روز نامہ دی نیشن کا بہترین اداریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوست گنوایئے، دشمن بنائیے\"banner\"

آج ایک پریشان کن دن ہے کہ جب اعلی سویلین اور عسکری قائدین اپنی ملاقات میں میڈیا کو آداب صحافت پر بھاشن دے رہے ہیں۔ یہ ملاقات ’’ریاست کے بنیادی مفادات کے تحفظ‘‘ کی وہی مانوس اور پامال مالا جپتے جپتے چند گھنٹوں بعد ڈان اخبار کے صحافی سیرل المیڈہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر منتج ہوئی۔

معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر دشنام کا ایک طوفان اور تین دفعہ سرکاری تردید بھی مزاج شاہی کی وہ برانگیختگی مدہم نہ کرسکی جو المیڈہ کی خبر چھپنے پر طاری ہوئی تھی۔ یہ خبر سول اور عسکری قیادت کے مابین گفتگو کے ایک غیر معمولی تبادلے کی تھی اور اسی سول و عسکری قیادت نے گذشتہ روز مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ’’قومی دفاع سے متعلقہ معاملات پر رپورٹنگ کے عالمگیر اصولوں‘‘ کی خلاف ورزی کا رونا رویا گیا ہے۔

یہ تو توقع کی جا سکتی تھی کہ اس خبر کی ایک بار، یا چلیے تین بار ہی سہی، تردید آئے گی مگر حکومت کی جانب سے میڈیا کے خلاف ایسی مخاصمانہ مہم چلانا بالکل خلاف توقع تھا کیونکہ شاید ہم حکومت کو (غلط طور پر) نسبتا بہتر فیصلہ سازی کا اہل سمجھ بیٹھے تھے۔ اگر تو حکومتی و عسکری قیادت کو غصہ خبر میں دیے گئے اس تاثر پہ تھا کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے تو اب وہ ایک دوسرے کو جی کھول کر شاباش دے سکتے ہیں کہ انھوں نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے اور بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے اس خبر میں بتائی گئی حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔

سول اور عسکری قیادت نے سیرل کی رپورٹ کو من گھڑت اور خیالی تو قرار دے دیا ہے مگر چند امور کی وضاحت کرنا وہ شاید بھول گئے ہیں، مثلا کیا وجہ ہے کہ حکومتی اراکین قومی اسمبلی پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی کھلے عام موجودگی پر چیں بہ جبیں ہیں۔ یا حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف کوئی متوقع کارروائی ’’قومی سلامتی‘‘ کے خلاف کیسے ہو گی یا آخر پاکستان بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا شکار کیوں ہے۔ ہم سننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ کچھ ارشاد فرمائیے۔

بجائے ان وضاحتوں کے، حکومت اور عسکری قیادت کی میڈیا کو آداب صحافت پر بھاشن دینے کی ہمت کیونکر ہوئی۔ انھوں نے کیا سوچ کر ایک باعزت اور اہل صحافی کو مجرم بنا دیا۔ اور کیسی دیدہ دلیری سے وہ ہمیں یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ انھیں ’’پاکستان کے قومی مفادات‘‘ اور’’رپورٹنگ کے عالمگیر اصولوں‘‘(ہے نا ہنسنے کی بات!) کے تعین کا حق، اس کی اہلیت یا اس پر اجارہ داری حاصل ہے۔

چونکہ حکومت ہم اہل صحافت کو آداب صحافت سکھانا چاہ رہی ہے لہذا ہم بھی حکومت کو آداب حکومت اور بہتر حکومتی کارکردگی کے لیے چند مشورے عرض کرتے چلیں۔ صحافیوں کی فکر چھوڑیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کی فکر کریں۔ بطور ریاست ہمارے چند ’’کارنامے‘‘ اور چند بے عملیاں ہرگز قابل دفاع نہیں ہیں۔ ہر ایک یہ بات جانتا ہے چاہے وہ کتنا ہی اغماض برت لے۔ اور ہاں کچھ خیال اپنی حکومت کے صحافت سے تعلقات کے حالیہ مقام کا بھی کر لیجیے جو شمالی کوریا میں کم جانگ (دوم) کی میڈیا مینیجمنٹ کو بھی شرما رہا ہے۔

جہاں تک گذشتہ روز کے حکومتی بیان اور کارروائی کا تعلق ہے تو وہ قابل مذمت ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ سیرل المیڈہ آپ کے لیے ہمارے پاس یکجہتی کے جذبات ہیں۔ آپ کی شخصیت اور قلم میں مزید طاقت آئے۔ صحافت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

(ترجمہ: احمد علی کاظمی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “روز نامہ دی نیشن کا بہترین اداریہ

  • 12/10/2016 at 6:41 pm
    Permalink

    پاکستان کا اصل پرابلم مخلص سیاسی قیادت کے فقدان کا هے جس کی اپروچ نان کمرشل هو اور وه دوست اور دشمن کی تمیز رکهتی هو
    صحافت کو بهی کمرشلزم نے تقدس کے درجے په نهیں رهنے دیا تاهم نیشن کا یه اداریه بهت جرآعت مندانه هے … پاکستان کو فوری طور پر ایک متحرک وزیرخارجه اور ایک نان کمرشل وزیراعظم درکار هے … کاش یه سب پلک جهپکتے میں هو جائے ! ‏‎ ‎

  • 14/10/2016 at 2:57 pm
    Permalink

    میڈیا معاشرے کی سچی تصویرپیش کرتاہے۔ یہ بات شک وشبہے سے بالاترہے۔ اورتقاضابھی یہی ہے کہ یہ سچی تصویرپیش کرتارہے۔ مذکورہ خبرکی نوعیت چونکہ زیادہ حساس اور قومی نوعیت کی ہے اس لئے اسے رپورٹ کرنے میں ملک مفاد کاخیال رکھاجاناچاہئے۔ سرل المیڈاکومین نے پڑھاہے وہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں لکھتے۔ میری طرح وہ بھی اکثراوقات ذاتی مفادات کوترجیح دے لیتے ہیں۔ ان کی اس لیک کوپاکستان سے زیادہ بھارت میں ڈسکس کیا جارہاہے اورشایدوہ چاہتے بھی یہی تھے۔ خواہش ہے کہ وہ سچ لکھتے رہیں مگرسچ کی نوعیت ڈان نیوز کوبھی دیکھنی چاہئے۔ اداریئے کے مترجم نے بہرحال شاندارفنی مہارت کامظاہرہ کیاہے۔

Comments are closed.