خالد فتح محمد کا ناول خلیج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا زود گو معاصر فکشن رائٹر جناب خالد فتح محمد صاحب کا ناول ”خلیج” حال ہی میں پڑھنے کا موقع ملا۔ ناول کیا ہے سقوط پاکستان کے شب و روز کا مرقع ہے۔ ناول کی تکنیک آپ بیتی سے مشابہ معلوم ہوتی ہے جس میں راوی ایک حساس دل اور غیر فوجی دماغ رکھنے والا لفٹین کمانڈر ہے جو کہ کہانی کی ابتدا سے ہی شورش زدہ صوبہ بنگال کی اور حالات کو معمول پر لانے کی اپنی سے کوشش کے واسطے بلائے جانے کی غرض سے رواں دواں دکھایا گیا ہے۔

راوی کا غیر فوجی دماغ کا حامل ہونا بطور خاص قابل ذکر ہے کہ اس سے ناول میں ایک غیر جانبدار نکتہ نظر سے حالات کے مشاہدہ اور بیانیے کی سہولت پیدا کر دی گئی ہے۔ مصنف کی بنگال کے جغرافیہ ، موسم ، لوگوں کے مزاج ، خوراک ، عادات و اطوار اور حالات و واقعات سے جانکاری متاثر کن ہے۔ یوں سمجھئے کہ کوئی انگلی سے پکڑ کر آپکو بنگال لے گیا ہے اور آپ بنگال کے دیہی و شہری مضافات میں گھوم پھر کر حالات و واقعات کو اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

ایسے عمدہ طریقے سے بنگال کو اپنے ناول میں متعارف کرانے پر خالد فتح صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جوں جوں ناول کی کہانی آگے بڑھتی ہے آپ جنگ زدہ علاقے کے اندر اترتے چلے جاتے ہیں۔ اور ایک ثانیے کے لئے آپکو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک یک طرفہ روداد ہے اور ، غیر جانبدار ہی سہی ، آپ تمام حالات کو مغربی پاکستان کی ایک عینک لگا کے دیکھ رہے ہیں تو اگلے ہی لمحے ، ایسے جیسے مصنف قاری کے اس تاثر کو بھانپ گیا ہے ، کہانی میں بنگال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کردار کی آمد ہوتی ہے۔

بنگالی عوام کے موقف کا ترجمان یہ خاتون کردار پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے فوجی جوان کی بہن ہے تلخئ ایام ان فیصلہ کن دنوں میں جس نے مکتی باہنی کے ساتھ ہاتھ ملا لیے ہیں اور صوبہ بنگال کی آزادی کے لئے سرگرم ہے۔ کہانی کے آخر تک جاتے جاتے یہ گہرا تاثر آپ کے دل پر نقش ہو جاتا ہے کہ سانحہ بنگال ہماری فوجی حکومت کی طرف سے مشرقی پاکستان کو دیے گئے احساس محرومی کا نتیجہ ہے۔ اگر بروقت مناسب اقدامات کیے جاتے تو شاید ملک پاکستان دولخت نہ ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •