شہادتِ حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Umair

جگر گوشۂ رسولﷺ٬ جنت کے نوجوانوں کے سردار٬ حضرت حسینؓ  کی درد ناک اور مظلومانہ شہادت پر تو زمین و آسمان روئے٬ جنات روئے٬ جنگل کے جانور متاثر ہوئے٬ انسان اور پھر مسلمان٬ تو ایسا کون ہے جو اس کا درد محسوس نہ کرے یا کسی زمانے میں بھول جائے –

لیکن شہید کربلاؓ  کی روحِ مقدس درد وغم کا رسمی مظاہرہ کرنے والوں کو ڈھونڈتی ہے جو ان کے درد کے شریک اور مقصد کے ساتھی ہوں-

ان کی خاموش مگر زندہ جاوید زبانِ مبارک مسلمانوں کو ہمیشہ اس مقصدِ عظیم کی دعوت دیتی ہے جس کے لئے حضرت حسینؓ بے چین ہوکر مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ جانے کے لئے مجبور ہوئے٬ جس کے لئے حضرت حسینؓ نے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اہل بیت کو قربان کر کے خود قربان ہوگئے –

واقعہ شہادت کو اول سے آخر دیکھئے٬ حضرت حسینؓ کے خطوط اور خطبات کو غور سے پڑھئے٬ آپ کو معلوم ہوگا کہ مقصد یہ تھا:

اسلام کے نظام عدل کو ازسر نو قائم کرنا۔
اسلام میں خلافت کی بجائے ملوکیت و آمریت کی بدعت کے مقابلے میں مسلسل جہاد کرنا۔
زور و زر کی نمائشوں سے مرعوب نہ ہونا۔
حق کےلئے اپنی جان و مال اور اولاد سب قربان کر دینا۔
خوف وہراس اور مصیبت و مشقت میں نہ گھبرانا اور توکل کرنا۔

پل بھر کی حکومت تھی یزید کی
صدیاں حسینؓ  کی٬ زمانہ حسینؓ  کا

60 ہجری میں وقوع پذیر ہونے والے اس انتہائی کربناک اور معنوی حکمتوں و اسباق سے بھر پور دنیائے انسانیت کو زندگی کے راز سکھانے والے واقعہ کا نام سانحہ کربلا ہے۔ چودہ سو سال سے مؤرخین، مقررین، محققین نے شاید ہی اس واقعہ کے کسی پہلو کو تشنہ رکھا ہو –

اسلامی تاریخ ہی نہیں دیگر اقوام و ملل کی تاریخ میں پیش آنے والے جملہ واقعات میں شاید ہی کوئی واقعہ ہوگا جو اتنی کثرت سے لکھا ،پڑھا اور سنا جاتا ہو اور فطرتِ انسانی ہے کہ کتنا ہی پرکشش واقعہ کیوں نہ ہو، ایک سے زائد مرتبہ سننے یا پڑھنے سے اس کی کیفیت میں کمی آجاتی ہے۔ واقعہ کربلا کو پروردگارِ عالم نے یہ امتیاز عطا فرمایا ہے کہ لا تعداد مرتبہ ہر فرد اسے سنتا پڑھتا ہے، لیکن ہر مرتبہ اس کی آنکھوں سے سیلِ رواں جاری ہو جاتا ہے اوراس کے غم کو بندہ آج بھی اپنے دل میں تازہ پاتا ہے۔

لیکن حکمت خداوندی ہے کہ جو واقعہ انسانیت کیلئے جتنا سبق آموز ہوتا ہے، زندگی میں انقلاب لانے والا ہوتا ہے اس کی تاثیر کو اتنا دیرپا رکھا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا ظاہری اعتبار سے تو افراد کی جنگ تھی لیکن معنوی اعتبار سے اس کا جائزہ لیا جائے اور اس جنگ کی ابتدا اور اس کے نتائج کو بنظر غائر دیکھا جائے تو اس کا اثر جسموں سے ماورا ہوکر فکروں، تہذیبوں اور روحوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی اور افرادی اعتبار سے کوئی مؤرخ اس واقعہ کو لکھے گا تو یزید اور ابن زیاد کی فوج کو کامیاب قرار دے گا۔

یوں تو سیدنا امام حسینؓ اور ان کے اہل خانہ اپنی شجاعت و بہادری کے بے شمار جوہر دکھانے کے باوجود شہید ہوئے اور یزید اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا، لیکن شاید پہلا معرکہ تھا جس میں فاتح جماعت اپنی فتح ہی پر پشیمان اور ان کی فتح ہی ان کی ابدی رسوائی کا باعث بنی اور نتیجہ کے لحاظ سے حضرت سیدنا امام حسینؓ اور آپ کے اہل خانہ قیامت تک کیلئے کامیاب قرار دے گئے۔ دراصل خلافت راشدہ کے بعد مملکت اسلامیہ کی وسعتوں اور بیش بہا مال و دولت کی فراوانی کی بناء پر کمزور ایمان والوں کے دلوں میں مال و جاہ کی محبت نے جگہ بنالی تھی، جس کی وجہ سے نئے فتنے جنم لینے لگے۔ اقدار بدل رہے تھے، حق کی آواز دھیمی پڑرہی تھی، صداقت و دیانت نا پید ہوتی جا رہی تھی۔ دنیا طلبی کی ہوس عوام سے ہوتے ہوئے خواص اہل اقتدار تک پہنچ رہی تھی اس فضا سے نبی رحمت ﷺ کی تعلیماتِ شریعت کو خطرہ لاحق ہورہا تھا۔ شیطان اپنی ترجیحات مزین کر کے بڑے بڑے اہل ایمان کو اس کا شکار کررہا تھا۔

خلافت کا قلادہ امام حسنؓ اپنی گردن سے اتار کر حضرت امیر معاویہؓ کے سپرد کر دیا۔ صحابیِ رسول ہونے کی وجہ سے آپ کی شان و جلالت کے سبب یہ تمام شیطانی امراض دبے ہوئے تھے، لیکن دھیرے دھیرے معاشرہ کو تباہ کررہے تھے۔ آپ کے وصال کے بعد جب یزید تخت نشین ہوا تو اسلام کی محبت رکھنے والوں اور تعلیماتِ نبوی ﷺ پر جان دینے والوں نے مملکت کے کونے کونے سے مخالفت کی آواز اٹھائی لیکن طاقت سے انہیں دبا دیا گیا۔

اب پوری امت منتظر تھی ایک پاسبان کی، ایک سہارے کی بلکہ اسلام خود اپنی مدد کیلئے خانوادہ نبوت کی جانب اپنی تشنہ نگاہیں اٹھائے ہوئے تھا۔ خانوادۂ نبوت کے چشم و چراغ نبی رحمت ﷺ کے پیارے نواسے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت نمایاں تھی۔ بڑی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر تھی کہ یہ شیطانی آفکار و اقدار کا پروردہ، علانیہ گناہوں کا مرتکب، بھلا کیا تعلیمات اسلامیہ کی پاسبانی کرے گا۔ دیگر مسلمانوں کی طرح خانوادہ نبوت بھی خاموش ہوجائے تو پھر معیار دین یہی بن جائے گی –

سوال یہ تھا کہ نبی رحمت ﷺ کی پوری محنت کا کیا ہوگا۔ دنیوی لحاظ سے مشورہ دینے والے خیر خواہوں کا تانتا بندھ گیا کہ آپ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں، کنارہ کش ہوجائیں، اس میں جان کی سلامتی، خاندان کی سلامتی ہے، لیکن مخبر صادق ﷺ کی حدیث شریف ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ الحسینؓ منی و آنا من الحسینؓ یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اب اس دین کے بچانے کی ذمہ داری حضرت حسینؓ پر تھی۔ لہٰذا آپ بظاہر کوئی جنگی تیاری کے بغیر صرف اہل خانہ کو لے کر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے نانا جان ﷺ کے دین کو بچانے، اسلامی تہذیب کی حفاظت  اور اسلامی آقدار کی پاسداری کیلئے آگے بڑھے۔ یہ معرکہ نما جدوجہد، جنگ نما مجاہدہ، گویا دو تہذیبوں، دو فکروں، دو اقدار کے درمیان تھا۔ مجموعی طور پر ان میں سے ایک کو حسینیت اور دوسرے کو رہتی دنیا تک یزیدیت کہا جاسکے گا۔

حسینیت یعنی دین داری، صداقت،،امانت، دیانت،عدالت، گویا اسلامی تہذیب ہے اور یزیدیت یعنی بے دینی، جھوٹ، بے ایمانی، ظلم، فسق و فجور، نفسانی خواہشات کی پیروی گویا شیطانی تہذیب ہے۔ دراصل اس معرکہ کے بعد حدیث شریف کے دوسرے حصہ ’’و انا من الحسینؓ‘‘ کا صحیح مفہوم سمجھ میں آیا کہ میرا دین پھر زندہ ہوگا، تو حسینؓ کی قربانی سے ہوگا اور قیامت تک اسلامی تہذیب کی پیروی کرنے اور اس کو نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کیلئے حضرت امام حسینؓ کی شہادت ایک مشعل راہ ہے۔ یہ سبق دیتی ر ہے گی کہ اے اہل ایمان تمہیں اس دینِ مبارک کی حفاظت کیلئے حالات کی پرواہ کئے بغیر اپنی ہر چیز کی قربانی دینی ہوگی، یہاں تک کہ اگر جان بھی دینے کا موقع آئے تو اس سے گریز ہر گز نہ کرنا۔

تو آج شہادتِ امام حسینؓ ہم سے یہ فریاد کرتی ہے کہ اتنی بڑی قربانی اور پورے خانوادۂ نبوت کی شہادت آنے والی نسل کیلئے صرف قصہ گوئی یا چند رسوم و رواج کی تکمیل نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں اس کو پیش نظر رکھ کر شیطانی اور طاغوتی قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ہے۔ حسینیت اور یزیدیت کی معرکہ آرائی آج بھی موجود ہے۔ اگر ہم حضرت حسینؓ کے نام لیوا ہیں اور ہم سے یزیدیت  کا کام لیا جارہا ہے تو ہوشیار ہوجائیں اور اپنے انجام کی فکر کریں چونکہ شیطان نے یزیدیت یعنی بے دینی، جھوٹ، ظلم، بے ایمانی، فسق و فجور کو ہماری زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنا ہو تو اپنے کردار کو حسینی کردار بنائیں۔ حضرت نبی کریم ﷺ کے وصال کے وقت سیدنا فاطمہؓ  نے حضرات حسنین کریمین کو قریب لے گئیں اور عرض گذاری کہ آپ ﷺ اپنی کچھ وراثت انہیں عطا فرما دیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسن میری ہیبت و سرداری کے وارث ہیں اور حسینؓ میری جرأت و سخاوت کے وارث ہیں (اس حدیث شریف کو امام طبرانی نے روایت کیا)۔ تو ہمیں حضرت حسینؓ کے حقیقی وارث بننا ہے۔

کوئی ہے جو جگر گوشہ رسول ﷺ٬ مظلوم کربلا کی اس پکار کو سن کر ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے تیار ہو؟ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائیں –

احساں کوئی مانے یا نہ مانے حسین کا
سر اپنا پیش کر کے وہ امت بچا چلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply