انصارالاسلام پر پابندی مسترد کرتے ہیں، فارن فنڈنگ کے کیس ان پر ہیں، ہم پر نہیں: مولانا فضل الرحمان


جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کیلئے کارکن سو، سو روپے فنڈز دے رہے ہیں، لوگ بھی آزادی مارچ کیلئے پیسے نچھاور کررہے ہیں، ہمارے اوپر کوئی فارن فنڈنگ کیس نہیں، فارن فنڈنگ کیس ان کے اوپر ہیں۔ انہوں نے آج لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کا 27 اکتوبر کو آغاز ہوگا اور 31 اکتوبر کو آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

اس حوالے سے جو حکومت نے ہتھکنڈے اختیار کرنے شروع کیے ہیں، مرکزی اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اس طرح کی صورتحال سے کشیدگی پیدا ہو گی۔ ہم ایک انچ بھی اپنے اس شیڈول سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس میں صرف جے یوآئی ف کے کارکن نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، ڈاکٹرز، وکلاء چھابڑی والے سارے لوگ آئیں گے۔

اس طرح کے رویے سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکیں گے، انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا کہ ہم اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کریں گے، لیکن جن لوگوں نے ہمیں گاڑیاں دینی ہیں، ان پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں، پٹرول پمپ مالکان سے کہا جا رہا ہے کہ ان کو تیل نہیں دینا۔ اسلام آباد میں دکانداروں کو کہا گیا کہ ان کو کھانے پینے کی اشیاء نہیں دینی، حکومت نے یہ جو جابرانہ، غیرانسانی رویہ اپنایا ہے اس سے قوم کو آزادی دلانی ہے۔

حکومت کا اداروں اور وسائل کو اپنی قوم کے خلاف بے دردی سے استعمال کرنا، میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس میں کامیاب ہو سکیں گے۔ قوم ان کوکبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت نے کل انصارالاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی انصارالاسلام ایک رضاکار تنظیم ہے، ہمارے دستور میں بہت سارے شعبے ہیں، اس میں ایک شعبہ انصارالاسلام کا بھی ہے۔

جب سے جمعیت ہے تب سے یہ شعبہ موجود ہے،تمام کانفرنس، جلسوں کا انتظام یہی شعبہ کرتا ہے۔ نظم ونسق قائم رکھتے ہیں، یہ جوتصویریں گھوم رہی ہیں، اس کی اجازت ان کو ڈپٹی کمشنرنے دی ہے۔ لیکن آج حکومت نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوگا، ہم اس کا مقابلہ کریں گے، ایک طرف ہمیں تھریٹ کررہے ہیں، ہمیں دہشتگرد کہہ رہے ہیں، جس حکومت میں مسلم لیگ قائداعظم کی مسلم لیگ کا اپنا اس زمانے کا نیشنل گارڈ موجود تھا، ہرسیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ونگ موجود ہیں، احرارالاسلام ، خاکسار موجود ہیں۔ میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں تمہارے پروں کے نیچے جو مسلح تنظیمیں موجود ہیں، پہلے ان کا علاج کرو۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حملے کا تھریٹ دیا گیا ہے، ہم پر حملہ ہوسکتا ہے ، لیکن دوسری طرف ہمارے گارڈز پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کوروکا گیا تو پورے ملک میں لڑائی شروع ہوجائے گی، ہم پیدل چلیں گے، چاہے ایک مہینے تک اسلام آباد پہنچے، سارے ہائی ویز بند ہوجائیں گے۔

کچھ لوگوں کو تم خود پال رہے ہو، تمہارے مراکز ہیں، جہاں تم آج تک ٹریننگ دیتے رہے۔ آج تم رضاکاروں پر پابندی لگاتے ہو، اتنی بزدل حکومت میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یہ قوم کا نمائندہ ہی نہیں ہے، اس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو گیا۔

Facebook Comments HS