پارکنگ کے بڑھتے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ قبل پارکنگ کے بڑھتے مسائل پر چند گذارشات کیں تو کافی دوستوں نے دلچسپی بھی ظاہر کی اور سوالات بھی اٹھائے۔ کچھ احباب کا کہنا تھا کہ گنجان آبادی کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ساری دنیا کو ہے اور تمام بڑے شہروں میں اس طرح کے مسائل ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساری دنیا میں پارکنگ کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خصوصاً بڑے شہروں کے سٹی سینٹر اس کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی ام المسائل بھی بہرحال یہ بڑھتی آبادی ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی وجہ سے جو دوسرے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان کا تدارک نہ کیا جائے۔ اگر ایسے ہی مسائل کو صرف نظر کرتے رہے تو ایک دن پاکستان کی بے ہنگم ٹریفک اور پارکنگ کراچی کے کچرے سے بڑا مسئلہ بن جائے گی۔

میرے نزدیک وطن عزیز میں زیادہ تر مسائل دونوں ہاتھوں کی تالی کی طرح دو اطراف سے پیدا ہو رہے ہیں اور وہ ہیں حکومت اور عوام الناس۔ مسئلے کا حل بھی ان دونوں کی کوشش، تعاون اور اپنی اپنی ذمہ داری سمجھنے میں مضمر ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کی کہ پارکنگ کے مسائل ساری دنیا میں بڑھ رہے ہیں۔ خادم نیویارک، شکاگو، ٹورانٹو، لندن، فرینکفرٹ جیسے شہروں میں بھی یہ مسائل دیکھ چکا۔ لندن اب تک دیکھے گئے شہروں میں گنجان آباد شہر ہے، جہاں گاڑی چلاتے بھی اور ساتھ بیٹھے بھی باقاعدہ خوف آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا کوئی بھی شہر لندن جتنی گاڑیاں ہونے کے بعد موجودہ قوانین اور صورت حال کے ساتھ قابل رہائش رہ سکے گا؟ سب سے کم آباد اسلام آباد میں ہی پارکنگ کا مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہے اور کوئی بھی حکومت اس کا تدارک کرنے یا مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔

حکومتی سطح پر ٹریفک کا نظام ٹھیک کے لئے کرنے کے بیسیوں کام ہیں اور ہر ایک کام کے لئے ایک علیحدہ مضمون لکھا جاسکتا ہے۔ یہ باقاعدہ ایک سائنسی علم ہے اسی لئے جرمنی سمیت دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں ٹاون پلاننگ کے علاوہ صرف پارکنگ سسٹم پر پی ایچ ڈی تک کی تعلیم دی جا رہی اور ریسرچ کی جا رہی ہے۔

پہلے سے پارک شدہ گاڑیوں کے آگے پارک کرنا، پارکنگ کے لئے جگہ موجود ہوتے ہوئے ٹیڑھی کھڑی کرنا، سڑک کے درمیان گرین بیلٹ میں گاڑی پارک کر دینا، موڑ  پر گاڑی پارک کر دینا، ٹریفک کے بہاؤ کی مخالف سمت گاڑی کھڑی کرنا۔ ایسی چیزوں سے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پڑتا ہے۔
اب تک دنیا میں جو مختلف حل مسئلے سے نمٹنےکے لئے کئے جا رہے ہیں ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:

پارکنگ ٹکٹ: ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ پارکنگ کے جرمانوں سے حاصل ہوتا ہے۔ صرف لندن شہر روزانہ تمام اخراجات کے بعد ایک ملین پاونڈ پارکنگ کے جرمانوں سے کماتا ہے۔ ان کے شہری دوسرے جرمانوں کی طرح پارکنگ کے جرمانوں سے باقاعدہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ کچھ بھی ہو جائے پارکنگ کا جرمانہ ادا کئے ہی بنتی ہے۔

اول تو اسلام آباد سمیت پارکنگ کا علیحدہ محکمہ ہی قائم نہیں، اس سے بھی پہلے یہ محکمہ عمومی طور پر مقامی شہر ی حکومت کے ماتحت ہوتا ہے اور پچھلے ستر سالوں سے ہماری مقامی شہری حکومتوں کے حیثیت اور نظام ہی طے نہیں۔ پھر شہری کو سہولت دینے اور دفاع کا حق دینے کے لئے جسٹس آف پیس کے ماتحت عدالتیں قائم ہوتی ہیں جو موجود نہیں۔

کثیر منزلہ پارکنگ سینٹر: سٹی سینٹر میں زیادہ تر دفاتر کی موجودگی اور تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے پارکنگ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں وہاں کثیر منزلہ بلڈنگیں پارکنگ کے لئے مخصوص ہوتی ہیں جہاں ادائیگی کے بعد پارکنگ کی جاتی ہے۔ یہ ایک اچھا خاصا بزنس ہے جس سے نجی سرمایہ کار اچھا خاصا منافع کماتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے شہر کے ذیلی قوانین بنانے ہوں گے، سڑکوں پر مخصوص جگہوں پر پارکنگ کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ ذیلی قوانین (By Laws) بنانے ہوں گے۔

تعمیرات کی غلط اجازت: یہ فی ذاتہ بہت وسیع مضمون ہے جس پر کئی مضامین لکھے جاسکتے ہیں۔ اسلام آباد کے سینٹارس جیسے مال نے بھی ضرورت کے مطابق پارکنگ نہیں بنائی، جس دن سے ان سے سرکاری جگہ واپس لی گئی ہے پارکنگ کا مزید برا حال ہے۔
دوسرے شہروں کی مصروف سڑکوں پر دو تین مرلہ جگہ پر تین تین منزلوں کی کمرشل اجازت، جہاں سرکار اور دوکاندار دونوں ہی پارکنگ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ نتیجتاً سڑکوں پر پارکنگ کا دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔

یہ ایک بڑے لیکن نظرانداز شدہ مسئلے کی نشاندہی کی ایک ادنی کاوش ہے۔ اس پر باقاعدہ یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق، ماہرین کی طرف سے سفارشات، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور قانون ساز اسمبلیوں کی طرف سے قوانین اور بنیادی ڈھانچوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر اس کے متعلق پروگراموں سے عوام میں آگاہی بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن جھنڈے والی ہوٹر بجاتی گاڑیوں یا ڈرائیوروں کے رحم وکرم پر اشرافیہ کے لئے یہ مسائل کوئی حیثیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •