مولانا فضل الرحمن کے حامی بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچ گئے؟ ذرائع کا دعویٰ
صحافتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے حامی افراد بڑی تعداد میں پہلے ہی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ جے یو آئی ف اور اپوزیشن جماعتوں کے لاکھوں لوگ پہلے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی پہنچ چکے اور اپنے رشتے داروں، دوستوں کے ہاں قیام کیے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں کے 3 لاکھ کے قریب حامی وفاقی دارالحکومت کو لاک ڈاون کرنے کیلئے پہلے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی پہنچ چکے ہیں۔ اور جوں ہی مولانا فضل الرحمان کا مارچ اسلام آباد پہنچے گا، یہ باہر نکل آئیں گے۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے جب آگاہ کیا گیا، تو انہوں نے کسی قسم کا دباو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کا مارچ کب اور کہاں سے نکلے گا اس حوالے سے ان کی جماعت نے باقاعدہ منصوبہ بندی بھی کر لی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف اپوزیشن جماعتوں کا مارچ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں 27 اکتوبر کو سراب گوٹھ کراچی سے شروع ہوگا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق جمیعت عمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف آزادی مارچ کا پہلا پڑاؤ سکھر میں ہوگا ۔ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلے ضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد سے پنجاب میں داخل ہوں گے۔ متحدہ اپوزیشن کا آزادی مارچ 29 تاریخ کو ملتان پہنچے گا اور شرکاء وہیں رات قیام کریں گے۔ 30 اکتوبر کو آزادی مارچ ملتان سے لاہور کے لیے روانہ ہوگا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے بھی آزادی مارچ کو روکنے کے لئے بھرپور تیاری کر لی ہے ۔ سندھ سے آنے والے قافلوں کو نیشنل ہائی وے پر ضلع رحیم یارخان کے قصبہ کوٹ سبزل کے مقام پر روکا جائے گا۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان سے آنے والے قافلوں کو پہلے گدو بیراج پھر تحصیل صادق آباد کے علاقہ احمد پور لمہ میں روکنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔
اس ضمن میں تھانہ کوٹ سبزل اور تھانہ احمد پور لمہ میں کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع سے آنے والے قافلوں کو مظفر گڑھ میں پُل چناب اور ہیڈ محمد والا کے مقام پر روکا جائے گا۔ ملتان میں قافلوں کو روکنے کے لیے ہیڈ محمد والا اور پل چناب پر کنٹینر لگائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے جنوبی پنجاب بھر میں سرگرم کارکنوں کی لسٹیں بھی مرتب کرلی ہیں ، آج رات سے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن متوقع ہے۔


