی حفاظت، مرمت و سجاوٹ کے قصّّے سناتا رہتا۔ اسے تو بولنے کی لتّّ تھی سو بولے چلا جاتا۔

والدین نے اس کا نام شاہ فیصل رکھا تھا۔ غالباً اس کی وجہ ایک مذہبی جماعت سے وابستگی ہو سکتی ہے۔ سب بچوں کے نام آل سعود پر رکھے تھے۔ شاہ فیصل چھٹی کلاس میں تھا۔ جب اس کے والد نے گھریلو حالات کی بنا پر اسے کُل وقتی ملازمت پر رکھوا دیا تھا۔ ملازمت بھی جماعت کے توسط سے ملی تھی۔ کراچی کے ایک نامور کاروباری سیٹھ کی کیمکل فرم تھی۔ جس کے دیگر معاملات جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذمہ تھے۔ سیٹھ بد تمیز تو تھا ہی، بات بے بات گالیاں بکنا بھی اس کی عادت میں شامل تھا۔ جس کا شکوہ و غصہ ہر بار اس کی آمد پر مجھے گھنٹوں سننا پڑتا۔ وہ اپنی بھڑاس، سیٹھ کو برا بھلا کہہ کر میرے پاس بیٹھ کر نکال لیا کرتا تھا۔ اتنی محنت، لگن و اخلاص کے بعد جو گالیاں اس کے حصے میں آتیں۔ کبھی قسمت کو کوسنے دے لیا کرتا۔ بہر حال وہ خاموش رہنے کے لئے بنا ہی نہیں تھا۔ بولتا تو پھر پہروں بولتا ہی چلا جاتا۔ اسے کسی کی موجودگی درکار ہوتی تھی بس بولنے کے لئے۔

بارہ سال کی عمر میں اس نے کام شروع کیا تھا۔ شروع میں اس کے ذمہ چائے بنانا اور دفتر کی صفائی وغیرہ کرنا تھی۔ مگر رفتہ رفتہ جیسے جیسے عمر اور تجربہ بڑھ رہا تھا۔ کام کی ذمہ داری بھی بڑھتی گئی۔ دفتری امور کے لئے اب اسے دفتر کی موٹر سائیکل لے جانے کی اجازت بھی مل چکی تھی۔ اپنی دیانت داری اور محنت کی وجہ سے ہر کام کو بخوبی انجام دیتا۔ بینکوں میں رقوم جمع کروانے یا فیکٹریوں سے رقوم کی وصولی بھی اب اسی کی ذمہ داری تھی۔

ان سب کاموں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ جماعت کے ہر کام میں پیش پیش ہوتا۔ خدا جانے یہ اتنے امور کیسے انجام دے لیتا اور کبھی تھکاوٹ، طبعیت کی خرابی کا ذکر تک اس سے نہ سنا۔ ابھی کسی کام کے بارے بات ہوتی وہ خدائی خدمت گار بن کر ہر کام کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوتا۔ اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر چیزوں کی فراہمی میں یقینی بچت کا ضامن ہوتا۔ صبح صادق سے رات گئے تک انہی امور کی انجام دہی میں جُتا رہتا۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مالی مدد لینا اسے گوارا نہ تھا۔ بس خواہش ہوتی کہ اس کے کیے ہوئے کام یا لائی ہوئی چیز کی تعریف ضرور کی جائے اور اس کی مہارت کو تسلیم کیا جائے۔ وہ تعریف کا بھوکا تھا۔

ان چار پانچ سال کے عرصہ میں اس نے اب اپنی موٹر سائیکل خرید لی تھی۔ جو ہر وقت چمکتی دمکتی دکھائی دیتی۔ اس کا میرے پاس آنا جانا بھی کچھ کم ہو چکا تھا۔ لیکن جب بھی آتا ہر بار کی طرح اپنی روداد ماضی سے شروع کرکے حال تک کی سناتا اپنی محنت، لگن اور دیانت داری کے قصّے جو مجھے بھی ازبر ہو چکے تھے۔ اس کے سیٹھ کا ناروا سلوک اور گالیوں کی روداد جب کبھی اس کو زیادہ شدت سے محسوس ہوتی تو اپنے سیٹھ کے کاروباری دھوکے اور دو نمبریوں پر خوب سیٹھ کو لتاڑتا کہ کیسے پندرہ ڈرم کیمیکل کو نمک ڈال کر بیس ڈرم میں تبدیل کرواتا ہے۔ کیسے جھوٹ کا کاروبار کرکے دھوکے دینے میں ماہر ہیں حاجی صاحب۔

جب کبھی اچھے موڈ میں ہوتا تو ہم جان بوجھ کر چھیڑ دیتے کہ تمھاری فرم کیسے نمک کی ملاوٹ کرکے کیمکلز بیچتی ہے۔ تو پھر باقاعدہ فرم کا ترجمان بن کر اس کی صفائی کچھ یوں دیتا۔ کہ پوری مارکیٹ میں ہمارا نام ہے۔ سب سے اچھا کیمیکل ہمارا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہم ہی سب سے کم ملاوٹ کرتے ہیں۔ باقی مارکیٹ تو پندرہ ڈرمز کو ملاوٹ کرکے تیس میں تبدیل کرتے ہیں اور ہم لوگوں کے مقابلے معمولی ملاوٹ کرتے ہیں۔

پھر کام کاج کے سلسلے میں مصروفیت ایسی بڑھی کہ لوگوں سے رابطے میں تعطل آگیا اور نئی دنیا میں نئی مصروفیت میسر آگئی البتہ کبھی کبھار اس کا فون آجاتا۔ تو ہیلو ہائے اور حال چال جاننے سے بات آگے بڑھانے کا وقت کبھی میسر ہی نہ آیا۔

اب ایک لمبے عرصہ کے بعد اس سے ملاقات ہوئی۔ تو حال احوال پوچھنے کے بعد اس کی زندگی کی مصروفیت بارے بھی خود ہی پوچھنا پڑا۔ کیونکہ اب شاید زیادہ بولنے کی عادت پر قابو پا چکا تھا۔ پوچھنے پر زندگی کے شب و روز کے معمول میں کچھ تبدیلی بھی واقع ہوئی تھی۔ سیٹھ کے پاس ملازمت کو بیس سال سے زائد کا عرصہ بھی بیت چکا تھا۔ چائے بنانا، دفتر کی صفائی اور رقوم کی وصولی آج بھی اسی کی ذمہ داری تھی۔ سیٹھ کو وہ حاجی صاحب کہہ کر پکارتا تھا۔

حاجی صاحب کی غلیظ گالیوں بارے کچھ کمی آئی۔ میں نے پوچھا، تو اس نے سنجیدہ سا جواب دیا کہ عادتیں موت کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔ پھر خود ہی بولا اور بولتا چلا گیا۔ کہ میں نے ان گالیوں کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ اب کوئی کتنی ہی گالیاں بٙکے مجھے فرق نہیں پڑتا۔ وہ جب بھی مجھے گالیاں نکالتا ہے تو خاموشی سے سن لیتا ہوں اور پھر جب بھی حاجی صاحب کی سپیشل چائے بنا کر لے جاتا ہوں تو حاجی صاحب کی چائے میں اتنا ہی تُھوکتا ہوں۔ جتنی وہ مجھے گالیاں بٙکتا ہے۔ تُھوک والی ملاوٹ زدہ چائے کا سن کر ایک کراہت بھری سنسناہٹ جسم میں دوڑ گئی۔ ا س کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جیسے آج وہ خود اپنے آپ کو داد دے رہا ہو۔
نام، شہر، کاروبار فرضی نام کی رعائیت سے البتہ روداد حقیقی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •