کیپٹن (ر) صفدر کی ڈرامائی گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہنا کہ ساری دنیا سمجھ ر ہی تھی کہ کیپٹن صفدر مانسہرہ میں موجود ہیں ان کی جو پریس ریلیز آتی تھیں ان میں بھی مانسہرہ ہی لکھا ہوتا تھا۔ تاہم کیپٹن (ر) صفدر لاہور میں ہی موجود تھے۔وہ شرف کمپلیکس کے اندر ہی رہ رہے تھے۔ کیپٹن (ر) صفدر کے صرف قریبی لوگوں کو ہی معلوم تھا کہ وہ کہاں ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا موبائل فون بھی مانسہرہ بھیج دیا تھا تاکہ لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ مانسہرہ ہی آئے۔ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک مخلص پولیس افسر نے بتایا تھا کہ آپ گرفتار ہو سکتے ہیں آپ کی کئی چیزیں قابل اعتراض ہیں۔ آپ کی گفتگو ریاستی اداروں کے لیے قابل برداشت نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر جس دن گرفتار ہوئے وہ اسلام آباد کے لیے نکلے جہاں انہوں نے ایک نامعلوم مقام پر منتقل ہونا تھا۔ جیسے ہی وہ بھیرہ پہنچے تو ان کے قریبی ساتھی نے انہیں نواز شریف کی بیماری کی اطلاع دی ا ور ساتھ ہی کسی اور کو بھی اطلاع دی جو کہ ٹریس ہو گئی۔ اس طرح سے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ نواز شریف کے داماد نے گرفتاری کے بعد پریشان ہو کر پولیس افسر سے سوال کیا کہ آخر میری مخبری کس نے کی۔ اسی موقع پر گاڑی میں بیٹھا ایک شخص مسکراتا رہا جیسے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

خیال رہے کہ لاہور کی مقامی عدالت نے مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ کیپٹن (ر) محمد صفدرکی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لئے درخواست پر پولیس سے 24 اکتوبر کو ریکارڈ طلب کر لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے عدالت کا وقت ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر ) محمد صفدر کو بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری جوڈیشل مجسٹریٹ رانا آصف علی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔

پولیس کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف اشتعال انگیز تقریر اور عوام کو اکسانے کا مقدمہ درج ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے پاس اختیار نہیں کہ ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں گرفتار کرے۔ ایسی کسی خلاف ورزی کی صورت ایف آئی اے کو تحقیقات کا اختیار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •