غریب اور کمزور شہری کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے میں ایک ذمہ دار ریاست اور حکومت کا تصور بنیادی طور پر شہریوں کے مفادات، تحفظ، ترقی، خوشحالی اور منصفانہ نظام کی بنیاد پرکھڑا ہوتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان جو باہمی تعلق ہے اس کی بنیاد بھی 1973کے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق کے باب میں موجود ہے۔ ریاست شہریوں سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ ان کے حقوق کو یقینی بنائے گی اور اس کے بدلے میں شہری ریاست، حکومت کو یہ ضمانت دیتا ہے کہ وہ ان کے دستور، قانون کے تابع رہے گا اور ایسے کسی عمل سے خود کو دور رکھے گا جو ریاستی مفاد کے برعکس ہو۔ بنیادی طور پر یہ ہی تعلق ریاست اور شہری کے کردار کو وضع کرتا ہے اور ریاست کا تصور منصفانہ اور شفاف ہوتا ہے۔

پاکستان کا سماجی مقدمہ شہریوں اور بالخصوص کمزور طبقات کے تناظر میں بہت کمزور ہے۔ اگر ہم اپنے ریاستی سماجی، سیاسی، معاشی اور بنیادی مسائل سے جڑے اعداد وشمار کو دیکھیں تو اس میں واضح تفریق کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ بالخصوص کمزور طبقات جن میں بچے، بچیاں نمایاں ہیں ان کی سماجی حالت بہت کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا نام ان ریاستوں میں آتا ہے جو سماجی تناظر اور تحفظ میں غیر ذمہ دارانہ ریاست کے طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ایشائی ترقیاتی بنک کی سماجی تحفظ سے جڑے اعداد وشمار پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سماجی تحفظ فراہم کرنے والے ایشائی ممالک میں سب سے پیچھے ہے۔ اس رپورٹ کے بقول مشرقی ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح 75.1 فیصد رہی جن میں انڈونیشیا، منگولیا، فلپائن اور ویتنام شامل ہیں ، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح 38.5 فیصد رہی جن میں ملائشیا، میانماراور کمبوڈیا شامل ہیں۔ سنٹرل اور ویسٹ ایشیا میں سماجی تحفظ کی شرح 16 فیصد سامنے آئی ہے جس میں کرغستان 32.2 فیصد، آذربایجان میں 19.2 فیصداور پاکستان میں 3.2 فیصد آبادی کو سماجی تحفظ حاصل ہے۔

سنگا پور اپنے شہریوں کے لیے سماجی تحفظ کی غرض سے اپنی کم آمدن آبادی پر فی کس سالانہ 53 ہزار ڈالر، جاپان 32,487 ڈالر، جنوبی کوریا 27,221 ڈالر، ملائشیا 9,490 ڈالراور چین 7,922 ہزار ڈالرخرچ کررہا ہے۔۔ ایشیا کے جن چار ممالک میں سماجی تحفظ کے لیے سب سے کم رقم مختص کی گئی ہے ان میں پاکستان، میانمار، ویتنام اور لاوس ریپبلک شامل ہیں جو اپنی کم آمدن کے سبب اپنی مجموعی قومی پیدوار کا 1.7 فیصد تک خرچ کرتے ہیں۔۔ مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی کی شرچ تبادلہ میں نقصانات کے سبب پاکستان سمیت کم آمدن رکھنے والے ممالک میں سماجی تحفظ کی شرح 10 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سال2009-15 کے دوران پاکستان میں سماجی تحفز کی کوریج میں 13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان، منگولیا، بھوٹان، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ میں عورتوں کے لیے سماجی تحفظ کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں عمران خان کی حکومت سب سے زیادہ سماجی تحفظ اور انسانی ترقی بات کرتی ہے اور سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کا محور انسانی ترقی کم اور انتظامی ترقی یا انتظامہ ڈھانچہ پر ہوتی ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک برس کی تحریک انصاف کی حکومت میں انسانی ترقی پر باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر ان کے اقدامات میں بہت زیادہ گہرائی نظر نہیں آتی۔ سماجی تحفظ سے مراد بنیادی انسانی حقوق ہیں اور ان کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر چار اقدامات پر توجہ دینی ہوگی۔ اول ہمیں اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی ترجیحات میں عام آدمی یا کمزور طبقات کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ بنانا ہو گا۔ دوئم ہمیں اپنے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل کو زیادہ سے زیادہ انسانی بنیادوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ اسی طرح وسائل کی تقسیم منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ سوئم ہمیں ملک میں موثر حکمرانی کے لیے نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو شفاف بنانا ہوگا اور پر سطح پر لوگوں یا اداروں کو انسانی ترقی کے تناظر میں جوابدہ بنانا ہوگا۔ چہارم جو سماجی ترقی کے حوالے سے ہم نے عالمی سطح پر مختلف معاہدے کیے ہیں ان کو اپنی قومی اور صوبائی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا اور یہ عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم عالمی سطح پر بھی کمزور طبقات کے حوالے سے جوابدہ ہیں اور اسی بنیاد پر عالمی دنیا کے جڑے انسانی ترقی کے ادارے ہماری ریٹنگ کرتے ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا سماجی بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ ملک میں ایک بڑی سیاسی، سماجی اور معاشی تفریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لوگوں کا ریاستی ادارو ں پر اعتماد کم ہو رہا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ ریاست اور حکمران طبقات کے سامنے ہماری حیثیت وہ نہیں جو آئین ہمیں دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم محض کمزور طبقات کی مالی یا کسی اور سطح پر مدد کرکے ان کو یہ احساس دیں کہ ہم ان کی کفالت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دیں جہاں کمزور طبقات کی سماجی اور معاشی حیثیت تبدیل ہو اور وہ خود آگے بڑھ کر کسی کے محتاج ہونے کی بجائے اپنی زندگیوں کو تبدیل کرسکیں۔ سماجی تحفظ کا عمل اس صورت میں یقینی ہوتا ہے کہ جب ملک میں ادارے فعال ہوں اور وہاں عام لوگوں کی نہ صرف رسائی ہوبلکہ وہاں سے ان کے بنیادی نوعیت کے مسائل حل ہورہے ہوں۔ ہمارا مسئلہ ادارہ جاتی سطح پر بدحالی کا ہے اور اس کو تبدیل کیے بغیر سماجی تحفظ کا عمل ممکن نہیں ہوگا۔

جب ریاست اور حکومت کا نظام طبقاتی بنیادوں پر چلایا جائے گا اور چھوٹے، بڑے، طاقت ور، کمزور، امیرو غریب یا مرد اور عورت کو بنیاد بنا کر تفریق کی سیاست کی جائے گی تو اس کا نتیجہ قومی سطح پر سماجی شعبہ میں ایک بڑے انتشار کا سبب بنتا ہے۔ خاص طور پر دیہی یا چھوٹی سطح پر موجود علاقوں میں لوگوں کی حالت بہت زیادہ بدحال ہے اور شہری علاقوں میں عام آدمی کے ساتھ استحصال کی سیاست نمایاں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کے پاس سماجی شعبہ میں بڑی اصلاحات کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سماجی شعبہ سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں۔ جب سیاست طاقت کے گرد گھومتی ہے تو اس کا ایک بڑا نتیجہ طاقت ور گروہوں کے درمیان آپس کی مقابلہ بازی ہوتی ہے اور اس میں عام آدمی بہت پیچھے چلا جاتا ہے جو اس کو اس طاقت کے کھیل اور زیادہ کمزور کردیتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہمیں سماجی شعبہ کے حوالے سے کہاں سے کام کا آغاز کرنا چاہیے۔ بچے، بچیاں اور کمزور طبقات کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہمیں کیا کچھ نیا کرنا ہوگا۔ ابتدائی طور پر ہمیں اپنے پورے حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرنا ہوگا اور اس میں سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی شعبہ کو طاقت دینے کی بحث کو آگے بڑھانا ہو گا۔ یہ بحث طاقت ور طبقات پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرسکتی ہے اور یہ ہی عمل ہمارے سماجی شعبہ میں بہتری بھی پیدا کرسکتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی حقوق ایسے معاملات ہیں جس پر ہماری حکمرانی کے نظام کو توجہ دینی ہوگی۔ سماجی شعبہ کی بہتری کے لیے ہم نے 2000-15ملینیم ترقی اہداف مقرر کیے تھے لیکن اپنی نااہلی اور کمزوری کے باعث ہم وہ اہداف حاصل نہیں کر سکے۔ اب پھر ہم نے 2016-30 پائدار ترقی اہدا ف کو متعین کیا ہوا ہے لیکن حکومتی سطح پر اس کوجانچنے کے اقدامات بھی کمزور ہیں۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں بڑی مثبت تبدیلی کا عمل سماجی شعبہ میں ترقی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اگر سیاست اور حکمرانی کا نظام سماجی سطح پر کوئی مثبت نتائج نہیں دے سکے گا تو سیاست اور جمہوریت کی اچھی ساکھ قائم نہیں ہوسکے گی۔ اگر ہم نے واقعی ترقی کرنی ہے خاص طور پر ایسی ترقی کو بغیر کسی تفریق کے ہو تو ہمیں اپنا موجودہ نظام حکومت میں بہت کچھ تبدیل کرنا ہے۔ لیکن یہ تبدیلی کا عمل محض حکمرانوں کی بنیاد پر درست نہیں ہوگا بلکہ اس میں سماج کے تمام اہم فریقین کو اپنی اپنی سطح پر بڑے دباو کی سیاست کو قائم کرنا ہو گا۔ مسئلہ محض قانون سازی یا پالیسی سازی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا مسئلہ عملی اقدامات کا ہے۔ ہم قانون سازی یا پالیسی سازی پر بہت توجہ دیتے ہیں مگر عملدآمد کے نظام میں بہت کمزور ہیں۔ موجودہ سماجی شعبہ کو بنیاد بنا کر ہم کسی بھی طور پر ترقی کے عمل میں شریک نہیں ہوسکتے، اس کے لیے روائتی طور طریقوں کے مقابلے میں کچھ نیا پن دکھانا ہوگاجو منصفانہ بھی ہو اور شفاف بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •