مولانا اکتوبر ہی میں مارچ پر بضد کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کے اہداف اور طریقہ کار کے خلاف بے تحاشہ دلائل سوچے جاسکتے ہیں۔ان کی اکثریت بہت معقول بھی سنائی دے گی۔ خدا کا واسط دیتے ہوئے مگر التجا کروں گا کہ یہ دلیل نہ گھڑیں کہ مذکورہ مارچ یا دھرنے کا اصل مقصد مقبوضہ کشمیر پر 5 اگست 2019سے نازل ہوئی اذیت سے توجہ ہٹانا ہے۔منافقت کے موسم میں بھی تھوڑے سچ کی گنجائش ہمیشہ موجودرہتی ہے اور تلخ حقیقت ہے تو فقط اتنی کہ بحیثیت قوم ہم 5 اگست 2019کے بعد سے اپنی ’’شہ رگ‘‘ کے تحفظ کے لئے مؤثر آواز بلند نہ کر پائے۔

ہماری پارلیمان کا اس ضمن میں فقط دو دن کے لئے ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران ہمارے مابین اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم جس انداز میں عیاں ہوئی اسے یاد کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کے لئے ہر جمعہ کے روز گھروں سے باہر آنے کا اعلان بھی ہوا تھا۔اس اعلان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہوپایا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر ہوئی۔مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوا کمیونی کیشن لاک ڈائون اس تقریر کے چار اہم نکات میںسے ایک تھا۔موسموں کی خوفناک تبدیلی، منی لانڈرنگ اور مغرب میں پھیلی اسلام دشمنی کے بعد لاک ڈائون کا تذکرہ ہوا تھا۔

80 لاکھ کشمیریوں پر جو قیامت نازل ہوئی ہے اسے نام نہاد ’’عالمی ضمیر‘‘ کے روبرو بنیادی طورپر بھارت کے وہ صحافی لائے جنہوں نے ’’غداری‘‘ کی تہمت کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے خرچے پر مقبوضہ وادی کے دورے کئے اور وہاں کے حالات کو ا نٹرنیٹ پر چلائے اخبارات اور جرائد کی بدولت دُنیا کے سامنے لائے۔بی بی سی اور الجزیرہ نے بروقت فوٹیج حاصل کیں۔انہیں دُنیا کو دکھایا۔ان سب کے علاوہ اہم ترین کردار کشمیر سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں نے ادا کیا۔’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں کئی ایسے مضامین شائع ہوئے جسے کل کے مورخ حوالوں کے لئے استعمال کریں گے۔کشمیری لکھاریوں کے لکھے ان مضامین نے امریکی پارلیمان کے کئی اہم اراکین کو متحرک کیا۔انہوں نے امریکی صدر کو خط لکھے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک اہم عہدے دار ایلس ویلز شاید ان کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے ذکر کو مجبورہوئی۔

بنیادی طورپر امریکی دبائو کے نتیجے میں پیر کی دوپہر سے مقبوضہ کشمیر میں موبائل فونز جزوی طورپر کھول دئیے جائیں گے۔انٹرنیٹ تک رسائی مگر اب بھی میسر نہیں ہوگی۔ ’’نالے لمبی تے نالے کالی‘‘ سردیوں کی راتیں اب مقبوضہ کشمیر پر اُترنا شروع ہوگئی ہیں۔ امید کی کرن پھوٹنے میں بہت عرصہ لگے گا۔

دریں اثناء ہمارے حکمرانوں کو فکر یہ لاحق ہوچکی ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں صلح کے راستے ڈھونڈے جائیں۔ شاید اس ’’صلح‘‘ کو ممکن بنانے کے لئے امریکی صدر نے تین ہزار تازہ دم فوجی سعودی عرب بھیج دئیے ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل مختلف ٹویٹس کے ذریعے اسی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری ’’مضحکہ خیز‘‘ مگر مسلسل جاری جنگوں میں حصہ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کی دانست میں یہ جنگیں بنیادی طورپر ’’قبائلی‘‘ نفرتوں کی بنیاد پر جاری ہیں۔امریکہ کو کسی ایک فریق کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے وسائل ضائع نہیں کر نا چاہیے۔

یہ اعلان کرنے کے بعد اس نے ترکی کو یہ حق بھی تفویض کردیا کہ وہ اپنی سرحد کو ’’محفوظ‘‘ بنانے کے لئے شام میں جو چاہے کرے۔شمال مشرقی شام کے شہروں میں کردجو گزشتہ 8 سالوں سے امریکی امداد ومعاونت کے ساتھ داعش کے خلاف ’’تخت یا تختہ‘‘ والی جنگ لڑرہے تھے اب ترکی کے رحم وکرم پر چھوڑدئیے گئے ہیں۔شاید ہمیں یاد نہ ہو مگر کرد بھی مسلمان ہی ہوتے ہیں۔صلاح الدین ایوبی بھی کردہی تھے۔ ان کے بارے میں ہمیں سوچنے کی فرصت نہیں۔یمن میں بھوک سے مرتے بچوں کا تذکرہ بھی ہمارے ہاں نہیں ہوتا۔کشمیر بھی بتدریج عالمی میڈیا کی توجہ سے محروم ہورہا ہے۔حتیٰ کہ ہمارا اپنا میڈیا بھی اب پوری توجہ مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ وجوہات اس توجہ کی یکسرمقامی ہیں۔ اس میں چسکہ فروشی کے بے پناہ امکانات ہیں۔ Ratings کی دوڑ میں نمبرون آنے کی خواہش کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

ایک دھرنا 2014 میں بھی ہوا تھا۔مجھ بدنصیب نے اپنے تئیں انتہائی غیر جانب دارانہ دیانت داری کے ساتھ اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔بارہامتنبہ کرتا رہا کہ اگر منتخب حکومتوں کو پارلیمان کو بے وقعت بناتے دھرنوں کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کا چلن متعارف ہوگیا تو پاکستان میں کسی حکومت کو بھی استحکام نصیب نہیں ہوپائے گا۔مجھ جیسے افراد کو ایسے دلائل بیان کرنے کی وجہ سے ’’لفافہ‘‘ پکارا گیا۔

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ۔ مارچ یا دھرنے کے خلاف بات کرتے ہوئے لہذا خوف آتا ہے۔اب کی بار دھرنے کے متمنی اس کے خلاف ہوئے میرے دلائل کو بھی ’’لفافہ‘‘ کا شاخسانہ قرار دیں گے۔صحافیوں کی ساکھ کو 2014کے ’’انقلابیوں‘‘ نے تباہ وبرباد کردیا تھا۔ یہ صحافی اگر اپنے کالموں کے ذریے اب مولانا فضل الرحمن کے مارچ یا دھرنے کی مخالفت میں ایمان دارانہ دلائل بھی پیش کریں گے تو قاری اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ ٹی وی سکرینوں کی ’’حق گوئی‘‘ تو عرصہ ہوا اپنی اصل ’’اوقات‘‘ دکھاچکی ہے۔ یوٹیوب کے ذریعے بتائے ’’سچ‘‘ کی محدودات بھی عیاں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

عمر کے آخری حصے میں ’’لفافہ‘‘ کی راحت سے محروم ہوا میں لفظ فروش ان دنوں بہت خواہش مند ہوں کہ دربار بنی گالہ تک کسی صورت رسائی نصیب ہوجائے۔ یہ میسر ہوتی تو بہت مہارت سے میں یہ چورن بیچ سکتا ہوں کہ نواز شریف کو جیل سے باہر نکال کر احتساب عدالت کے روبرو ایک اور کیس کے لئے پیش کرنا حکومت کے خلاف ایک ’’گہری سازش‘‘ تھی۔نواز شریف کی پیشی نے ان کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں کے لئے یہ گنجائش ہی باقی نہ رکھی کہ وہ خود کو مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے سے کسی نہ کسی صورت لاتعلق دکھائیں۔ سابق وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں مولانا کی حمایت کردی۔ایک لکیر کھینچ دی۔ بہتر ہوتا کہ نواز شریف کو عدالت لانے کے بجائے جیل ہی میں مزید تفتیش کی راہ نکالی جاتی۔

وہ عدالت نہ آتے تو ہمارے عوام کی اکثریت اس امر سے بے خبر رہتی کہ جمعرات کے روز ہوئی ملاقاتوں میں نواز شریف اپنے ’خونی رشتوں‘‘ کو مولانا کے اعلان کردہ مارچ یا لانگ مارچ کی بابت کیا بتارہے ہیں۔کیپٹن صفدر سچے ہیں یا شہباز شریف صاحب کی مدبرانہ سوچ کی تائید ہورہی ہے۔نواز شریف کی پیشی نے کنفیوژن کی جڑ اکھاڑدی ہے۔

اس کنفیوژن کے خاتمے کے بعد اب مسلم لیگ (نون) میں تقسیم کی خبریں ہیں۔اس ’’تقسیم‘‘ کو ’’اندر کی خبروں‘‘ کی بدولت عیاں کرنے والے مگر یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ جب یہ ’’تقسیم‘‘ نہیں تھی تب بھی خواجہ سعد رفیق،رانا ثناء اللہ اور شاہد خاقان عباسی کو اسکی بدولت کیا فائدہ ہوا؟ حمزہ شہباز شریف بھی بدستورجیل میں ہیں۔ ’’متحد‘‘ رہتے ہوئے بھی نون کے لاحقے والی مسلم لیگ اپنے ساتھیوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کرپائی تھی۔ ’’تقسیم‘‘ ہوکر مگر عمران حکومت کے کام بھی نہیں آپائے گی۔

ہماری حکمران اشرافیہ میں اس وقت جو کھینچا تانی جاری ہے اس کی اصل وجوہات اور کرداروں کا تعین کرنے کے لئے بہت مشاہدے اور تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے۔ٹھوس معلومات تک رسائی بھی درکار ہے۔واٹس ایپ اس ضمن میں کام نہیں آئے گا۔ ہم تو اب تک اس سوال کا جواب ہی حاصل نہیں کرپائے ہیں کہ مولانا بلھے شاہ کے مصرعہ والی ’’بھیناں تے بھرجائیاں‘‘ کے سمجھانے بجھانے کے باوجود اکتوبر2019 ہی میں اپنا مارچ یا دھرنا دینے پر بضد کیوں رہے۔’’بھیناں تے بھرجائیاں‘‘ انہیں ’’دسمبر‘‘ تک انتظار کا مشورہ کیوں دے رہی تھیں۔ ’’اکتوبر ہی کیوں؟‘‘ میری دانست میں مولانا کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کا ٹھوس تجزیہ کرنے کے لئے ایک کلیدی سوال ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈیں گے تو مستقبل کا زائچہ بنانے میں آسانی ہوگی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •