عوام متبادل سیاست کی تلاش میں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام آدمی یا کمزور طبقہ کا بنیادی مسئلہ حکمرانی کے نظام میں شفافیت اور منصفانہ نظام کا رہا ہے۔ حکمرانی چاہے سول ہو یا فوجی دونوں نظاموں میں عام آدمی کی سیاست ان کی توقعات اور خواہشات کے برعکس رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں حکمرانی کا نظام ہمیشہ سے سوالیہ نشان بھی رہا ہے اور لوگوں کا عدم اعتماد بھی۔ جو نظام عوامی اعتماد میں سیاسی ساکھ کے بحران کا شکار ہو اس نظام کی اہمیت اور افادیت وہ نہیں ہوتی جو جمہوری اور سیاسی نظام کا خاصہ ہوتی ہے۔ حکمرانی کا موجودہ عمل ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو بھی کمزور کرتا ہے اور شہریوں کو لگتا ہے کہ ریاست ایک خاص مفاد کو مدنظر رکھ کر ان کا سیاسی، سماجی اور معاشی استحصال کرتی ہے۔

سیاست میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ سیاست سے جڑا طبقہ، ریاستی ادارے اور اہل دانش کا بڑا طبقہ لوگوں کو جمہوریت اور سیاسی نظام کی افادیت سے آگاہ کرکے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر ہمارے یہ طبقات جمہوریت اور عام آدمی کے باہمی تعلق کو نظرانداز کرکے جمہوری درس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جمہوریت کو پرکھنے کا بنیادی جز لوگوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں بہتری سے جڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر نچلی سطح پر عام آدمی کی ذندگی میں بہتری نہیں آنی تو مصنوعی جمہوری عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عملی طور پر ہمارے جیسے معاشروں میں جمہوریت اور اس کے ثمرات کا عمل ارتقائی عمل سے گزررہا ہے۔

ہماری عملی سیاست نعروں، وعدوں اور بڑے بڑے سیاسی دعووں کے درمیان گھری نظر آتی ہے۔ حکمران طبقہ کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اول ان کے سامنے حالات بہت بہتر ہوتے ہیں اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی کی سیاست کو طاقت مل رہی ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہماری حزب اختلاف کا المیہ بھی محاذ آرائی، الزام ترشیوں، کردار کشی اور اقتدار کو گرانے کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ عمومی طو رپر جمہوری عمل میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حزب اختلاف ایک متبادل حکومت ہوتی ہے اور اس کے پاس حکمران طبقہ کے مقابلے میں ایک بہتر اور مضبوط حکمرانی کا نظام موجود ہوتا ہے۔ لیکن حکمران اور حزب اختلاف دونوں کی سیاست میں نہ تو جمہوریت ہوتی ہے اور نہ ہی کمزور لوگوں کے بنیادی مفادات کی کوئی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔

ہمارا موجودہ حکمرانی کا نظام بنیادی طور پر ایک طاقت ور گروہوں کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ سیاست دان، بیوروکریسی، سرمایہ دار، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور میڈیا سے جڑے طاقت ور افراد کا باہمی گٹھ جوڑ عا م آدمی کی سیاست کے خلاف ہوتی ہے اور ان کی توجہ اپنے ذاتی مفاد پر مبنی سیاست ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ طاقت ور طبقات اور کمزور طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی، سماجی اور معاشی خلیج بڑی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جو خود ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔ سیاست میں سب سے بڑا نکتہ حکمران اور ریاستی طبقہ کی ترجیحات کا ہوتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ حکمران اور ریاستی طبقہ کی ترجیحات کیا ہیں اور کس حد تک ان کی ترجیحات میں عام آدمی کی سیاست کا مفاد جڑا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ہمارے ریاستی قوانین اور ریاستی یا حکومتی پالیسیوں میں عام آدمی کے مفاد سے جڑی جھلک نمایاں طور پر نظر بھی آتی ہے، مگر اہم مسئلہ ان قوانین اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے فقدان کا ہونا ہے۔

مسئلہ کسی ایک حکومت یا کسی فرد کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر حکمرانی کا نظام اور اس سے جڑا ریاستی نظام کافی بوسیدہ ہوگیا ہے۔ ہم حکمرانی کے نظام میں دنیا میں ہونے والے نئے اور کامیاب تجربات سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ روائتی طرز پر حکمرانی کے نظام سے جڑا حکمران طبقہ یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ موجودہ نظا م میں اچھی نیت کے باوجود بہتری کا امکان بہت کم ہے۔ جمہوریت کی بنیاد اصلاحات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، لیکن اگر اصلاحات کا عمل مصنوعی ہو اور اس کا مقصد محض دنیا کو دکھانا ہو کہ ہم اصلاحات کررہے ہیں تو اس کے عملی نتائج وہ نہیں مل سکتے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ حکمرانی کا نظام تضادات کا عملی نتیجہ ہے جو حکمرانی میں بداعتمادی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمرانی کے نظام میں عام آدمی کا مفاد کیا ہوتا ہے۔ یہ کوئی مشکل بات نہیں جسے سمجھا نہ جاسکے۔ عام آدمی کے مفاد کی بنیادی ضمانت ہمارا 1973کا آئین اور اس کا پہلا بات بنیادی حقوق دیتا ہے۔ آرٹیکل 8سے 24تک اس آئین میں وہ بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے جو شہریوں کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ ان حقوق میں تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، انصاف، آزادی اظہار، تنظیم سازی کا حق سمیت دیگر بنیادی حقوق شامل ہیں۔ لیکن جب یہ تمام حقوق سے ریاست اور حکومت اپنے آپ کو دست بردار کرکے نجی شعبوںکو دے دیں تو منافع کی بنیاد پر عام طبقہ کا بڑا استحصال ہوتا ہے۔ نجی شعبوں کا سامنے آنا برا عمل نہیں لیکن شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دینا اور نجی شعبوں کے باوجود شہریوں کے حقوق کی ضمانت ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے اور ایسا نہ کرنا مجرمانہ سطح پر بڑی غفلت کا عمل ہوگا۔

عام آدمی کی سیاست سے جڑا سب سے کمزور پہلو طبقاتی تقسیم سے جڑا نظام ہے۔ جب ریاست اور حکومت طبقوں کی بنیاد پر نظام کو چلائے گی تو عام آدمی کی سیاست کمزور ہوگی۔ اصولی طور پر تو کمزور آدمی کو بنیاد بنا کر حکمرانی کا نظام آگے بڑھنا چاہیے، مگر اس طبقاتی تقسیم کا نظام عملی طور پر طاقت ور افراد کو زیادہ طاقت فراہم کرتا ہے۔ عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں طاقت ور طبقات کا ریاستی یا حکومتی تعلیم، صحت اور دیگر نظاموں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ طاقت ورطبقات کا موجودہ نظام سے کوئی باہمی تعلق نظر نہیں آتا اور اس موجودہ نظام کی اصلاح بھی ان کا بڑا ایجنڈا نہیں ہے۔ اس وقت تعلیم، صحت، روزگار، بجلی، گیس، پٹرول اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان اور سماجی و معاشی انصاف کی عدم فراہمی سمیت وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے عام آدمی کی زندگی میں ایک بڑی مشکل پیدا کردی ہے اور اس کا عملی نتیجہ اس طبقہ میں بڑھتی ہوئی غربت، آسودگی، مایوسی، غیر یقینی کیفیت، ٹینشن، خود کشیوں، لڑائی جھگڑوں، بدامنی، لاقانونیت کی صورت میں ہمیں ہر سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے جو لحمہ فکریہ ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سیاست اور ریاستی نظا م میں عام آدمی کی سیاست کو کیسے مضبوط کیا جائے۔ اس عمل میں ہمیں پانچ بڑی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ اول سیاسی جماعتوں کی سطح پر ایک بڑی اصلاحات درکار ہیں اور جب تک سیاسی جماعتیں، ان کی قیادتیں اور سیاسی کارکن موجودہ روائتی نظام سے ذبردستی جڑے رہیں گے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو داخلی سطح پر جمہوری بھی بنانا ہوگا اور ان کی سیاست کو طاقت ور طبقات کے مقابلے میں عام آدمی کی سیاست پر لانے کے لیے ایک بڑے دباو کی سیاست کو بیدار کرنا ہوگا۔ دوئم ہمیں اپنے حکومتی نظام کو مرکزیت سے جڑے نظام کی بجائے عدم رکزیت یقینی زیادہ سے زیادہ سیاسی، سماجی، انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے عام آدمی کی سیاست کو مضبوط بنانا ہوگا۔ سوئم ریاست اور حکمران طبقہ کو سب سے زیادہ سیاسی اور مالی سرمایہ کاری عام آدمی کو مضبوط بنانے پر کرنی ہوگی۔ کیونکہ محض سیاسی نعروں سے عام آدمی کو کچھ نہیں ملے گا اس کا اظہار وسائل کی تقسیم، بجٹ اور پالیسیوں پر عملدرآمد کے نظام میں واضح اور شفاف نظر آنی چاہیے۔ چہارم اہل دانش اور علمی و فکری حلقوں سمیت رائے عامہ بنانے والے اداروں اور  بالخصوص میڈیا کو طاقت ور طبقات کے ساتھ اپنا گٹھ جوڑ بنانے کی بجائے ریاست اور حکومت پر ایک بڑے سیاسی دباو کو پیدا کرنا ہوگا تاکہ حکومتی اصلاح کا عمل دیکھنے کو مل سکے۔ پنجم سیاسی کارکنوں کو جاگنا ہوگا اور اپنی اپنی جماعتوں کی سطح پرآواز اٹھانی ہوگی کہ وہ قیادت کے ایسے اقدامات جو براہ راست آمرانہ طرز عمل اور بری حکمرانی کے نظام سے جڑے ہیں ان کو قبول کرنے کی بجائے متبادل راستہ اختیار کریں گے تو اہل سیاست کا قبلہ بھی درست ہوگا۔ کیونکہ حتمی طور پر اب وقت ہے کہ ہم سیاست میں روائتی نظام کو چیلنج کریں اور ایک ایسا متبادل نظام کا راستہ اختیار کریں جو براہ راست عام آدمی کے مفاد سے جڑا ہو، یہ ہی قومی مفاد سے جڑی سیاست کا حصہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •