شہباز شریف کی ”پرواز“ ضروری ہو گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانافضل الرحمن کے دھرنے کی کرامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ مولانا کی اب تک کی سرگرمیوں سے مقتدر قوتوں کا بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ مولانا کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کی ضد پر مسلم لیگ (ن) میں واضح دراڑ نظر آنے لگی ہے۔ میاں شہباز شریف نے مولانا کی حمایت کرنے پر پہلی بار اپنے بڑے بھائی کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے اپنے چھپے ہوئے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے۔

میاں شہباز شریف مسلسل مولانا فضل الرحمن کی حمایت سے گریز کررہے تھے اور اس گناہ بے لذت سے بچنے کے لئے انہوں نے مولانا کو دھرنا نومبر تک ملتوی کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن حالات بتاتے ہیں کہ حکومت کی بوکھلاہٹ دیکھ کر مولانا جو لطف لے رہے ہیں وہ انہیں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بن کر بھی شاید نہ مل سکا ہو۔ مولانا کا دھرنابہت ”بھاری“ بتایا جارہا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی میں بھی دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہیں۔ مولانا اپنے اتحایوں پر تو بہت ”بھاری“ ثابت ہورہے ہیں۔ حکومت کے لئے ان کے ”بھاری بھر کم“ دھرنے کے اثرات بعد میں ظاہر ہوں گے۔

گزشتہ روزمولانا فضل الرحمن کی حمایت کے لئے میاں نواز شریف کی طرف سے جو خط جاری کیاگیا اس نے میاں شہباز شریف کو تقریباً بغاوت پر آمادہ کر دیاہے۔ میاں نواز شریف کی طرف سے جاری کردہ خط میاں شہباز شریف کے لئے زہر آلود تیر سے اس لئے بھی کم نہیں تھا کہ جیل کے باہر اس خط کو مسلم لیگی کارکنوں تک پہنچانے والا کیپٹن صفدر تھا۔ میاں شہباز شریف اب تک مریم صفدر کو بمشکل برداشت کرتے چلے آرہے تھے اور اب بات حد سے گزر گئی ہے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے برملا کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو ہمیشہ ٹکراؤ سے منع کیا گیا لیکن پہلے انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت سے کشمکش کی اور پھر جنرل پرویز مشرف سے الجھ گئے۔

میاں شہباز شریف کو یہ بھی دکھ ہے کہ حالیہ دور حکومت میں بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے چوہدری نثار علی خان موقف کے حامی رہے ہیں اور انہوں نے ابھی تک اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کے اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف کی تائید نہیں کی ہے۔ مزیدبرآں قومی سیاست میں یہ تاثر بھی ہمیشہ موجود رہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف سے لے کر جنرل قمر جاوید باجوہ تک سب کے لئے شہباز شریف قابل قبول رہے ہیں جبکہ میاں نواز شریف ان سب سے ٹکراتے رہے ہیں۔

اگرچہ میاں نواز شریف نے کیپٹن صفدر کے ذریعے خط بھیج کر کارکنوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ مولانا کی ہر صورت حمایت کریں لیکن میاں شہبازشریف اپنے بڑے بھائی کی اس ادا کو اپنے لئے ایک پیغام سمجھتے ہیں کہ اب انہیں طے کرناہے کہ وہ اور ان کا صاحبزادہ حمزہ شہباز محترمہ مریم نواز کی قیادت میں کام کریں گے یا انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے لئے خود پرواز کرنا ہوگی؟ چند سال پہلے رائیونڈ محل سے محترمہ تہمینہ شہباز شریف نے نہ صرف علم بغاوت بلند کیا تھا بلکہ انہوں نے حمزہ شہباز شریف کی سیاسی تربیت کا بیڑا بھی اٹھالیا تھا اب محترمہ تہمینہ شہباز کا موقف درست ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اگر اب بھی شہباز شریف نے بڑے بھائی کی امامت میں ہی اپنی سیاسی نماز پڑھنے کی نیت باندھے رکھی تو یہ بات یقینی ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کی بھی سیاسی نماز پڑھی جائے گی اور مستقبل میں اگر مریم صفدر کو کبھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنا نصیب ہوا تو میاں شہباز شریف کے لئے وزارت اعلیٰ کی کرسی بھی خالی نہیں ملے گی۔

چونکہ گزشتہ چند سالوں میں کیپٹن صفدر محترمہ مریم صفدر کو اپنی وفاؤں کا یقین دلانے میں کامیاب دیکھے گئے ہیں اور کیپٹن صفدر پنجاب میں مریم صفدر کے لئے عثمان بزدار ہی سمجھے جاتے ہیں۔ لہذا اب میاں شہباز شریف کو اپنی سیاسی بقا کے لئے یہ طے کرنا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا ہم خیال گروپ لے کر کب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محو پرواز ہوتے ہیں میاں شہباز شریف کے ہم خیال لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ جرات کرکے اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر بن جائیں تو نہ صرف ان کی اپنی مشکلات ختم ہوجائیں گی بلکہ وہ اپنے بڑے بھائی کے لئے بھی آسانیاں پیدا کرنے میں کارگر ثابت ہوں گے۔

میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان مل کر ایک مضبوط نئی مسلم لیگ (ن) قائم کرسکتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات بھی استوار کرسکتی ہے اور یہ دونوں رہنما یہ بھی پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ میاں نواز شریف اور مریم نواز اپنے چند نادان مشیروں کے کہنے پر زہر اگل چکے ہیں اس کی پاداش میں مستقبل قریب میں ان کے اقتدار کا سورج طلوع ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

لہذا مولانا فضل الرحمن بھی چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہی ”بندے“ تصور کیے جاتے ہیں اس لئے جانے انجانے میں انہوں نے دھرنے کا جو کام شروع کیا ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ بھی اسٹیبلشمنٹ کو ہی ہوا ہے یہ کام جو کئی سالوں سے نہیں ہو پا رہا تھا لیکن مولانا کی کرامت سے یہ کام آسان ہوگیا ہے اور اگر اس کے باوجود میاں شہباز شریف پہلے والی تنخواہ پر ہی کام کرنا پسند کریں گے تو پھر ان کی سیاسی زندگی کے بھی یہ آخری ایام ہوں گے البتہ نئی پرواز کے ذریعے وہ بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں اورمولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا ”روڈ میپ“ اسلام آباد ہائیکورٹ میں طے ہونے کا امکان ہے جو دھرنا روک پٹیشن کی سماعت 16 اکتوبر کو کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 52 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat