قدرت اللہ شہاب کا اسکول شاہراہ ترقی پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گلگت گھڑی باغ بازار سے لے کر جامع مسجد اہل سنت تک، گو کہ چند سو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن اس مخصوص اور چھوٹے مقام کے درمیان موجود تقریباً تمام مقامات اپنی ایک تاریخی اہمیت اور حیثیت رکھتے ہیں۔ گلگت تحصیل دفتر بھی اس مقام پر موجود ہے، جس کے ریکارڈ جلنے کی وجہ سے کئی لوگ بام عروج پر پہنچ گئے۔ جامع مسجد اہل سنت اس علاقے کی پہلی بڑی باقاعدہ مسجد شمار کی جاتی ہے، جو ایک زمانے میں مشترک مسجد ہوا کرتی تھی۔ گلگت پوسٹ آفس بھی ان دونوں مقامات کے وسط میں موجود ہے جو ایک قدیم زمانے میں بغیر جج کے عدالت کی حیثیت رکھتی تھی اور لوگ چھوٹے موٹے تنازعوں کا حل اسی جگہ پر آ کر کیا کرتے تھے۔ اسی مقام پر طالب شاہ ہوٹل موجود ہے، جس پر یہ الزام عائد ہے کہ اس کے ’کیک‘ کے لئے لوگوں نے جائیدادیں بیچی ہیں۔

سٹی تھانہ گلگت بھی یہی پر موجود ہے جسے غالباً جی بی کی سب سے قدیم تھانہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سٹی تھانہ گلگت کے بالکل سامنے مٹی کی چھت تلے ایک بوسیدہ دکان ہے، جہاں پر ہر قسم کے امراض کا علاج جڑی بوٹیوں سے کیا جاتا ہے، یہ دکان سردار خان لالا کی دکان کہلاتی ہے، جس کے خد و خال آج بھی قدیم طرز پر ہے اور یوں لگتا ہے، جیسے آج یا کل میں گر جائے گی۔ خود گھڑی باغ بازار گلگت کی ایک قدیم پہچان ہے، البتہ گزشتہ کچھ سالوں میں یہ جگہ حکومتی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار رہا ہے۔ آئے دن نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس چھوٹے سے علاقے کو آج بھی گلگت شہر کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔

ان دونوں علاقوں یعنی گھڑی باغ بازار سے لے کر جامع مسجد اہل سنت کے عین وسط میں گلگت کا ہائی اسکول موجود ہے جسے سرسید ہائی اسکول نام دیے جانے کے باوجود بھی، ہائی اسکول نمبر1 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس اسکول کو گلگت میں مادر علمی کی حیثیت حاصل ہے۔ کئی برسوں تک اس علاقے میں صرف اسی اسکول کے دروازے تشنگان علم کے لئے کھلے تھے، قیام پاکستان تک تو اس علاقے میں نجی تعلیمی اداروں کا تصور بھی نہیں تھا اس دورانیے میں یہی اسکول طالب علموں کے علم کا ضامن اور ذمہ دار تھا۔ اس اسکول سے تعلیم حاصل کرنے والے اعلیٰ سرکاری افسر اور غیر سرکاری شخصیات کی طویل فہرست موجود ہے، جن میں ایک قدرت اللہ شہاب بھی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کی کتاب ’شہاب نامہ‘ اردو ادبی دنیا میں اس اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے جس کے بغیر عمارت نامکمل ٹھہرتی ہے۔ اس کتاب میں فاخرانہ انداز میں قدرت اللہ شہاب نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ انہوں نے اسکول کی تعلیم گلگت ہائی اسکول نمبر 1 سے حاصل کی ہے۔

گلگت ہائی اسکول نمبر1 پورے جی بی کے تعلیمی اداروں کا چہرہ ہے۔ اگر گلگت ہائی اسکول میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہو، تعلیم پر توجہ نہ ہوں، طلبا کی اخلاقی و سماجی تربیت نہ ہوں، گلی کوچوں سے لوگوں کو اٹھاکر ’استاد‘ کے مسند پر بٹھادیا جائے یا سیاسی اثرر سوخ استعمال کر کے من چاہے اقدامات اور نتائج حاصل کیے جاتے ہوں تو جی بی کے دور دراز اور پس ماندہ علاقوں میں موجود تعلیمی اداروں کا یقینا اللہ ہی حافظ ہو گا۔ وہ چھوٹے اسکول کبھی اٹھ کر محکمہ تعلیم کے لئے سہارا نہیں بن سکتے ہیں۔

محکمہ تعلیم گلگت  بلتستان نے جی بی کے تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد قائم کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں طلبا کو مفت کتابیں، وردی، بنا معاوضہ تعلیم سمیت مستند ٹیسٹنگ سروسز کے زریعے اساتذہ کی تقرریوں کا عمل بھی شامل ہے۔ محکمہ تعلیم ایسا محکمہ ہے کہ جس کے نتائج سال کے آخر میں طلبا کے امتحانی نتائج سے با آسانی معلوم کیے جاسکتے ہیں اور پرکھے بھی جا سکتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارہ سرکاری ہو تو اس کے پیچھے متعدد وجوہ ہوسکتی ہیں اور اسی طریقے سے اچھے نتائج پر نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوجاتا ہے بلکہ عوامی حلقوں کی جانب سے اس پر شاباش ملتی ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری اسکول حکام بالا کے توجہ کے منتظر تھے لیکن وہ توجہ نہیں مل سکی تھی۔ جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ گیا تھا۔ نتیجتاً کمزور ترین طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جاتا، اور نتائج بھی اسی بنیاد پر ملتے۔ کمزور ترین طلبا کو لے کر سرکاری اسکولوں نے اپنے معمولات چلائے جو کہ اساتذہ کی فیسوں اور چوکیدار کی ڈیوٹی کے لئے تو کافی تھے مگر معیاری تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں تھی، جس کو عوام کے رجحان سے پرکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کے نتائج کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہے، جن کی نمایندگی ہائی اسکول نمبر 1 گلگت نے کی ہے۔

گزشتہ دنوں ہائی اسکول نمبر 1 گلگت کے پرنسپل شہزاد علی صاحب سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ شہزاد علی صاحب بذات خود بھی مثبت تبدیلی کے سفر کا آئینہ معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ گزشتہ کئی سالوں میں سب سے نوجوان پرنسپل ہونے کا شرف انہیں حاصل ہے، وہ قائد اعظم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ریاضی کے شعبے میں ایم فل مکمل کر چکے ہیں اور رواں سال کے شروع سے ہائی اسکول نمبر 1 گلگت میں بطور پرنسپل اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پرنسپل صاحب سے تعلیمی مسائل اور ہائی اسکول نمبر 1 گلگت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جس سے یہ گمان مزید مضبوط ہو گیا کہ انہوں نے اپنے جوان عزم کو عملی اقدامات کے ذریعے ظاہر کر دیا ہے۔ سوالات وہی تھے جو کالج کے نتائج سے اخذ کیے گئے تھے لیکن جوابات اسکول کے تھے۔ چند ایک چیزیں ایسی رہی جس نے خوش گوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

پرنسپل ہائی اسکول نمبر 1 گلگت شہزاد علی کے مطابق ہائی اسکول نمبر 1 گلگت کے گزشتہ سال میٹرک کے نتائج 95 فی صد تھے۔ سرکاری سکولوں میں طلبا کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میٹرک کے نتائج نہ صرف حوصلہ افزا رہے بلکہ سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال کرنے کے لئے بھی کافی ہیں۔ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت میں چلنے والے انٹر کالج میں پہلا میرٹ 62 فی صد پر رک گیا۔ میرا استدلال تھا کہ سرکاری اداروں کو سفارش اور دباؤ سے پاک رکھیں تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں، جس کے اثبات میں یہ میرٹ دکھا یا گیا۔ گلگت  بلتستان میں نجی اسکولوں کی چیک اینڈ بینلس نہ ہونے اور ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اثر سرکاری اسکولوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

کلاس ششم اور نہم میں چوں کہ نئے داخلے ہوتے ہیں اور اب بھی کلاس ششم اور نہم کے نتائج سرکاری اسکولوں کے لئے چیلنج بنے رہتے ہیں۔ گلگت ہائی اسکول نمبر 1 کو اس حوالے سے بھی امتیازی حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ وہاں پر دو کلاسوں کے لئے چینی زبان کا مضمون پڑھایا جاتا ہے، جس کے کلاس کی تزئین و آرایش چینی ایمبیسی نے کی۔ جہاں پر جدید ترین کمپیوٹرز اور دیگر سہولیات بھی میسر ہیں۔ گلگت  بلتستان بھر کی طرح ہائی اسکول نمبر 1 بھی اساتذہ کی کمی کا شکار ہے۔ مرکزی اسکول میں اگر 600 سے زائد طلبا کے لئے 30 کے قریب اساتذہ ہیں تو دور افتادہ اسکولوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ بعض علاقوں میں اس وقت اساتذہ نے اثر و رسوخ اور سفارش کے زریعے اپنا تبادلہ گلگت اور دیگر شہروں میں کرایا ہے، جس کی وجہ سے کئی اسکولوں میں اساتذہ اور طلبا کی شرح ایک کے مقابلے میں 100 سے بھی زیادہ ہے۔ انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی صورت احوال ابھی غور طلب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •