خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا


صوفیوں، جوگیوں، بابوں اور بیراگیوں کی محبتوں سے معطر وادیٕ سندھ کی سرزمیں ایک مرتبہ پھر محنت کشوں کے خون ناحق سے رنگین ہو گئی۔ احترام انسانیت کی قبا سر عام چاک ہوئی۔ لہو رنگ مظلوم کی پوشاک ہوئی، یہ زمین پھر ”غداروں“ سے پاک ہوئی اور تین جواں مرگوں کی بھرپور جوانی رزق خاک ہوئی۔ ایک دوست نے جب یہ خونیں ویڈیو دکھائی تو کیفے میں بیٹھے چائے نوش کر رہا تھا۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد مجھے چائے کی پیالی میں بھی مظلوم ٹرک ڈرائیوروں کا بہتا ابلتا لہو ہی نظر آیا، سو اس کے بعد چائے کی چسکیاں نہیں بس سسکیاں ہی سسکیاں تھیں۔

چار پانچ دن سے کراچی میں پاک آرمی کے زیر انتظام تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او اور ٹرک و ٹریلرز کے ڈرائیوروں کے مابین لوڈنگ کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا جو آخر کار تین جوان زندگیوں کے بہیمانہ و سفاکانہ خاتمے پر منتج ہوا۔ جن ڈرائیوروں نے ٹرکوں پر بے تحاشا بوجھ لاد کر اتنی دیر سے کھڑے رہنے کی شکایت کی انہیں اس گستاخی پر زندگی کے بوجھ سے ہی نجات دے دی گئی۔ کیسا انصاف کیا، عدل کی کیا ہی شاندار مثال قائم کی۔

نہ مقدمہ، نہ وکیل، نہ عدالت، نہ ثبوت، نہ گواہ، نہ جرح، نہ بحث، نہ تاریخ پہ تاریخ نہ سماعتوں کا جھنجھٹ اور نہ فیصلہ محفوظ کرنے اور سنانے کا سیاپا۔ موقعے پر مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کی اس سے پہلے بھی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ چند ہی برس پہلے اسی شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سرزمین پر وطن کے انہیں محافظوں نے اپنے سامنے ہاتھ جوڑے گڑگڑاتے، منتے ترلے کرتے سرفراز نامی نوجوان کو گولیوں سے چھلنی کر کے موقعے پر انصاف کی اعلٰی مثال قائم کی تھی۔ کار سرکار میں مداخلت کرنے کی سزا تو یہی بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ جناب صدر نے ملک کے وسیع تر مفاد میں رینجرز کے ان سپوتوں کی سزا معاف کر کے حب الوطنی اور غیرت و حمیت کی بہترین مثال قائم کی تھی۔

اب نہتے ٹرک و ٹریلہ ڈرائیوروں پر جس طرح بہادری سے سیدھی فائرنگ کر کے انہیں قید حیات اور بند غم سے نجات دلائی گئی اور جس طرح ٹرک کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ”بزدل“ ڈرائیور کو ہمارے عقاب کی نگاہ اور چیتے کا جگر رکھنے والے دلاوروں نے نشانہ بازی کا ہدف بنایا اسے دیکھ کر تو انڈین آرمی چیف، کشمیر میں ظلم ڈھاتی بھارتی افواج اور مودی سرکار کی خوف سے ٹانگیں کانپ رہی ہوں گی۔ ٹرک کے نیچے اور سڑک پر بہتا نوجوان کا خون دیکھ کر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کر کے کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر نہایت ذمہ داری اور مثالی حب الوطنی کا مظاہرہ تو ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کیا۔ قومی وقار اور ملکی مفاد کا تقاضا ہی یہ تھا کہ اس واقعے کی ہوا بھی کسی کو نہ لگنے دی جائے ہاں البتہ کسی ملک دشمن اور غدار سیاستدان کے خلاف شرع کھانسنے کی گمراہ کن خبر ہوتی تو اسے پاتال سے بھی نکال کر مشتہر کیا جاتا اور گھنٹوں ملکی وقار بلند کیا جاتا۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہوئی وزیر اعلٰی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی اور آئی جی صاحب کو اس سانحے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

اس پر راقم کو ساہیوال میں پیش آنے والا خونیں واقعہ یاد آ گیا ہے، جب وزیراعظم صاحب نے غیر ملکی دورے سے واپس آتے ہی مجرموں سزا اور مقتولین کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کا یقین دلایا تھا۔ پھر سب نے دیکھا کہ درجنوں گولیوں کا نشانہ بننے والے بابا اور ماما کی ننھی پریاں خون آلودہ قباٶں، چھلنی دلوں اور گھائل روحوں کے ساتھ حکمرانوں کے محلات اور عدل و انصاف کے ایوانوں کے باہر دہائیاں دیتی رہیں مگر محلوں اور عدل کے ایوانوں کی فصیلیں بلند و بالا اور ساٶنڈ پروف ہوتی ہیں۔ قاتلوں کے خلاف گواہ نہیں ملے سو انہیں با عزت رہا کر دیا گیا اور ننھی پریاں انصاف کے لیے آسمان سے خدا کے اترنے کی منتظرہیں۔ شہیدان کراچی کا خون بھی رزق خاک ہوا ہی سمجھیے۔

Facebook Comments HS