جموں کشمیر کی آزادی کا راستہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انیس سو اکتیس میں شروع ہونے والی شورش، شخصی حکومت کے خلاف عوامی ابھار کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ کشمیریوں کو ماسٹر عبد اللہ سے شیر کشمیر مل گیا۔ اس عوامی ابھار کے نتیجے میں پہلی سیاسی جماعت بن گئی۔ اسمبلی اور قانون سازی کے محدود اختیارات بھی ملے۔ یوں شخصی راج ویسا مطلق العنان نہ رہا جیسا 1931 کی شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی ابھار سے پہلے تھا۔ بنیادی فرق یہ تھا کہ عوام ملاوں اور روایتی مذہبی پیشواؤں کے چنگل سے نکل کر سیاسی قیادت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ سیاسی قیادت نے جب کثیر القومی اور کثیر المذہبی ریاست کے معروضی اور موضوعی حالات کا جائزہ لیا۔ تو سیکولرازم کو اپنی سسیاسی اساس بنایا۔

سیاسی حکمت عملی اور اجتماعی بڑھوتری کے فلسفے سے دو اہم دستاویزات نے جنم لیا۔ ایک 1944 میں نیشنل کانفرنس کی مفصل دستاویز “نیا کشمیر” اور دوسرا 1946 کا مزدور کسان کانفرنس کا “نظریہ آزاد کشمیر” تھا۔ نیا کشمیر ایک مستند ڈاکومنٹ تھا جس میں ڈوگرہ عہد کے جبر کے نتیجے میں عوامی محرومی کا سیاسی اور معاشی حل پیش کیا گیا تھا۔ نظریہ آزادکشمیر کو پنڈت پریم ناتھ بزاز نے بعد میں ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا۔ یہ دونوں ڈاکومنٹس اس لیے بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کہ عین اس وقت جب برصغیر میں بٹوارے کا شور و غل تھا۔ پنڈت بزاز اور شیخ عبداللہ نے جموں کشمیر کو متحد رکھنے کے لیے سوشلسٹ اور سیکولر جمہوری سیاسی بنیادوں کا پرچار کیا تا کہ کثیر المذہبی ریاست کو مذہبی بٹوارے کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جا سکے۔

اسی دوران برصغیر میں بٹوارے کی لہر چل پڑی۔ شخصی حکومت اور معاشی استحصال کے خلاف جموں کشمیر میں بیداری کی سیاسی لہر پر بھی اثر ہوا۔ شیخ عبداللہ اور اس کے سیاسی رفقا وادی کو مذہبی تقسیم کی لہر سے بچانے میں مصروف ہو گئے۔ جب کہ مظفرآباد پر قبائلی مسلح یلغار کے نتیجے میں پونچھ، راجوری اور جموں کے کچھ علاقوں کو سارے برصغیر کی طرح مذہبی جنونیت کی آگ میں دھکیل دیا گیا۔ جس کا منطقی انجام ہندو مسلم فساد اور دونوں اطراف سے گلے کاٹے جانے پر ہوا۔ اس مذہبی منافرت میں گھناونا کردار قبائلی مسلح یلغار نے ادا کیا لیکن مقامی سہولت کاری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ شیخ عبداللہ کے سیاسی قد کاٹھ نے ایک طرف تو وادی سے میر واعظ خاندان کی اجارہ داری ختم کر دی تھی تو دوسری طرف پونچھ، راجوری اور جموں میں اپنی سیاسی حمایت میں اضافہ کر لیا تھا۔ اس عوامی ابھار کو بجائے درست بیانیے پر منتج کرنے کے غلط فیصلے کیے گئے اور نتیجے کے طور پر برصغیر کی طرح ریاست جموں کشمیر بھی تقسیم ہو گئی۔

برصغیر کی تقسیم تو طے شدہ منصوبہ تھا اس لیے دونوں اطراف سے ہجرت کرنے والے ذہنی طور پر اپنے مستقبل کے لیے تیار تھے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ریاست جموں کشمیر کے عوام پر یہ غیر فطری تقسیم مسلط کی گئی تھی۔ اور کئی ہزار خاندان تقسیم ہو کر رہ گئے۔ جو وقت کے ساتھ ایک بحرانی کیفیت اختیار کرتے ہوئے انسانی المیہ بن گیے۔ اس انسانی المیے کی تفصیلات کے لیے کئی والیم پر مشتمل کتابوں کی ضرورت ہے۔ صرف اتنا عرض کرنا مقصد تھا۔ 47 کے غدر میں عوامی ابھار کو مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں درست تاریخی سمت دی جاتی تو ریاست جموں کشمیر میں قتل گاہوں کو سجنے سے روکا جا سکتا تھا اور تقسیم اور قبضے سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کے اثرات سے خطے کو بچایا جا سکتا تھا۔

انیس سو پینسٹھ کے ناکام آپریشن جبرالٹر اور معاہدہ تاشقند کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں سیاست کے نئے رجحانات سامنے آنا شروع ہوئے۔ جو 1985-86 تک ایک ترقی پسند جمہوری تحریک میں بدل چکے تھے۔ کہ اس دوران بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں انتخابی دھاندلی کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا۔ جو جموں کشمیر میں بیسویں صدی کا تیسرا بڑا عوامی ابھار تھا۔ اب کی بار آپریشن جبرالٹر کی نا کامی کا بدلہ لینے کی مکمل ترکیب تیار کی گئی تھی۔ اور آزاد کشمیر میں جوان ہوتی ہوئی قومی آزادی، سیکولرازم اور ترقی پسندی کی لہر کو روکنا بھی مقصود تھا۔ لہذا قوم پرستی کا کندھا استعمال کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وادی کشمیر کے عوامی ابھار کو مسلح مزاحمت میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسلح مزاحمت اتنی طاقتور تھی کہ بھارت بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔

مسلح شورش برپا کرنے والوں نے روایتی مذہبی ہتھکنڈے استعمال کیے اور قوم پرستوں کے مقابلے میں کئی درجن مسلح گروپ اسلامی بنیاد پرستی کے نام پر لانچ کر دیے۔ پنڈتوں پر حملے ان کی کشمیر بدری سے لے کر حریت کانفرنس کے قیام تک صرف اسی سوچ کو پروان چڑھایا گیا جس کے تحت 1947 میں برصغیر کی تقسیم ہوئی تھی۔ جموں،  لداخ اور پیر پنجال کو عملی طور پر مزاحمتی کردار سے باہر نکال دیا گیا۔ حتی کہ حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر برانچ میں بھی آزاد کشمیر کے مقامی لوگوں پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 1988 کے تیسرے عوامی ابھار کے وقت آزاد کشمیر کی ترقی پسند سیاسی قیادت نے کھل کر اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ بغیر سیاسی تربیت کے سری نگر کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں مستعار لی ہوئی بندوق تھمانے کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔

نو گیارہ کے نیو یارک حملوں نے دنیا کی سیاست تبدیل کر دی اور اس کا براہ راست متاثرہ فریق  جموں کشمیر کا یرغمال بنایا ہوا عوامی ابھار بھی ہوا۔ اس لیے کہ حریت کانفرنس کی ساخت اس طرح کی تھی کہ جموں، لداخ اور پیر پنجال سے سیاسی حمایت ملنا ناممکن تھی اور آزادکشمیر سے سیاسی بیانات اقتداری سیاست کی مجبوری تھی۔

دوہزار دس میں وادی میں ایک اور غیر مسلح مزاحمت شروع ہوئی لیکن ایک بار پھر مذہبی اور گروہی مفادات اسے ریاست گیر تحریک میں بدلنے میں ناکام رہے۔ لیکن ایک ریاست کے مفادات کو تقویت دینے کے لیے مقبول بٹ کے مقابلے میں وادی میں کئی کرداروں کو پروان چڑھایا گیا۔

اگست 2019 میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی آڑ میں کرفیو، سیاسی نظربندی اور کمیونیکیشن بلاکیڈ کا جو غیر انسانی کھیل شروع کیا تو سب سے پہلے ہمیشہ کی طرح آزادکشمیر کے عوام سڑکوں پر نکلے۔ اب کی بار آزادی پسند اس عوامی ابھار کی قیادت کر رہے ہیں۔ 26 اگست کو آزاد کشمیر کی عوام نے روایتی سیاست دانوں اور سرکاری بیانیے کو رد کرتے ہوئے مکمل آزادی اور جمہوری اقدار کی بات کرنے والے بیانیے کو اپنایا۔ جس کا دوسرا اظہار 7 ستمبر کو راولاکوٹ سے شروع ہونے والے مظاہرے میں ہوا جو ہجیرہ میں پہنچ کر عوامی بغاوت کا روپ دھار چکا تھا۔ 4 اکتوبر کو بھمبر سے چکوٹھی آزادی مارچ کو بھی بڑی سطح پر عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اور چناری کے مقام پر دھرنا بدستور جاری ہے۔

اس موجودہ عوامی ابھار میں آزادی پسندوں کے بیانیے کو تقویت مل رہی ہے کہ سرینگر اور جموں کی آزادی کے لئے مظفر آباد کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ اس بیانیے کی مقبولیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود وزیر اعظم آزاد کشمیر بھی دبے لفظوں میں اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ 21 اکتوبر کو آزادی پسند مظفرآباد کی آزادی، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر پر مشتمل بااختیار آئین ساز اسمبلی کے قیام اور مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی ترجمانی مظفرآباد حکومت سے کروانے کے مطالبے کو لیے مظفر آباد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب جموں کشمیر کے بھارتی زیر قبضہ علاقوں میں انسانی زندگی تاریخ کے بد ترین جبر سے گزر رہی ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت آزادی پسند قیادت پر دو ماہ میں متعدد بار اعتماد کر چکی ہے۔ ساتھ ہی آزادی پسندوں کے بیانیے کو روکنے کے لئے محلاتی سازشیں بھی جاری ہیں۔ اس ساری صورت احوال میں چکوٹھی میں بیٹھے ہوئے اور مظفر آباد جانے والے آزادی پسند کیا کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر سکتے ہیں کہ اس عوامی ابھار کو تاریخی حقیقتوں اور سیاسی تجزیے کی روشنی میں درست سمت دی جا سکے؟ اور دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے دو ملین کے لگ بھگ کشمیری باشندے کیا کوئی ایسا پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں کہ اس عوامی ابھار کی موثر ترجمانی کی جا سکے؟

کیا مشکل کی اس گھڑی میں پیر پنجال اپنا تاریخی فریضہ ادا کر سکتا ہے؟ کیا آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکولر ترقی پسند ایک ایسے قابل قبول ڈاکومنٹ کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں کہ جموں اور لداخ کو سیاسی طور پر متحرک کیا جا سکے اور انہیں ماضی کی تلخیوں سے باہر نکالا جا سکے؟ ان سوالات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ برصغیر کو جنگ باز قوتوں کے نرغے سے مشترک طور پر آزاد کروایا جا سکے۔ 2019 کے عوامی ابھار نے امن پسندوں کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے۔ اب قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس عوامی ابھار کو خطے کے اجتماعی امن اور خوش حالی کی طرف لے جاتی ہے یا تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک کر نئی نسل کو خطے میں ایک نئی قتل گاہ کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •