مجرم کا سچ اور معاشرے کا جھوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بس جی میں نے سر کو گلے سے کاٹ کر پہلے تو پرانے اخبار میں اچھے طریقے سے لپیٹا پھر ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اوپر سے باندھ دیا، جسم کے ٹکڑے کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جلدی جلدی ٹکڑے کیے پھر ٹرنک میں پہلے دھڑ رکھا اس پر دونوں ہاتھ، دونوں بازو، دونوں ٹانگ اور دونوں ران سجادیئے۔ چینی تالے کی چابیاں ٹرنک میں ڈال کر ٹرنک میں تالا لگاکر دبا دیا

سوزوکی کیری میں سوٹ کیس رکھ کر بندے کا سر میں نے پچھلی سیٹ پہ رکھ لیا۔ ٹرنک کو لیاری ندی میں گرانا اتنا مشکل نہیں تھا۔ رات کے وقت کتّوں کے علاوہ کوئی نہیں بھونکتا ہے، پولیس ہو بھی تو پیدا گیری کے لئے ہوتی ہے جس کا انتظام کھلے نوٹوں کی شکل میں اوپر والی جیب میں ہوتا ہے۔ ویسے بھی صبح ہونے والی تھی اور اس وقت سب کو سخت گہری نیند آتی ہے۔ اس طرح کے کاموں کے لئے یہی صحیح وقت ہوتا ہے۔

صبح اٹھ کر میں نے پہلا کام یہ کیا کہ جاوید کے گھر جاکر جاوید کا سر اس کے باپ کو دیا کہ اسے ڈیپ فریزر میں رکھ لیں۔ بکرے کی سری ہے۔ دو چار دنوں میں لے جاؤں گا کسی کو دینی ہے۔

اس کے دوسرے دن میری گرفتاری ہوگئی۔ ہوا یہ کہ ابراہیم پکڑا گیا، ویسے تو ابراہیم بڑا تگڑا ہے مگر نہ جانے کیا کیا اسپیشل پولیس والوں نے کہ سالے نے سب ہگ دیا۔ پہلے انہوں نے نسیم کو اٹھایا پھر پپو کو پکڑلیا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ تینوں کدھر غائب ہیں کہیں سے کوئی خبر نہیں آئی نہ پولیس والوں کی طرف سے خبر ملی جیسے کہ پہلے مل جاتی تھی تو میں روپوش ہی ہوجاتا۔ سندھ کے کچے کے علاقوں میں اور بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں میں ہمارے دوستوں کے ٹھکانے ہیں، جہاں گم ہونے کے بعد کوئی نہیں ملتا ہے۔ پہلے بھی کئی دفعہ میں ان علاقوں میں جا چکا ہوں اور ہفتوں رہ چکا ہوں جب حالات سنبھل گئے تو واپس آگیا اور دوبارہ وہی کام۔ کام کی کوئی کمی نہیں ہے۔ آرڈر تو ملتے ہی رہتے ہیں۔ ”

یہ سب سن کر میری سانس پھول گئی اور مجھے لگا جیسے میں ہزاروں میل بھاگ کر آیا ہوں اور بری طرح سے تھک گیا ہوں مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ سچ کہہ رہا ہے مگر اس کا پراعتماد چہرا اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کی باتوں میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ اس کی چمکتی دمکتی آنکھیں اس کے چہرے پر پھیلا ہوا اعتماد اس کے سچے ہونے کا یقین دلارہی تھیں۔

میں سزائے موت کے خلاف ہوں۔ میرا خیال تھا کہ سزائے موت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ سزائے موت ریاستی دہشت گردی کا ایک حصہ ہے۔ سزائے موت ریاست کی ناکامی ہے اور اس ناکامی پہ پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

بہت سے لوگوں کے مختلف خیالات ہیں اس بارے میں۔ خون کا بدلہ خون، آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے اصولوں کے مطابق تو ان کی بات درست ہے مگر یہ بات درست نہیں ہے کہ اس قسم کی سزاؤں سے جرائم کم ہوجاتے ہیں یا لوگ جرم کرنا بند کردیتے ہیں۔ چوری، دھوکا، ڈاکا، قتل اور اس قسم کے جرم ان سزاؤں سے ختم ہوجاتے تو آج کا چین جرائم سے پاک ہوتا، وہاں نجانے کتنے لوگوں کو ہر سال پھانسی دی جاتی ہے اور سخت سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں سویڈن جیسے ملکوں میں سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ پھانسی کی سزا نہیں دی گئی ہے، قیدیوں پہ تشدد کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جرائم کم ہوتے جارہے ہیں، لوگوں کو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ کاش میں انہیں سمجھا سکتا۔

اس کا نام پرویز تھا اور اسے میرے پاس نفسیاتی معائنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کہ اس کے دماغ میں کوئی خرابی تو نہیں ہے اور وہ نفسیاتی بیماری کا شکار تو نہیں ہے، وہ پاگل تو نہیں ہے اور جو جرائم اس نے کیے ہیں وہ پاگل پن کا نتیجہ تو نہیں ہیں۔ اگر وہ پاگل ہے تو اسے علاج کی ضرورت ہے نہ کہ سزا کی۔

مگر یہ ہوا کہ پرویز کے آنے سے پہلے ہی مجھے مختلف لوگوں کے فون آنے لگے کہ ایک قیدی میرے پاس بھیجا جارہا ہے جو بے چارہ خوامخواہ گرفتار کرلیا گیا ہے اور پولیس والے اس کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں، اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اس کو مدد کی ضرورت ہے اس کے ساتھ نا انصافی نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔

جس دن سرکار کی جانب سے مجھے خط ملا اُس دن دو واقعات تقریباً ساتھ ساتھ ہی ہوئے۔ صبح ہسپتال پہنچتے ہی مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بلاکر سمجھایا کہ ایک قیدی پرویز میرے پاس بھیجا جائے گا اس کے بارے میں مناسب رپورٹ لکھ دیجئے گا۔ اوپر سے بہت دباؤ ہے۔ پولیس والے اس کے ساتھ زیادتی کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایسا ہی ہوگا۔ میں اسے تسلی سے دیکھوں گا، وقت دوں گا، جو بھی سچی بات ہے اس کے مطابق سچائی پر مبنی صحیح رپورٹ لکھوں گا کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

”یہی تو مسئلہ ہے۔ “ انہوں نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”صحیح رپورٹ ہی تو نہیں لکھنی ہے۔ وہ پاگل نہیں ہے اسے کسی بھی قسم کی نفسیاتی بیماری نہیں ہے۔ یہ اسے بھی پتہ ہے اور ان کو بھی پتہ ہے جو سفارشیں کررہے ہیں۔ اگر عدالت کو یہ احساس ہوگیا کہ ملزم پاگل نہیں ہے تو شاید اسے موت کی سزا ہوجائے گی۔ “

مگر میں غلط رپورٹ کیسے لکھ سکتا ہوں۔ یہ تو بنیادی اصولوں کے خلاف ہے میں نے انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا آپ کو پتہ ہے کہ میں ایسے کام نہیں کرتا ہوں اور کسی بھی ڈاکٹر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

”تو اسے موت کی سزا ہوجائے گی۔ “ انہوں نے بڑے سرد لہجے میں جواب دیا۔ ”اور مجھے پتہ ہے کہ تم موت کی سزا کے خلاف ہو۔ ہونا؟ اور اگر خلاف ہو تو تم کو وہی کرنا چاہیے جس سے اسے موت کی سزا نہ ہو۔

میں کوئی بھی وعدہ نہیں کرسکتا ہوں خاص طور پہ مریض کو دیکھے بغیر۔ میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کروں گا جو ایمانداری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ میں وہی کروں گا جو ہم ڈاکٹروں کے عہدنامے کے مطابق ہوگا اور جو ایمانداری کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کرے گا۔ میں نے صاف صاف کہہ دیا تھا۔

اپنی ترقی میں تم خود ہی حائل ہو ہمیشہ اپنے خلاف کام کرتے ہو۔ کچھ مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد مجھے میڈیکل کالج کے پرنسپل کا بھی فون آگیا۔ تم کبھی بھی ترقی نہیں کرسکوگے۔ زندگی بھر ایسوسی ایٹ پروفیسر کے پھٹے ہوئے جوتے میں لنگڑا لنگڑا کر چلتے رہوگے اور کوئی تمہارا جونیئر تم سے کہیں کم قابل تمہارا باس بن کر آجائے گا۔ انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔

مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صحت مند آدمی کو پاگل قرار دے دوں محض اس لئے کہ آپ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دوسرے لوگ کی یہ خواہش ہے۔ رہی بات یہ کہ میری ترقی رک جائے گی میں پروفیسر نہیں بن سکوں گا، باس نہیں بنوں گا۔ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ نہیں بن سکوں گا یہ باتیں بے کار کی ہیں کیونکہ ترقی سے زیادہ میرے لئے یہ اہم ہے کہ میری پیشہ ورانہ دیانت داری کا تقاضا کیا ہے۔ میں ڈاکٹر ہوں ڈاکو نہیں۔ میرے ماں باپ نے مجھے انسانیت کی تعلیم دی ہے انہوں نے مجھ سے محبت کی ہے اورلوگوں سے محبت کرنا سکھایا ہے۔ باقی چیزیں میرے لئے کوئی خاص اہم نہیں ہیں۔

”تم نہیں سمجھوگے انہوں نے تھوڑے غصے سے کہا تھا۔ اگر تمہیں اپنے اصول، دیانت اور ایتھی کل کندکٹ کا اتنا خیال تھا تو پاکستان کیوں واپس آئے ہو۔ انگلینڈ میں رہتے۔ اِس ملک میں رہنے کے اصول مختلف ہیں اور سرکاری ملازمت اس لئے نہیں کی جاتی ہے کہ دیانت داری کے مردہ گھوڑے پہ سواری کی جائے اور یہ سمجھا جائے کہ یہ مردہ گھوڑا تمھیں منزل مقصود پہ پہنچادے گا۔ نوکری، ترقی تو بعد کی باتیں ہیں اس ملک میں جانیں بھی چلی جاتی ہیں، لوگ غائب ہوجاتے ہیں ان کے گھر والوں کو ادھر ادھر کردیا جاتا ہے کچھ بھی لکھنے سے پہلے رپورٹ دینے سے پہلے یہ سب کچھ سمجھ لینا فون پہ اس سے زیادہ نہیں سمجھا سکتا ہوں۔ “ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کردیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •