وہ بیوی کو نیند کی گولی کی طرح استعمال کرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عورت کی قید، فطرت کا انکار ہے۔ میں گاوں میں رہتا ہوں۔ بشمول میرے قبیلے کے سب قبائل کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ کسی طرح اپنی عورتوں کو بڑی زنجیر ڈال کر بعد میں کھلی چھوٹ دی جائے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زنجیر کے بعد کھلی چھوٹ کیسی ہوتی ہے؟ دیہات میں جب فصل کی کٹائی ہوجاتی ہے اور اناج یا کپاس سمیٹ لی جاتی ہے تو آخر میں اس فصل کی جگہ پر بچی کچی فصل کی باقیات میں مویشوں کو چھوڑا جاتا ہے۔ کچھ مویشوں کے ساتھ چرواہے ہوتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اپنے جانور کو ایک بڑی زنجیر یا رسی ڈال کر باندھ جاتے ہیں جیسے وہ بندھا رہے اور زیادہ سے زیادہ حصے میں گھوم سکے اور چارہ کھا سکے۔

یہاں عورت کو کھلی آزادی ہے کہ وہ مویشیوں کو گھمانے لے جائے، چارہ کاٹ کر لائے، فصل کی بجائی، کٹائی، چنائی، سبزیوں کی کٹائی وغیرہ میں بامشقت زندگی گزارے اور مرد مویشیوں کو اور ان کا دودھ بیچ کر عیاشی کر سکیں لیکن یہاں کی عورت خواب نہیں دیکھ سکتی۔ آپ کیا سمجھ رہے ہیں کہ وہ آزادی مانگ رہی ہے ؟ نہیں بالکل نہیں ۔ وہ ابھی انسان سمجھے جانے کی جنگ لڑ رہی ہے آپ دور کی سوچتے ہیں۔ مرد کبھی کبھار ایک ہلکی کوالٹی کا کپڑے کا ایک تھان لے کر آتا ہے اور گھر میں پھیک کر کہتا ہے اپنے اور بچیوں کے کپڑے بنوا لینا۔ بس۔ وہ کبھی کھانے، پینے، پہننے، کی خواہش نہیں رکھ سکتی۔ اور تو اور درد ہونے پر آہ بھی نہیں بھر سکتی۔ آزادی تو اس کے لیے ایسا خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں۔

میرا تعلق پرولتاریہ طبقے سے تھا۔ انٹر تک میں بھی بکریاں گھمانے لےجایا کرتا تھا۔ وہاں ایک عورت بھی بکریاں لے کر آتی تھی۔ چھپ کر سگریٹ پیتی تھی جو کہ وہ عورت ہونے کی وجہ سے آسانی سے خرید نہیں سکتی تھی، تو میں اسے لا کے دیتا تھا۔ یوں ہماری دوستی ہوتی چلی گئی۔ ایسے ماحول چلتا رہا۔ مجھے انٹرویوز کا بہت شوق ہوتا تھا۔ اس سے میں نے ایک دن پوچھا، کہ کیسی ہو؟ کیا چاہتی ہو کہ دنیا کیسی ہو؟ اس نے کہا، میں اس معاشرے کی باندی ہوں۔ جہاں دنیا کا ناقابل معافی جرم پیار کا اظہار ہے۔ مجھے اظہار کی آزادی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں محبت پر غیرت سوار ہے۔ دیکھو! محبت ایک احساس ہے اور یہ ہر جاندار میں فطری طور پر ہوتا ہے۔ ہم جیسی عورتوں کے ساتھ یہ احساس جنم تو لیتا ہے لیکن بچپنے میں مر جاتا ہے یا ہم خود اس کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔ میرے لیے کوئی دن اہمیت نہیں رکھتا۔ میرے اندر اب جذبات زور نہیں مارتے۔ کیونکہ میں جب ہاتھ میں پھول لے کر اس کا گماں کرتی تھی، تو میرے کانوں میں چھری رگڑنے کی آواز پڑتی تھی۔ میرے گھر میں یہ نئی کلھاڑی پڑی ہوتی تھی۔ جس سے لکڑیاں کاٹنا ممنوع تھا۔ کبھی کوئی گھر کا مرد غیظ و غضب میں آتا تو بھاگ کر کلھاڑی اٹھاتا تھا اور گردن اتارنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ خیر، جب بھی اس سے ملنے کا کوئی خواب میری آنکھوں میں جنم لیتا بھی تو اس کلھاڑی کی چمک مجھے نتائج کے بارے میں آگاہی دیتی۔ جب بھی اس کی دھار پر نظر ٹکتی تو۔ میرے ہاتھ اپنی گردن کے گرد لپٹ جایا کرتے۔ اور اس کے جینے کی دعا کیا کرتی تھی۔ کیونکہ، میں اس کے ساتھ مرنا تو چاہتی تھی لیکن ’’کاری‘‘ بن کر نہیں۔

اس بیچ میں وہ سگریٹ پہ سگریٹ پیتی رہی۔ اپنے منفرد انداز سے سگریٹ کا ٹوٹا پھینک کر کہا، میں تو یہ گماں ہی کر سکتی تھی کہ میں اس کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔ میں ہمیشہ کے لیے اس کی ہونا چاہتی تھی۔ میرا خواب تھا کہ ایسا کوئی سنسار ہو، جہاں ہم ساتھ ہوں۔ جہاں غیرت محبت پر سوار نہ ہو۔ جہاں اظہار کو کسی کلھاڑی کا خوف نہ ہو۔ جہاں کسی ناری کو کاری ہونے کا خوف نہ ہو۔ وہاں ہم ساتھ ہوں! اور وہ چپ ہو گئی۔

وہ اپنی سب روداد سنایا کرتی تھی لیکن اس نے اپنی شادی کے بارے میں ایک دن بتایا کہ میں جس بندے کے ساتھ نکاح میں ہوں، وہ انسان نہیں ہے۔ اس میں جذبات نہیں۔ نہ احساس ہے۔ بس ایک جانور ہے اسے بھوک لگتی ہے۔ بچے پیدا کرنا چاہتا ہے۔ چاہتا ہے کہ میرا کنبہ ہو۔ میری گردن کو ہاں میں ہِلا کر، انگوٹھے کو سیاہی لگا کر، سوشل ايگريمينٹ پہ مل کر، مجھے اس کے حوالے کیا گیا تھا۔ جیسے میں کوئی جنس تھی، اور وہ خریدار۔ اس نے میرے ساتھ ہوس کے کھیل کے ساتھ، وہ سب کچھ کیا۔ جو ایک زر خرید سے ممکن تھا۔ مجھے ہمیشہ اوروں سے خبر ہوتی کہ وہ میرے مجازی خدا ہے۔ میں اس کے رشتہء ازدواج میں ہوں. لیکن! سچ پوچھو تو! مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ میرے مجازی خدا ہیں۔ کیونکہ کوئی کسی کے پاس سماجی جبر کی وجہ سے قید ہو۔ وہ اس کے ساتھ زر خرید غلام کی طرح برتاؤ کرے۔ ہوس کا نشانہ بناتا رہے، بھلا وہ خدا ہوتا ہے کیا؟

اس نے سگریٹ کا کش لیا، اور دھواں ہوا میں چھوڑ کر بولی۔ محسوس تو احساس کرواتا ہے۔ اس نے میرے ساتھ سب تعلق رکھے، مگر کبھی احساس کا رشتہ نہیں رکھا! کبھی اس کا مجھ سے جذبات والا تعلق تھا ہی نہیں۔ وہ مجھے ہر رات نیند کی گولی کی طرح استعمال کرتا رہا۔ پتا ہے، اس کے الفاظ کلھاڑی کی طرح کاٹتے ہیں، جب وہ کہا کرتا ہے۔ ”کپڑے اتارو مجھے نیند نہیں آ رہی“۔ میں سماجی جبر کی وجہ سے مقید ہوں۔ ہمیشہ خود کو اس کے آگے بچھا دیتی ہوں۔ کچھ پَل کے بعد اسے تو نیند آجاتی تھی مگر میں پوری رات نہیں سو سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
لطیف ابراہیم کی دیگر تحریریں
لطیف ابراہیم کی دیگر تحریریں