وزیراعظم نے حزب اختلاف کے چار میں سے دو مطالبات مسترد کر دیے
وزیرِ اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی جانب سے بھجوائے گئے چار میں سے دو مطالبات مسترد کردیے ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اپوزیشن کی جانب سے تحریری طور پر پیش کیے گئے چاروں مطالبات رکھے تھے۔
عمران خان کو بتایا گیا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے استعفے، نئے انتخابات، آئین میں موجود اسلامی دفعات کے تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی پر مشتمل 4 نکات رکھے ہیں۔ وزیراعظم نے اپوزیشن کے دو مطالبات استعفیٰ اور نئے انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا ایک مرحلہ مکمل ہوگیا جبکہ ساڑھے 10 بجے تک کے بریک کے بعد دوبارہ مذاکرات ہونا ہیں۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں پرویز خٹک، صادق سنجرانی، اسد قیصر، اسد عمر، شفقت محمود، نور الحق قادری اور پرویز الہٰی شامل ہیں۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے کنوینر اکرم خان درانی کی قیادت میں مذاکرات کیے، اس موقع پر اپنے 4 مطالبات تحریری طور پر پیش کیے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کررکھا ہے، جماعت اسلامی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے جے یو آئی کی حمایت کی ہے۔
مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پرویز خٹک اور اکرم خان درانی نے میڈیا کو بریفنگ دی تھی اور جلد ہی بہت اچھی خبر ملنے کی نوید سنائی تھی۔


