نواز شریف کے نام بے نظیر بھٹو کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں صاحب، مجھے علم ہے، آپ ان دنوں بہت زیادہ علیل ہیں، اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ آپ جس ذہنی اور جسمانی کرب اور تکلیف سے دوچار ہیں۔ مجھ سے زیادہ آپ بہتر جانتے ہوں گے کہ سیاسی سفر کے دوران ان دیکھی قوتیں انجان راستوں اور بند گلیوں میں لے جاتی ہیں۔ کیسی کیسی آزمائش کا سامنا رہتا ہے، اپنوں سے دور کر کے ناپسندیدہ فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بیگم کلثوم کی بیماری اور اسی دوران پانامہ کیس میں آپ کی پیشیوں کا سارا احوال مجھ تک پہنچتا رہا ہے۔ شریک حیات کا سفر میں ساتھ چھوڑنا، کس قدر دل گرفتگی کا باعث بنا، آپ سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔ ظاہر ہے مخالفین کو آپ کی سزا اور قید سے زیادہ دلچسپی تھی، وہ اس پر خوش تھے۔ گھر میں بوڑھی والدہ کا دکھ لیکن ساتھ میں بیٹی کو بھی جیل میں ساتھ بند کرنے کی اذیت ناک صورتحال نے شاید اہلیہ کے دکھ کو تازہ کر دیا۔

آپ نے تین بار اقتدار کے ایوانوں میں بڑا مصروف وقت گزارا، مجھ سے زیادہ اداروں سے مقابلہ کیا، لیکن میں نے اپنے پچھلے خط میں بھی گزارش کی تھی کہ سیاست میں جمہوریت کا ساتھ بڑی توجہ سے دینا پڑتا ہے، میرا مطلب ہے کہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا اور ان کی رائے کو مقدم جان کر آئندہ کی پیش بندی کرنا۔ ہم اپنی غلطیوں کو اپنے مستقبل کی راہیں ہموار کرنے کیلئے سبق کے طور پر کم ہی لیتے ہیں، شاید یہی ہماری بڑی غلطی رہی ہے۔

میں نے آپ سے کہا تھا کہ بچوں کو سیاست میں ضرور لائیں، اور یہ فیصلہ درست تھا مریم یا حمزہ نے اپنی جگہ بنا لی، لیکن انہیں لوگوں کے مزاج سمجھنے کا گُر سکھانا، مجھے بھٹو صاحب نے جیل میں یہ باتیں بتائیں، وہ کہتے تھے عوام کی نبض سے ہاتھ کبھی نہیں اٹھانا، ان کی تکلیف جب تک آپ اپنی نہیں جانو گے، آپ جان ہی سکو گے، وہ کیا چاہتے ہیں۔

میاں صاحب۔ اللہ تعالی آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے، جس دلیری کے ساتھ آپ حالات کا سامنا کررہے ہیں، یہ آپ کا حوصلہ ہے، ہوسکتا ہے میرے اس خط پر پیپلزپارٹی کے کارکن بہت نالاں ہوں کہ مجھے آپ کا اتنا خیال کیوں آ رہا ہے۔ درحقیقت اس میں میرا اپنا لالچ بھی چھپا ہے، اور یہ عوام کی خاطر ہے، کیونکہ اگر ہم سب نے سیاست کرنا ہے، تو لوگوں کے حقوق کی بات کرنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا ہے تو پھر عمران خان ہوں یا کوئی اور سیاستدان اسے بنیادی بات سے روگردانی نہیں کرنا ہو گی، سیاست کے اصول پر کاربند رہنا ہوگا۔ کارکنوں کے جذبات کو سمجھنا اور انہیں اپنا سچا ساتھی بنا کر چلنا ہے۔ سیاسی قوت بننے کیلئے درست فیصلے کرنا ہوں گے۔ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے اصولی موقف ہونا چاہیئے، کسی مصلحت پسندی سے کام نہیں لینا چاہیئے، نہ کوئی لالچ آڑے آنا چاہیے،

میاں صاحب ، آپ نے دیکھا ہوگا، اپنے موقف پر ڈٹ جانے میں آصف بھی کسی کم نہیں، عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ کسی لالچ کے بغیر سیاست نہیں کرتا، لیکن آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا، کتنی بیماری کے باوجود وہ گھبراتا نہیں۔ دوسرے فیصلے سوچ سمجھ کے کرتا ہے۔

پلیز، ایسے فیصلے کریں جن میں دوسری سیاسی قوتوں کو بھی شریک کیا ہو۔ کوئی بھی قدم ایسا نہ اٹھائیے گا، جس سے آئندہ کی صف بندی میں مفاد پرستی سے بھرا کوئی ٹولہ شامل ہوجائے۔ اگرچہ ہم سب نے بھی کسی نہ کسی سطح پر مفادات سے بھری سیاست کی، لیکن عوام کے مفاد کا سودا کرنے سے حتی الوسع گریز کیا۔ اقتدار کی خواہش ضرور رہی ہوگی۔ مگر سیاسی اور جمہوری اقدار کی پستیوں کو چھونے کی حد نہیں آنے دی۔

مقتدر حلقے ہمیشہ ہمارے یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ سے عار محسوس کرتے رہے ہیں، اور بوقت ضرورت استعمال کرتے رہے۔ ان کی خواہش اور کوشش یہی رہی کہ جیسا وہ چاہتے ہیں ہم ویسے کرتے رہیں۔ ہمارے ساتھ عوام کی طاقت نہ ہوتی تو شاید یہ کبھی برداشت نہ کرتے۔ انہیں کیسے قابل قبول بنانا ہے، اس حوالے سے ہماری آپس میں کئی بار طویل گفت وشنید ہوتی رہی ہے۔ وہ ہمیں زیادہ دیر چلنے نہیں دیں گے۔ ہمیں تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ اگر ہم مل کر آگے بڑھے اور غلطیوں نہ دہراتے رہے تو زیادہ امکان ہے، ہم سیاست کے اس میدان کے مرکزی کھلاڑی ہی رہیں گے۔

میاں صاحب، اللہ آپ کو جلد صحت یاب کرے، تلخیاں بھلا کر اپنی پارٹی، عوام اور ملک کی خاطر اچھے فیصلے کریں، سب ساتھ لے کر چلیں۔ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں۔ ایک بار پھر تقدیر آپ کا ساتھ دے سکتی ہے۔

فقط

بے نظیر بھٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 52 posts and counting.See all posts by nauman-yawar