ہراموش اور نانگا پربت کے جنگل روتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ جولائی 1975 ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔ ساجد میرے بہت ہی قریب تھا اور عمر میں بڑا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ میری گہری دوستی بھی تھی۔ حادثے میں وہ بری طرح جھلس گیا تھا اور اسے ایک خصوصی ٹینٹ میں رکھا گیا تھا۔ اس نے اس دنیا سے منہ موڑنے سے پہلے اپنی نرس کو کہا تھا کہ میرے بھائی جان ان دنوں یورپ میں آوارہ گردی کر رہے ہیں۔

ان کو جب میرے بارے میں معلوم ہو گا تو بے حد دکھ ہو گا۔ پرائے دیس میں اگر خدانخواستہ کسی کو یک دم اپنے کسی نوجوان عزیز کی موت کی خبر ملتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔ مت پوچھئے مت پوچھئے کیا گزرتی ہے۔ نہ میں رویا نہ میں نے کچھ چیخ وپکار کی۔ حنوط سا ہو گیا۔ آوازیں مدھم ہو گئیں۔ آنکھیں ایک صحرائی لکڑی کی مانند خشک، ایک آنسو تک نہ بہا، دکھائی بھی کم دینے لگا۔ جپسی میری دوست مجھے ڈھارس دیتی۔ وہ ساجد سے پاکستان میں مل چکی تھی لیکن ڈھارس انگریزی میں نہیں دی جاتی۔

غم کی شدت کا اظہار صرف اپنی زبان میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم سوری کہہ دینے سے بات نہیں بنتی۔ کوئی نہ تھا جس کے گلے لگ کر میں روتا۔ برن کے درمیان میں دریائے رہون بہتا ہے اور اس کے کناروں پر قدیم اشجار کا ایک جھنڈ ہے۔ میں پل سے نیچے اتر کر اس جھنڈ کی تنہائی میں گیا ایک پرانے شجر کے تنے کے گرد باہیں حائل کر کے اس کی بوڑھی لکڑی پر چہرہ رکھ کر میں بے اختیار رونے لگا۔ بہت چپکے چپکے تاکہ کوئی سن نہ لے سسکیاں قابو کر کے جیسے دو بلیاں روتی ہیں، جن کے بچے مر جاتے ہیں۔

میں اتنا رویا کہ درخت کا تنا گیلا ہو گیا اور میں اس بڑے دکھ کو سہارنے کے قابل ہو گیا۔ میں ایک شجر کے ساتھ لپٹ کر رویا، مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ بھی میرے دکھ میں شریک ہو گیا۔ خدا کرے کہ وہ شجر اب بھی وہاں موجود ہو اور وہ ہو گا کہ وہاں کے لوگ درختوں سے محبت کرنے والے ہیں۔ ہماری طرح ذاتی فائدے کے لئے ہر وقت کلہاڑے لئے نہیں پھرتے۔ دراصل پچھلے دنوں چند کوہ نوردوں نے مجھے خبر کی کہ فیئری میڈو سے آگے نانگا پربت کے سائے میں بیال کیمپ کے علاقے میں قدیم شجر بڑی کثرت سے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔

غیر قانونی طور پر کاٹ کر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ فیئری میڈو پریوں کی چراگاہ گنجی ہو رہی ہے۔ دنیا کے سب سے حیرت انگیز اور خوبصورت ترین منظر کے چہرے کلہاڑوں کی زد میں ہیں۔ اسی طور ہراموش کی ناقابل فراموش وادی میں بھی درختوں کا قتل عام جاری ہے۔ کچھ برس پیشتر جب میں اپنی کوہ نورد ٹیم کے ہمراہ ہراموش گیا تو اپنی آنکھوں سے قدیم اشجار کے لاشے دیکھے۔ عجیب بات ہے کہ حساس لوگ جب کبھی شمال میں کہیں بھی قدرتی مناظر کے حسن کو بگاڑا جاتا ہے مجھ سے شکائت کرتے ہیں۔

تارڑ صاحب کچھ کریں اور میں کیا کر سکتا ہوں۔ نہ میرے پاس کوئی اختیار نہ اقتدار، صرف ایک قلم اور کانپتے ہاتھ، میں جانتاہوں کہ جنگل یونہی نہیں کٹ جاتے۔ درخت اگر ہلاک کیے جاتے ہیں تو کہیں نہ کہیں کسی صاحب اختیار و اقتدار کی پشت پناہی ہوتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ضیاء الحق کے زمانے میں کاغان کے بہت سے جنگل ایک مرکزی وزیر کی ہوس کا شکار ہوئے یہ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے جب وادی سوات میں شدید قسم کے سیلاب اترا اور پل قصبے اور آبادیاں بہا لے گیا۔

سب جانتے ہیں کہ بلندیوں پر بارشوں کے پانیوں کو روکنے والے جنگل صاحبان اقتدار کی ملی بھگت سے نابود کر دیے گئے یہ کروڑوں اربوں کے معاملے تھے اور پھر کہا گیا کہ یہ سیلاب تو عذاب الٰہی تھے۔ جب جنگل نہ رہے تو پانیوں کے دھاروں کو کون روکتا۔ صلاح الدین محمود کہا کرتے تھے کہ قدیم آبائی جنگلوں میں انسانی تہذیب کی روح بسیرا کرتی ہے۔ آپ اگر انہیں کاٹیں گے تو گویا اپنی تہذیب کو ہلاک کریں گے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں جی ٹی روڈ کو وسیع کیا جا رہا تھا، لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے میں نے روات کے قریب دیکھا کہ سڑک کو چوڑا کرنے کی خاطر چند پرانے برگد کے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔

میں نے تقریباً ہر سویر صبح کی نشریات میں ان بزرگوں کو ہلاک کرنے پر احتجاج کیا۔ درختوں کی جذباتی مذہبی اور رومانوی حیثیت کو اجاگر کیا۔ برگد نہ ہوتے تو مہاتما بدھ کو گیان کہاں حاصل ہوتا۔ میاں محمد بخش شرینہہ کے شجر کو اداسی کا روپ کہاں دیتے کہ ’وچھڑ گیاں دی کی اے نشانی۔ جیویں ڈیگر رنگ شرینہاں۔ جو اپنے محبوب سے بچھڑ جاتے ہیں ان کے رنگ پیلے پڑ جاتے ہیں جیسے سرشام شرنی سرینہہ کے پتے سورج کی کرنوں سے زرد ہو جاتے ہیں۔

اگر شیشم کے درخت نہ ہوتے تو گوجریاں کہاں اپنے جھولے جھولتیں۔ اچیاں لمیاں ٹاہلیاں تے وچ گجری دی پینگ وے ماہیا۔ انیس احمد کیسے لکھتے کہ: سایہ جو نظر میں ہے فصیل شہر سے باہر کنار ِدشتِ وحشت ہے امید کا شجر تنہا پچھلے دنوں نامور فکشن رائٹر خالد فتح محمد کا ایک شاندار افسانہ ”خلا“ پڑھا جس میں مرکزی کردار املی کے ایک درخت کا تھا۔ میں نے بھی بھٹو کی پھانسی پر ”درخت“ نام سے ایک افسانہ لکھا تھا اور زیر عتاب آیا تھا۔

وادی ہراموش اور فیئری میڈو کے بیال کیمپ کے جنگل روتے ہیں۔ کیا ہم تک ان کی آہ وزاری نہیں پہنچ رہی۔ ہم تک تو قصور اور چونیاں کے معصوموں کے قتل کی خبر تک نہیں آتی۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ماشاء اللہ ٹیلی ویژن پر جو سینئر تجزیہ نگار ملکی حالات کے بارے میں موشگافیاں کرتے رہتے ہیں جب ان تک بھی ان بچوں کی آبرو ریزی اور بہیمانہ قتل کی اطلاع تک نہیں پہنچی اور وہ فضل الرحمن کی آزادی مارچ کے بارے میں پیش گوئیاں فرما رہے ہیں۔

پھر درختوں کی آہیں کون سنتا ہے۔ نظمیں تو مجھ ایسے بیوقوف بھی بنا لیتے ہیں جب کہ درخت صرف خدا بنا سکتا ہے۔ وادی پراموش اور فیئری میڈ کے جنگل روتے ہیں ان کی پکار پر دھیان کیجیے ورنہ بعد میں ایک اور مجید امجد کہاں سے لائیں گے جو ”توسیع شہر“ ایسی لازوال نوحہ نظم لکھے گا: بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار گھنے‘ سہانے چھاؤں چھڑکتے بور لدے چھتنار بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 177 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar