مسخروں کے شہر میں قیدی مخلوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف سے زور کی آواز بلند ہوئی، میں چونک پڑا۔ ارے، یہ تو ہنسنے کی آواز ہے۔

میری نظریں ٹکٹکی باندھے اسکرین کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ چونک پڑنے سے وہ تار ٹوٹ گیا۔

میں نے مُڑ کر دیکھا، یہ کون ہنس رہا ہے؟

ہنسنے کی آواز شروع تو اسکرین سے ہوئی تھی۔ جس شخص کا چہرہ اسکرین پر نظرآرہا تھا، وہ ہنس رہا تھا۔ مگر اس کی ہنسی میں ہنسنے ہنسنانے والی بات کوئی نہ تھی۔ ایک وحشت سی تھی۔ جیسے وہبلک بلک کر نہیں رہا ہے۔

پھر وہ کھسیانا ہوکر ہنستے ہنستے رونے لگتا ہے۔ وہ اپنی جیب سے ایک کارڈ نکال کر سامنے موجود ہکّا بکّا لوگوںکو اطلاع فراہم کرتاہے کہ اسے ایک نوع کی نفسیاتی بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ وقت بے وقت ہنسنے لگتا ہے۔

عجیب طرح سے کانٹوں پر گھسیٹتی ہوئی مجنونانہ ہنسی تھی اس کی۔

اسکرین پر ہنسی گونجی تو سینما ہال کے کونے میں بیٹھے ہوئے کسی نوجوان نے اس کی نقل میں اپنے حلق سے ویسی ہی آواز نکالنا شروع کر دی۔

پھر اس کے بعد دوسرے کونے سے کوئی اور۔ پھر ایک اور۔

رہ رہ کے کئی نوجوان اسکرین والے جو کرکے انداز میں ہنس رہے تھے، وہ تکلیف دہ ہنسی جو ہنسی نہیں تھی۔

یہ کون سا کارڈ نکال کر اور کس کو دکھائیں گے؟ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ پھر فلم دیکھنے میں مشغول ہوگیا۔

اصل میں فلم بڑی توجہ چاہتی تھی۔ اس کے ارتکاز میں خلل ناگوار گزرا۔ بیچ بیچ میں اکتا دینے والے یا پھر یکسانیت بھرے ٹکڑے بھی آتے مگر میرے لیے پلک جھپکانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

اس لیے ان نوجوانوں کی یہ نقلی، طاری کی ہوئی، مضحکہ خیز ہنسی ناگوار گزر رہی تھی۔ ناسمجھ ہیں، میں ان کے بارے میں اپنے آپ کو تسلّی دے رہا تھا۔

لیکن پریشان میں اس بچّی کی وجہ سے ہو رہا تھا جو میرے الٹےہاتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ذرا ذرا دیر بعد وہ اپنے ساتھ بیٹی ہوئی امّی سے تصدیق کرواتی کہ اسکرین پر کیا ہو رہا ہے۔ ایسے ہی کسی سوال کے بعد امّی نے اس کی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

بچّی ایک دم چُپ ہو گئی۔ مگر مجھے معاً بہت پہلے بیتا ہوا اپنا بچپن یاد آگیا۔ سینما ہال میں پاکستانی فلمیں دیکھتے وقت میری امّی اسی طرح میری آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھ دیتی تھیں۔ میں سنتا رہتاکہ حُسنٰہ یا روزینہ اب کلب جارہی ہیں یا شمیم آراء کا اسلم پرویز سے سامنا ہوگیاہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہ پتہ چلتا جب تک کہ امّی کی انگلیوں کے بیچ سے جھانکنا نہ سیکھ لیا۔

ذرا ذرا دیر کے بعد وہ بچّی پوچھتی، گندہ والا سین چلا گیا؟ میں آنکھیں کھول لوں؟ امّی گھرک کر کہتیں، ابھی نہیں۔

ایسے وقفے جلدی جلدی آنے لگے تو میراجی چاہا ان خاتون سے پوچھوں کہ اب تک یہاں بیٹھی کیوں ہیں؟ اٹھ کر چلی کیوں نہیں جاتیں جب اس قدر بے لُطف ہو رہی ہیں۔

سینما ہال میں بہت سے والدین بچّوں کے ساتھ نظر آرہے تھے۔ یعنی ان نوجوانوں کے علاوہ۔ شاید وہ فلم کا نام اور پوسٹر پر بنی ہوئی مسخرے کی تصویر دیکھ کر آگئے تھے۔ اس کے علاوہ مزید کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اس فلم کے مسخرے ڈرا دینے والے تھے۔

دراصل مسخرے مجھے ہمیشہ سے ڈرائونے لگتے ہیں۔ جیسے بعض لوگوں کو چھپکلی یا لال بیگ سے ڈر لگتا ہے۔ میں اونچائی سے بھی ڈرتا ہوں۔ بھیڑ اور تنہائی سے بھی۔ بھیڑ میں آجانے والی تنہائی سے بھی۔ اس میں ہنسنے کی بھلا کیا بات ہوسکتی ہے؟

اس قسم کے سوالوں پر وقت کون ضائع کرتا پھرے؟ فلم کی کہانی نے مجھے بالکل پکڑ لیا تھا۔ جوں جوں فلم آگے بڑھ رہی تھی اور کہانی کُھل رہی تھی __ آہستہ آہستہ __ میرا یہ احساس پڑھتا جارہا تھا کہ نہایت درجے باریک بینی کے ساتھ بنا ہوا تھرلر (thriler) ہے جس میں ایک منفی کردار دکھایا گیا ہے کہ حادثات کا شکار ہونے، مظلوم اور مجبور بننے کے بعد وہ بدی کا پتلا کیسے بن جاتا ہے۔ وہ کہانی کا ہیرو نہیں، ولن ہے اور مسخرے کا نقاب اس کا خاموش احتجاج۔

پوری دنیا میں اس وقت اس فلم ’’جوکر‘‘ نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں اور کراچی میں اس کی نمائش زور و شور سے جاری ہے۔ فلم دیکھتے ہوئے اس کی وجہ سمجھ میں آرہی تھی۔

فلم کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر کی طرح میرا یہ خیال بھی بدل گیا۔ اس سین میں جب اس پر تین نوجوان جھپٹ پڑتے ہیں اور مسخرے کا ماسک اس کو بچانے میں ناکام رہتا ہے۔ نہیں، نہیں۔ اس سین میں جہاں بہت سے مسخرے ہیں۔ زیر زمین ریلوے کے اس ڈبّے میں ہر ایک شخص مسخرہ ہے۔ ہرے رنگ کے بال۔ سفید پُتا ہوا چہرہ۔ گہرے سرخ ہونٹوں میں سے پھٹ کر نکلتے ہوئے دانت۔ تلخ مسکراہٹ میں مُنجمد چہرے۔ ہر شخص اس وضع کا مسخرہ ہے۔ یہ اُبلے پڑ رہے ہیں ہر ایک کونے کھدرے سے۔ ان کے علاوہ کوئی چہرہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔

میرا جی چاہا کہ برابر والی بچّی سے کہوں کہ میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دے اور میں نے نہ دیکھ سکوں۔ مگر اس کی آنکھوں پر تو خود اس کی ماں کا ہاتھ تھا۔ میں اس سے کیا کہتا؟

فلم میرے لیے پاتال بنتا جارہا تھا جو گہرائی اور گہرائی میں جھانکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ میرا سر چکرانے لگا۔

پھر مجھے ایک افسانہ یاد آیا جو غالباً نیویارکر میں کبھی پڑھا تھا۔ ڈینیل الارکن کا افسانہ مسخروں کا شہر۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد ناول بھی، Lost City Radio۔ پتہ چلا کہ نسبتاً نو عمر ادیب ہے، کولومہیاسے شہر لیما (Lima) سے تعلق ہے __ جو یوں بھی ماریو برگاز یوسا جیسے باکمال ناول نگار کا شہر ہے۔ مگر الارکن ہسپانوی کے بجائے انگریزی میں لکھتا ہے اور امریکا میں رہتا ہے۔ خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ الارکن کی کہانی مسخروں کا شہر بھی اس طرح آسیب بن کر یاد رہ جانے والی کہانی ہے۔ ایک کے بعد ایک چھوٹی موٹی ملازمت کرنے والا نوجوان جو اپنی ماں کی دیکھ بھال بھی کر رہا ہے کہ اس کا باپ اسے چھوڑ گیا ہے اور اخبار کے لیے لکھنے کے دوران ایک مسخرے میں الجھ جاتا ہے۔ مسخرے کی کہانی کا سچ اور جھوٹ، معمولی روزمرہ تفصیلات اسے اتنا الجھا لیتی ہیں کہ ہم اسے مسخرہ بنتے ہوئے دیکھنے لگتے ہیں، مسخروں کی طرح جھوٹا اور دھوکے باز۔

سارا شہر اسی وضع کا دکھائی دیتا ہے۔ مسخروں کا شہر جہاں ہر شخص نقاب لگائے ہوئے ہے۔

تب مجھے ثروت حسین یاد آئے۔ خوب صورت شاعر جو میرے دوست تھے۔ یاد آئے ذہنی بیماری اور موت کی وجہ سے نہیں، اس تکلیف دہ نظم کی وجہ سے۔

صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پر اور شروع کر دیتے ہیں ناچ

آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں اپنے رنگے چہروں اور لمبی ٹوپیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ ڈالتے ہیں۔

دھجّی دھجّی کر دیتے ہیں دھوپ …..

اس سے آگے میں دہرانا نہیں چاہتا۔ میں ثروت حسین کی نظم نہیں پڑھنا چاہتا۔ میں اسکرین پر مسخروں کو دیکھتے رہنے پر مجبور ہوں۔ مامور ہوں۔

سارے شہرمیں بھرتے جارہے ہیں یہ مسخرے۔ ناچ رہے ہیں، اچھل کود رہے ہیں ….. ایک جھٹکے کے ساتھ میں اپنی جگہ واپس آجاتا ہوں اور فلم کی تفصیلات میرے دل دماغ پر یورش کرنے لگتی ہیں۔

فلم کی صورت حال اپنے بُحران کی انتہا کو پہنچ رہی تھی اور مجھے خیال آرہا تھا کہ اس کے کئی توجہ طلب زاویے ہیں جن پر تفصیل کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔ کردارکی نفسیاتی تصویر کشی سامنے کی بات ہے کہ وہ محرومی اور مایوسی سے گزر کر مریض کیسے بنتا ہے۔ اور وہی مریض آگے چل کر قتل و غارت گری برپا کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔سارتر کا طویل افسانہ ’’ایک سیاسی رہ نما کا بچپن‘‘ یاد آیا کہ اسی بچپن میں اس رہ نما کی آمرانہ ذہنیت کے عناصر مُضمر تھے جو آگے چل کر ظاہر ہوئی۔

فلم شروع ہوئے دیر نہیں گزری تھی کہ خیال آیا اس میں یہ بار بارستم کا شکار ہونے والا یہ شخص سفید فام ہے اور اس کو مارنے پیٹنے والے سیاہ فام جن کی عمریں کم ہیں اور تعلیمی حیثیت بھی۔ بڑی سفاکی کے ساتھ پوری فلم سفید فام مردوں کو حاصل ہونے والی سہولیات کے بارے میں کوئی معذرت پیش کرتی ہے اور نہ اس کے بارے میں معذرت۔ میں فرمائش کرنا چاہتا ہوں کہ اس پر ایک تجزیاتی مقالہ لکھا جائے پوسٹ ماڈرنسٹ اور مابعد نو آبادیاتی نقطۂ نظر سامنے رکھتے ہوئے، جس طرح میں اپنے طالب علموں سے مطالبہ کرنے لگا ہوں۔ حالانکہ کہ میرے سر کے بال ہرے رنگ کے ہیں نہ میرا چہرہ سفید رنگت والا۔

سینما ہال کے اندر بیٹھے بیٹھے میں اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دیکھتا ہوں اور تجزیاتی مقالے کو ملتوی کر دیتاہوں۔ اس فلم میں دو ایک باتیں مجھے فوری طور پر اپنے گرد و پیش سے متعلق لگ رہی ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس بارے میں سوچنے لگتا ہوں۔

فلم کا محل وقوع گوتھم کا شہر۔ بظاہر فرضی مگر بڑی حد تک نیویارک پر مبنی۔ نیویارک جو انتشار اور زوال آمادگی کا شکار ہے۔ اندھیری، گندی گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر لگتے ہیں۔ پلاسٹک کے تھیلوں میں کوڑا پڑا ہوا ہے۔ شہری اس کے اوپر سے گزر رہے ہیں اور اسے دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ دیے۔ دن دہاڑے لوٹ مار، قتل اور غارت گری کا بازار گرم ہیں۔ نیون لائٹس جل رہی ہیں اور ان کی تیز، مصنوعی روشنی سے لوگوں کی طرف بندوق کا رُخ کیا جارہا ہے، لوٹا جارہا ہے، خون بہایا جارہا ہے۔

کوڑے کے بڑھتے ہوئے ڈھیر اور اس کے بارے میں شہریوںکی قبولیت پھر ایک لاپروا قسم کی اور نظر انداز کر دینے والی اپنے کاموں میں الجھائے رکھنے والی مصروفیت۔ یہ گوتھم تو آج کے کراچی کا نقشہ کھینچ رہا ہے۔

گوتھم کے شہری ٹیلی وژن دیکھنے کے دھّتی ہوگئے ہیں۔ مرکزی کردار کی ماں جو بیمار ہے، اونچی آواز کرکے ٹیلی وژن کے مزاحیہ پروگرام دیکھتی رہتی ہے __ کامیڈی شور جس میں بڑے اہتمام اور انتظام کے بعد ایک خوش گفتار میزبان فقرے بازی کے جوہر دکھلاتا ہے۔ یہ نقشہ بھی مجھے بہت مانوس معلوم ہوا۔ ہمارے ہاں ٹاک شور کی بھرمار ہے اور ان کا انحصار اب بات چیت کے بجائے بھانڈوں والے انداز پر ہے۔ سبھی لوگ دیکھ رہے ہیں اور زور زور سے ہنس رہے ہیں۔ اس ہنسی میں خوشی طبعی یا مذاق کے بجائے زہر گُھلا ہوا معلوم ہوتا ہے مجھے۔

وہ مرکزی کردار بھی اس طرح کا کامیاب ٹاک شو میزبان بننا چاہتا ہے، ٹیلی وژن پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والا مسخرہ۔ وہ تو خیر بیمار ذہنیت رکھا ہے مگر شہر کے لوگوں کو کیا ہوا؟ وہ مسخرے کے پیچھے چلنے اور خود مسخرے کا سوانگ اختیار کرنے کے لیے اس قدر تیار کیوں ہیں؟

پوری فلم میں ایک واضح سیاسی زاویہ موجود ہے اور اب مجھے اس کی موجودگی کا احساس تکلیف دینے لگتا ہے۔ مگر مجھے اس فلم کو اختتام سے پہلے چھوڑ کر اٹھ جانے کا اختیار نہیں ہے۔ میرے دونوں دوست جن کے ساتھ میں فلم دیکھنے آیا ہوں، اپنی اپنی سیٹوں پر جمے ہوئے ہیں۔ میں نے زیادہ چوں چرا کی تو شاید اگلی بار وہ مجھے اپنے ساتھ فلم دیکھنے نہ لے جائیں۔ انعام صاحب کاغذ کی تھیلی میری طرف بڑھا دیتے ہیں جس میں نمکین پاپ کارن ابھی باقی ہیں۔

تھوڑے سے باپ کارن میں اپنے ہاتھ میں نکال لیتا ہوں اور کھانے لگتا ہوں۔ ہم کتنی دیر یہاں محفوظ ہیں؟ کتنی دیر کے بعد باہر نکلنا ہوگا جہاں شہر کی سڑکوں پرمسخروں کا ناچ جاری ہوگاَ

یہ کون بتائے گا؟ میں پاپ کارن کھاتا رہتا ہوں اور اندھیرے سناٹے میں میرے جبڑوں سے کٹ کٹ کی آواز آئے جارہی ہے۔ اب کتنی دیر رہ گئی ہوگی؟ مسخرے کتنے فاصلے پر آپہنچے ہوں گے؟

سینما کی بتّیاں جلنے کی دیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •