پب والی لڑکی سے محبت اور طالبان کا تاوان
تھوڑے دنوں کے بعد ہی اس نے محسوس کرلیا کہ میں وارفتگی کے حد تک اس پر نثار ہونے کی کوشش کررہا ہوں۔ میرے اشارے، میرے خیالات کی ترجمانی کررہے تھے اور میری حرکات اس کا مسلسل تعاقب کررہی تھیں میں نے کوشش کی کہ اس کے بارے میں پتہ کروں یہاں تک کہ اس حلال گوشت کی دوکان پر بھی چکر لگاتا رہا کہ شاید وہ نظر آجائے اور وہاں اس سے دوسرے ماحول میں بات تو کی جاسکے۔ مگر ایسا ہونہیں سکا۔ وہاں وہ مجھے ملی نہیں تھی اور پب میں وہ ساقی تھی اور ساقی کی نظر تو سب پر ہوتی ہے۔ میں بھی ایک گاہک تھا، ایک عام گاہک۔
آخر ایک دن اس نے تھوڑی سی بات کرلی اور دوسر ے دن دوپہر کو ففتھ ایونیو پر چالیسویں اسٹریٹ کے ایک رسٹورنٹ میں مجھ سے ملنے کی حامی بھرلی تھی۔ اس کے سلسلے میں یہ میری پہلی کامیابی تھی۔
پہلی ہی ملاقات میں میں نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ جیسا کہ شدید محبت میں ہوتا ہے میں نے اسے موقع ہی نہیں دیا کہ وہ میرے بارے میں سنے، میں اس کے بارے میں سنوں۔ عشق میں یہ گنجائش نہیں ہوتی ہے میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر مہنگی ترین انگوٹھی اس کے سامنے رکھ دی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ اس کی زندگی کا ماضی کیا ہے وہ کہاں سے آئی ہے کیا کرتی ہے اس کا مذہب کیا ہے قومیت کون سی ہے، مجھے تو بس وہ پسند تھی اور میں اس کا عاشق تھا اور ہرصورت میں اسے اپنانے کی شدید خواہش میرے دل کے سمندرمیں موجزن تھی۔ اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہو ں نے عشق کیا ہے اور کئی بار کیا ہے۔ میں اس بات سے شدید اختلاف رکھتا ہوں کہ عشق صرف ایک بار ہوتا ہے زندگی میں۔ یہ تو زندہ رہنے کا ایک سلسلہ ہے۔ زندگی کی زنجیر کے کڑوں کو ملانے کا ایک طریقہ ہے۔
وہ ہنس دی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہونے والی تبدیلی کو میں نے محسوس کرلیا مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس نے بھی مجھے پسند کرلیا ہے وہ میری محبت میں گرفتار نہیں ہوئی ہوگی مگر وہ مجھ سے متاثر ضرور ہو گئی تھی، یہ مجھے پتہ تھا۔ میں نے بھی دنیا دیکھی تھی۔ عشق کیا تھا۔ دل لُٹایا بھی اور دل لوٹا بھی تھا۔
ہم دونوں نے بہت اچھا کھانا کھایا تھا۔ اس نے نیویارک شہر کی سالمن مچھلی ادرک میں ابلی ہوئی، ساتھ میں لہسن کا شوربہ۔ میں نے گرل کیا ہوا ٹراٹ لیا تھا ساتھ میں سرخ وائن۔ وہ شراب نہیں پیتی تھی۔ اس نے کھانے کے ساتھ پانی پیا، ساری دنیا جہان کی باتیں کرلی تھیں دو گھنٹے میں ہم دونوں نے۔
میں نے بہت کوشش کی کہ وہ اس انگوٹھی کو پہن لے اور اگر پہننا نہیں چاہتی ہے تو کم ازکم اپنے پاس رکھ لے۔ اس نے بڑے انداز سے انگوٹھی واپس کی تھی۔
وقت اگر آیا تو ضرور لے لوں گی۔ تم میرے بارے میں جانتے کیا ہو اور نہ ہی میں تمہیں جانتی ہوں۔ میں خوابوں کی اسیر نہیں ہونا چاہتی ہوں یہ ابھی تو تمہیں کو رکھنا ہوگا۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی انگوٹھی واپس لے آیا تھا۔
اس نے پانچ دنوں کے بعد دوبارہ دوپہر کے کھانے پر ہی ملنے کا وعدہ کیا اس شرط پر کہ کھانے کا بل وہ ادا کرے گی۔ یہ تو معمولی شرط تھی۔ ملنے کے لئے جو شرط بھی لگاتی مجھے منظور تھا۔
وہ دوپہر بھی شاندار گزری مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میرا عشق بے سبب نہیں ہے اس خوبصورت چہرے اور حسین جسم کے اندر ایک بہت ذہین عورت تھی۔ اس کی باتوں کا انداز اور میرے فقروں پر اس کا شرما سا جانا میرے لئے حیران کن تھا۔ کہاں تو وہ پب میں مختصر ترین کپڑوں میں مردوں کے درمیان تھرکتی، ناچتی رہتی تھی۔ جہاں ہر قماش کے مرد اس کے جسم کے مختلف حصوں کو چھو چھو کر ڈالر پھینکتے تھے اور کہاں میرے سامنے میرے الفاظ اور جملوں پر وہ شرما شرما جاتی تھی۔ یہ بھی ایک انداز تھا۔ ایک عجیب تضاد تھا۔ نہ سمجھ میں آنے والا۔
نہ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں کی رہنے والی ہے اور نہ ہی مجھ میں ہمت ہوئی کہ میں اس سے پوچھتا کہ وہ حلال گوشت کی دوکان پر کیا کر رہی تھی۔ اس نے بھی مجھ سے میرے ماضی، میرے خاندان اور وطن کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔ نیویارک ایسا ہی شہر ہے۔ ہر شخص ہجوم میں اکیلا ہے، اپنی دنیا کے اپنے خول میں بند ہو۔ نہ کوئی پوچھتا ہے اور نہ کوئی بتاتا ہے۔ مجھے بعد میں پتہ لگا کہ وہ مجھے عربی سمجھی تھی ایک مالدار عربی جس کے پاس بے تحاشہ پیسہ تھا جو وہ خرچ کر رہا تھا۔
میں سوچتا رہا کہ اس کے ساتھ ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ایک نیم برہنہ ساقی کی صورت ایک پب میں مختصر ترین لباس پہن کر ساقی گری کا کام کررہی ہے، وہ کیا حالات ہیں جن میں اسے ایسا کرنا پڑرہا ہے۔ مگریہ ایسا ذاتی سوال تھا جس کو پوچھنے کی مجھ میں نا جرات تھی نا ہمت۔ مجھے تو وہ پسند تھی جیسی بھی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی میں وہ فرشتہ بن کر آئی ہے اور کسی رحمت کے بادل کی طرح چھاجائے گی کاش ایسا ہی ہوتا۔
ہم کئی دفعہ ملے۔ کئی دوپہرساتھ گزارے، ہنس ہنس کے سینما ہال میں فلم بھی دیکھی۔ اس کے چھٹی والے دن براڈوے پر ڈرامہ بھی دیکھا۔ جتنا جتنا وقت اس کے ساتھ گزرا اتنا میں مسحور ہوتا گیا جیسے پہلے دو دفعہ ہوا تھا۔ مجھے بھی یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ مجھے پسند کرنے لگی ہے۔ میرا خیال رکھتی ہے مجھے ایسے وقت فون کرتی ہے جب مجھے اس کی ضرورت سی ہورہی ہوتی ہے اور مجھے یقین ہوگیا تھا میری انگوٹھی وہ قبول کرلے گی۔ پھر برف پگھل گئی خدا خدا کرکے۔
انہی دنوں میں سے ایک دن میں نے اسے اپنے کونڈومیں مدعو کر لیا، ایک خوبصورت شام کو کھانے کے لئے۔ اس کے لئے اس کی پسند کے کھانے اسی مین ہٹن کے ریسٹورنٹ سے پارسل کروا کر لایا۔ کھانے کے بعد میں نے اسے گلاب کے تازہ پھول کے ساتھ دوبارہ سے انگوٹھی پیش کردی تھی۔
اس نے انکار نہیں کیا اور انگوٹھی پہن لی تھی، مجھے اپنے گرم جوش بازوں میں بھر لیا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


