فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، بلیک لسٹ اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 1989 میں جی-7 ممالک نے فنانشل ایکشن  ٹاسک فورس کے نام سے منی لانڈرنگ کے خلاف ٹاسک فورس قائم کی۔ جس کی ذمہ داری دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کی تکنیکون کو سمجھنا، ان کے خلاف کئے گئے اقدامات کا جائزہ لینا اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر ان اقدامات کو موثر بنانا شامل تھا۔ 1992 تک ٹاسک فورس کے ممبر ممالک کی تعداد 28 تک پہنچ گئی جو بعد ازاں 2000 میں 31 اور موجودہ ممبر ممالک کی تعداد 37 جب کہ دو علاقائی تنظیمیں، یورپین کمیشن اور گلف کو آپریشن کونسل، بھی بطور ممبر  شامل ہیں۔ اگرچہ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو موثر بنانا اور ان پر عملدرآمد کروانا تھا لیکن بعد ازاں 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملہ کے بعد اس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ٹیررفنانسنگ یعنی دہشت گردی کی مالی اعانت تک بڑھا دیا گیا۔ جس کے تحت ٹاسک فورس کو ایسا قانونی و انضباطی نظام وضع کر کے نافذ کروانا ہے جس سے عالمی مالیاتی نظام کومنی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ جیسے جرائم سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد فنانشل ٹاسک فورس کا دائرہ کار میں ورچوئل کرنسی کی مانیٹرنگ بھی شامل کر دی گئی ہے۔

منی لانڈرنگ کے خلاف موثر حکمت عملی اپنانے کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے چالیس سفارشات جب کہ  ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے نو شفارشات مرتب کی ہیں۔ جن کی روشنی میں تمام ممالک ایک معیاری وضع کردہ طریقہ ہائے کار کے مطابق ان جرائم کے خلاف موثر انداز میں کارروائی کرسکتے ہیں۔ یہ سفارشات دہشت گردی سے منسلک تنظیموں کے اثاثہ جات منجمند کرنے، دہشت گردی سے متعلقہ مشکوک ٹرانزیکشنز کی بابت معلومات کے تبادلے، لیگل فریم ورک، ملکی و غیر ملکی تعاون برائے تفتیش و قانونی کارروائی برخلاف ٹیرر فنانسنگ و منی لانڈرنگ، اداروں کی استعداد کار برائے انسداد ٹیررازم فنانسنگ و منی لانڈرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی وضع کردہ سفارشات اگرچہ کافی موثر ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کے لئے کوئی واضع اور موثر طریقہ کار نہ تھا۔ جس کے تحت مختلف ممالک کو ان سفارشات پر عمل درآمد پر مجبور کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے سال 2000 تک یہ ادارہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کافی حد تک ناکام رہا تھا۔

مختلف  ممالک کی  طرف  سے  ٹیرر فنانسنگ اور  منی لانڈرنگ  روکنے اور ان کے خلاف موثر اقدامات  و قانون سازی کرنے کے لحاظ سے فنانشل  ٹاسک فورس ممالک کی درجہ بندی کرتی ہے۔ سال 2000 سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اپنی مرتب کردہ سفارشات کی روشنی میں باقاعدگی سے ایک فہرست مرتب کر رہی ہے جس کو “ںان کوآپریٹو ممالک” کی فہرست کہا جاتا ہے اور اس فہرست میں وہ ممالک رکھے جاتے ہیں۔ جو کہ منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کے خلاف عالمی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تعاون نہ کریں۔ جس میں ان ممالک کی استعداد کار کا نہ ہونا، عالمی اداروں کو منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس و صارفین کا ریکارڈ مہیا نہ کرنا، یا ان کی ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے غیرسنجیدگی وغیرہ شامل ہیں۔ جو ممالک فہرست برائے “نان کوآپریٹو”  ممالک میں شامل کئے جاتے ہیں ان کو دو درجاتی فہرست  “بلیک لسٹ” اور ” گرے لسٹ ” میں رکھا جاتا ہے۔ جب کہ ” گرے لسٹ ” سے ” بلیک لسٹ ” میں شمولیت سے پہلے ” ڈارک گرے لسٹ ” میں شمولیت بطور آخری انتباہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان کافی عرصہ سے دہشت گردی کے خلاف موثر انداز میں نبرد آزما ہے۔ علاقائی و جغرافیائی کشمکش اور امریکہ افغان جنگ نے پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ مزید براں بلوچستان میں مبینہ بھارتی دہشت گرد کارروائیاں اور ٹیرر فنڈنگ کی وجہ سے پاکستان کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے جن پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے پاکستان کے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فنانشل ٹاسک فورس نے پاکستان کو 2008 میں اور 2012 سے 2015 تک “گرے لسٹ” ممالک کی فہرست میں رکھا اور بعد ازاں پاکستان کے موثر اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا نام اس لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ گرے لسٹ میں کسی ملک کی شمولیت عمومی طور پر کسی شدید معاشی تقصان پا معاشی پابندیوں کی وجہ نہیں بنتی جیسا کہ پاکستان نے 2013 میں گرے لسٹ میں ہونے کے باوجود آئی ایم ایف سے 6 بلین ڈالر جب کہ گلوبل ڈیبٹ مارکیٹ سے بھی فنڈنگ حاصل کی۔ لیکن گرے لسٹ میں کسی ملک کا اندراج ایک وارننگ ضرور ہے اور اس وارننگ کو سنجیدہ اور مربوط کوششوں کے ذریعے زائل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا نقصان عمومی طور پر ملکی معاشی و تجارتی اداروں اور خصوصی طور پر بینکوں کو ہوتا ہے۔ ملکی تجارت کے معاملات کے لئے لیٹر آف کریڈٹ، ترسیلات زر برائے درآمدات و برآمدات اور تفصیلی دستاویزات کی وجہ سے پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

اور اگر کوئی ملک “گرے لسٹ” میں شامل ہونے کے باوجود ٹیررازم فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف موثر اور مربوط حکمت عملی نہیں اپناتا تو اسی کو ابتدائی طور پر “ڈارک گرے لسٹ” جو کہ سخت ترین یا آخری وارننگ کہلائی جا سکتی ہے اور بعد ازاں “بلیک لسٹ” میں شامل کر دیا جاتا ہے۔  جس کے بعد عالمی ممالک اور  مالیاتی ادارے اس ملک پر معاشی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں جس سے معیشیت زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، گرے اور بلیک لسٹ میں طے شدہ اصول و ضوابط اور ممبر ممالک کی سفارشات کی روشنی میں تبدیلی کرتی رہتی ہے اور حالیہ “بلیک لسٹ” میں صرف دو ملک “ایران اور شمالی کوریا” شامل ہیں۔

بلیک لسٹ اپنی افادیت کے اعتبار سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی مرتب کردہ انچاس سفارشات سے زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے۔ اور عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔ کیونکہ “بلیک لسٹ” میں شمولیت کے بعد عالمی مالیاتی ادارے جسیے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، اور یورپی یونین وغیرہ مالیاتی طور پر تعاون سے گریز کرتے ہیں اور “بلیک لسٹ” میں درج کردہ ملک معاشی و تجارتی لحاظ سے کسی حد تک عالمی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔  پاکستان نے ٹیررازم فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے موثر اقدامات اٹھائے ہیں جس وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کا نام “گرے لسٹ” سے نکال دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کے مطابق پچھلے آٹھ ماہ میں پاکستانی حکومت نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی چھتیس میں سے نو سفارشات پر مکمل جب کہ ستائیس پر جزوی عمل درآمد کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا اقدامات اور دوست ممالک کی سفارتی مدد سے پاکستان کے “گرے” سے “ڈارک گرے” یا “بلیک لسٹ” میں جانے کے امکانات تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ تا ہم “گرے لسٹ” سے نکلنے کے امکانات فی الحال نہیں ہیں اور اس کے لئے پاکستان کو مزید سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •