نواز شریف کے لیے ”سوغات“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور کروڑوں پاکستانیوں کے دِلوں کی دھڑکن۔ نواز شریف۔ اِس وقت لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ہسپتال کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور میڈیا رپورٹروں کا ہجوم ہے۔ سڑک کا ایک حصہ ڈی ایس این جیز (DSNG) نے گھیر رکھا ہے۔ ایک ایک لمحے کی عکس بندی ہو رہی ہے۔ جو کچھ ٹی وی سکرین پر جگہ نہیں پا رہا وہ آرکائیوز میں محفوظ ہو رہا ہے۔ دور و نزدیک سے زائرین آ رہے ہیں۔ ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

ایک بیماری اور دوسری قید۔ گویا وہ دوہرے زنداں خانے میں ہیں۔ اگر سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتے تو پھر ملاقات پر ڈاکٹروں کی اجارہ داری ہوتی، ان سے کچھ نہ کچھ کہہ سن کر ملنے کی کچھ نہ کچھ کامیاب کوشش کی جا سکتی تھی یا دروازے سے دیکھ کر آنکھوں کے ذریعے دِل کو تسلی دی جا سکتی تھی کہ سنی سنائی سے زیادہ دیکھی دکھائی کا اعتبار ہوتا ہے، اور اس کے اثرات بھی زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔

اب وہ ڈاکٹروں سے زیادہ پولیس افسروں کی نگرانی میں ہیں۔ ایک دن لاہور ہائی کورٹ کے سکیورٹی انچارج ایس ایس پی اسد الرحمن بھی حفاظتی حصار کے ذمہ دار رہے۔ وہ ایک بے قاعدہ اخبار نویس یوں ہیں کہ تعلیم تو صحافت کی حاصل کی، لیکن مقابلے کے امتحان کے ذریعے پولیس میں جا براجے۔ برادرم محسن گورایہ سے ان کی دانت کاٹے کی دوستی ہے، لیکن اب وہ قلم سے کاٹ سکتے ہیں نہ تلوار سے کہ قلم کو پولیس کی وردی پہنا دی جائے تو اس کے کچھ نہ کچھ اثرات بہرحال مرتب ہو جاتے ہیں۔

بہرحال بات میاں نواز شریف کی ہو رہی تھی۔ وہ ڈاکٹروں اور پولیس والوں کی مشترکہ نگرانی میں ہیں، اس لیے ان سے ملاقات نہیں ہو رہی۔ غلام احمد بلور اس پیرانہ سالی میں، لاٹھی ٹیکتے ہوئے پشاور سے آئے، ڈاکٹر فاروق ستار پانچ رکنی وفد کے ہمراہ کراچی سے پہنچے، لیکن ہسپتال کی دُعاؤں سے بھری ہوئی فضا میں اپنی دُعاؤں کا اضافہ کر کے لوٹ گئے۔ وہ کارکن بھی جو میڈیا شخصیات نہیں ہیں، جن کی آمد پر کیمرے ٹوٹ نہیں پڑتے، دور دور سے آ رہے ہیں۔

سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نواز شریف کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، وہ سب جو جذبۂ حریت کی پرورش پر یقین رکھتے ہیں اور حسبِ توفیق اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، نواز شریف کو اپنا سمجھ رہے ہیں۔ فاٹا اور بلوچستان کے ناراض نوجوان بھی ان کو امید سے دیکھنے اور ان سے محبت کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ سیاسی جماعتیں اور رہنما کسی بھی قوم کا بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ مختلف علاقوں، زبانوں، نسلوں، رنگوں کے درمیان پُل بن جاتے ہیں۔

فکری یگانگت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں۔ محمد علی جناحؒ نے بر صغیر کے مسلمانوں کو جوڑا تو پاکستان بنا دیا۔ پاکستان میں سیاسی عمل پر بندوق چلائی گئی، تو جوڑنے والے بھی تڑپتے پائے گئے۔ پاکستان اسی لیے دو لخت ہوا کہ جوڑنے والے سلامت نہ رہے۔ ان کا ہتھیار، سیاسی عمل، ان سے چھین لیا گیا۔ پھلجھڑی میں بارود بھرا جاتا ہے تو وہ آسمان کی طرف اڑتی ہے۔ بارود ختم ہو جائے تو دھڑام سے زمین پر گر جاتی ہے، خاک بن کر خاک میں لوٹنے لگتی ہے۔

ملکوں کو بھی سیاسی عمل کا بارود ہی جوڑے رکھتا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کو کہ تاریخ میں جس کا کوئی جغرافیائی وجود نہ رہا ہو۔ پاکستان کے نظریے کو جغرافیے نے جنم نہیں دیا۔ جغرافیے کو نظریے نے جنم دیا ہے۔ یہ جغرافیہ بھی بندوق یا تلوار کے زور پر حاصل نہیں کیا گیا، نظریے کا ہتھیار سیاسی عمل ہی تھا، اسی کے ذریعے اس نے جغرافیہ بدل ڈالا۔ سب مسلمانوں کو۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ کے نعرے نے ایک کر دیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں کے درمیان گوند کا کام سیاسی عمل سرانجام دے رہا تھا۔ اس کا ناطقہ بند ہوا تو بندھے ہوئے جتھے الگ الگ ہو کر گر پڑے۔ سہروردی کو کام نہ کرنے دیا گیا، تو شیخ مجیب الرحمن پیدا ہوئے۔ کھوڑو، دولتانہ اور عبدالقیوم خان ایبڈو ہوئے تو ذوالفقار علی بھٹو منظر پر چھا گئے۔ نئے پاکستان میں یہی بھٹو توڑ سے جوڑ تک پہنچے، اور آج وحدت کے ایک نشان کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو شہید ہو کر بھی چاروں صوبوں کی زنجیر کہلاتی ہیں، اور ان کی پارٹی بھی تمام تر قباحتوں اور کمزوریوں کے باوجود لاڑکانے کو پشاور سے ملانے میں لگی رہتی ہے۔

نواز شریف پر مقدمے کیسے بنے، فیصلے کیا آئے، ان کے حق میں دلائل کیا ہیں؟ نواز شریف نے تین بار وزیر اعظم بن کر کیا کِیا؟ ان کی خوبیاں کیا تھیں اور خامیاں کیا، ان کی مضبوطیاں کیا تھیں اور کمزوریاں کیا، یہ سب سوالات اپنی جگہ ہیں، ان میں سے بعض کا جواب تاریخ دے گی، بعض کا آنے والا وقت دے گا، بعض کا ابھی مل رہا ہے، لیکن اسے سننے اور پڑھنے کے لیے حوصلہ چاہیے۔ نواز شریف آج بھی پاکستان کے سب سے موثر سیاسی رہنما ہیں۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق ذاتی مقبولیت کے حوالے سے وہ سب سے آگے اور سب سے اوپر ہیں۔ یہاں یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کوئی حلقۂ قبولیت یا مقبولیت باقی نہیں رہا، ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ عوامی تائید اور حمایت لوہے یا پتھر کی طرح نہیں ہوتی کہ ایک جگہ منجمد ہو جائے۔ اسے پانی کی طرح سمجھیے کہ اس کی برف بن جاتی ہے، بھاپ بن کر اڑ بھی جاتا ہے، بادل بن کر برس بھی سکتا ہے، سمندر بھی بن جاتا ہے اور کنوئیں میں بند ہو کر بھی بیٹھ رہتا ہے۔

نواز شریف کے جسدِ خاکی کو بیماریوں کی پوٹلی کہا جا سکتا ہے۔ دِل کا مرض، گردوں کی تکلیف، شریانوں کا سکڑنا، پلیٹ لیٹس کا کم ہوتے چلا جانا خطرے کی علامات ہیں۔ لیکن وہ نظریاتی اور ذہنی طور پر توانا ہیں۔ دستور کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے، عوام کے حقِ حکمرانی پر اصرار کرنے والے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرنے والے۔ ایک مقدمے میں دو روز قبل ان کی ضمانت ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ شام اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ کیس میں بھی میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق دائر ضمانت کی درخواست منظور کر لی گئی۔

پہلا مقدمہ ’جس میں دو روز قبل ضمانت ہوئی‘ چودھری شوگر ملز کے حوالے سے ہے، اور برسوں پرانی کاروباری فائلوں سے برآمد کیے جانے والے کسی الزام کا نتیجہ ہے۔ نیب نے لاہور ہائی کورٹ میں ان کی ضمانت کی مخالفت نہیں کی کہ ڈاکٹروں کے بورڈ کے سربراہ کے مطابق ملزم کو لاحق بیماریاں تشویش ناک ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے، تو نیب نے ایک برسوں پرانا معاملہ ادھیڑ کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟ اور احتساب عدالت نے ان کا پھر جسمانی ریمانڈ کیوں دیا؟ کیا ان سے تفتیش کوٹ لکھپت جیل میں نہیں ہو سکتی تھی؟ قانون کا یہ مضحکہ خیز اطلاق کرنے کی ضرورت کیوں اور کسے لاحق ہوئی؟ یہ سوال ہمارے جسدِ سیاست کا پیچھا کرتا رہے گا۔

ہمارا دفتر سروسز ہسپتال سے چند ہی فرلانگ کے فاصلے پر ہے، لیکن یہ میلوں اور برسوں کا فاصلہ بن گیا ہے۔ ان سے ملاقات بس میں نہیں ہے، لیکن دُعا تو ہمارے بس میں ہے۔ دُعاؤں ہی کے سہارے وہ موت کے منہ سے لوٹ آئے ہیں۔ پلیٹ لیٹس دو ہزار کی انتہائی کم سطح پر آ گئے، لیکن اللہ نے مریض کی حفاظت کی۔ حالت اتنی بگڑی کہ اقتدار کو جان کے لالے پڑ گئے۔ ہمدردی کے بول بولے جانے لگے۔ بدتمیزوں کی زبانوں کو تالے لگ گئے۔ وزیر اعظم عمران خان کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ سیاست ایک طرف رکھ کر وہ نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دُعا گو ہیں۔ گویا مخالف اور حامی ایک ہو گئے۔ دونوں کے ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھ گئے۔ یہی سوغات ہم بھی ان کے لیے بھیج رہے ہیں۔ اے ہمارے رب، نواز شریف کو سلامت رکھنا، ان کی ثابت قدمی میں برکت ڈال دے کہ ؎

مِیری میں، فقیری میں، شاہی میں، غلامی میں

کچھ کام نہیں بنتا بے ہمتِ مردانہ

بشکریہ: روزنامہ ”پاکستان“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •