ماں، سیاست دان اور قلم ریٹائر نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درد اور انبساط کی حدیں جہاں ملتی ہیں، وہاں گیان جنم لیتا ہے۔ عورت اذیت کی آزمائش سے گزر کر ماں کے درجے کو پہنچتی ہے۔ ماں ہونا محض ایک حیاتیاتی فعل نہیں، یہ رشتہ جذبے، شعور اور پیچ در پیچ تعلق کی باریک نسوں کا ایک جال ہے جسے بازار کی بھیڑ میں پہچانا نہیں جاتا، مثل مقدمہ میں دلیل اور نظیر سے ثابت نہیں کیا جاتا اور سائنسدان کی خوردبین سے مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ماں ایک رتبہ ہے جو آخری سانس تک برقرار رہتا ہے۔

ماں ہونے کی یہی ذمہ داری جب لہو کے رشتے سے آگے بڑھ کر بہت سے انسانوں کو اپنی امان میں لے لیتی ہے تو سیاست کہلاتی ہے۔ زمیں پر رہنے والوں کے دکھ، دھرتی کے معلوم وسائل اور نامعلوم امکانات، نیم تاریک گوشوں میں پوشیدہ خطرات اور آنے والے کل کے خواب جب ایک فرد کی کٹھالی میں یک جان ہوتے ہیں تو سیاسی شعور کا خمیر اٹھتا ہے۔ مولانا آزاد قلعہ احمد آباد میں پنڈت نہرو کے ہمراہ انگریز کی قید کاٹ رہے تھے۔ غبار خاطر کے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ پنڈت جی نیند میں کروٹ بدلتے تو انگریزی کے کچھ جملے ادا کرتے تھے۔

انگریزی زبان پر پنڈت جی کے عبور کا بہت شہرہ تھا۔ انگریزی تو ایک عام مدرس کی بھی اچھی ہوتی ہے۔ جواہر لال کی زبان دانی نے تاریخ کے اس شعور سے جلا پائی تھی جس نے سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے الہ آباد کے بیرسٹر کو برصغیر کی آزادی کا خواب بخشا تھا۔ بھٹو صاحب اپنے خاص خدمت گار نورے سے گھنٹوں عالمی امور پر گفتگو کرتے تھے۔ نورا غریب تو سامع محض تھا۔ بھٹو صاحب خود کلامی کی مدد سے عالمی طاقتوں کی بساط اور اندرون ملک بونا پارٹ ازم کے حیلوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔

فراق گورکھ پوری نے کہیں لکھا ہے کہ شاعر کی زندگی میں وصل کی ساعتیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، کیا ہزاروں اشعار پر پھیلی غزل کی ریاضت محض ان چند گھڑیوں کی جستجو ہے جو کسی معمولی ساہوکار کو کہیں زیادہ افراط سے میسر ہوتی ہیں۔ ارے نہیں بھائی، فرہاد شیریں کے لئے نہر نہیں کھودتا۔ کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہ کن کیوں ہو۔ سیاست اسی بنا پر فنون عالیہ میں شمار ہوتی ہے کہ کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، یہ سلوک کی ان منزلوں کا سفر ہے جن کا حقیقی حاصل تو راستے کی کٹھنائیوں کو سلجھانے کی جستجو ہے۔

کیا 20 اکتوبر کی شام تک کسی کو معلوم تھا کہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں رکھے گئے نواز شریف اس مقام سے چند قدم دور رہ گئے ہیں جہاں تاریخ کے اسٹیج سے پردہ اٹھ جاتا ہے، تمثیل کا تضاد پتھر کی سل پر نوشتہ سچائی میں بدل جاتا ہے، کرداروں کی حقیقی قامت آشکار ہو جاتی ہے، سازش منہ چھپانے کو کونے کھدرے ڈھونڈتی ہے۔ شاہراہوں پر رکھے کنٹینر پوسٹ ٹروتھ کا تابوت بن جاتے ہیں۔ این آر او اور ڈیل کی دہائی جاری رہتی ہے لیکن پس منظر میں میکبتھ کی آواز بلند ہوتی جا رہی ہے، It is a tale told by an idiot، full of sound and fury، signifying nothing۔

تادم تحریر۔ مولانا فضل الرحمن کا قافلہ سکھر سے ملتان کی طرف بڑھ رہا ہے، اس دریا کے کچھ ذیلی دھارے ملک کے دوسرے حصوں سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ نواز شریف عبوری ضمانت کا حتمی فیصلہ ہونے تک بدستور ہسپتال میں ہیں۔ البتہ یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا کہ احتساب کی بندوق رنجک چاٹ گئی ہے۔ اسلام آباد میں صاحب فراش آصف علی زرداری کے دست راست یوسف رضا گیلانی ملتان میں آزادی مارچ کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔

سرکار دربار سے حماقتوں کا ورود جاری ہو چکا۔ حافظ حمداللہ کی شہریت کی منسوخی مولانا جان محمد عباسی کے اغوا جیسی نامسعود سعی ہے۔ سرکاری اہل کاروں کی ان کارگزاریوں سے جہاز کے پیندے میں سوراخ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ گبریل لاؤب نے کیا اچھا لکھا، ڈوبتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگانے والے چوہوں کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے۔ ڈوبتے ہوئے جہاز میں چوہے کر بھی کیا سکتے ہیں؟ لاؤب ہی کی رنجیدہ منطق کا ایک اور نشتر دیکھئے، ”میری رعایا آزاد ہے اور اسے آزادی سے محبت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

“ ہمارے ہاں یہ فرمان اینکر پرسن پر تجزیہ کرنے کی پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ غالباً کسی نامعلوم عبقری نے اپنی کتاب ملازمت سے صحافی کے فرائض کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ مامتا اور سیاست کی طرح صحافت بھی روزگار نہیں، رضاکارانہ طور پر اٹھائی گئی تمدنی ذمہ داری ہے۔ صحافی خبر رکھتا ہے اور خبر دیتا ہے۔ ریاستی اہل کار سیاست کے نامیاتی تعامل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پیمرا کا ادارہ قلم کے زاویے اور لفظ کی نشست متعین کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

اس ملک نے سیاست اور سیاست مخالف دھاروں کی ایک طویل کشمکش دیکھی ہے۔ ریاستی منصب کی آڑ میں جمہور پر اختیار کی خواہش لے دے کے یہی سوچ سکتی ہے کہ لیاقت علی خان کو قتل کر کے سیاست کی کھیتی اجاڑی جا سکتی ہے۔ سہرودری کو قید کر کے اس کی سیاست ختم کی جا سکتی ہے۔ اگرتلہ کی رام کہانی سے مشرقی پاکستان کی سیاسی امنگوں کو کچلا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر لامحدود اقتدار کا راستہ صاف کیا جاسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کو علاج کے بہانے فرانس بھیج کر اقتدار میں توسیع مل سکتی ہے۔ پرویز مشرف فرماتے تھے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لئے پاکستان کی سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔ بے نظیر بھٹو اس شان سے وطن واپس آئیں کہ ان کی قبر پر احترام کے دھانی بادل کا دائمی سایہ رہے گا۔ نواز شریف وہ زندہ شہید ہے جسے پانامہ اور اقامہ سے ختم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ پاکستان کی دھرتی یہاں بسنے والوں کی ماں ہے، سیاست یہاں کے باشندوں کا وہ حق ہے جسے فرمان شاہی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

صحافی کا قلم اس زمیں کی امانت ہے۔ جسٹس رستم کیانی سے نومبر 1962 میں کسی نے پوچھا، آپ ریٹائر ہو رہے ہیں؟ فرمایا No۔ I am going forward۔ دھرتی سے رشتہ رکھنے والے، جمہور سے محبت کرنے والے اور عوام کا دکھ بیان کرنے والے ریٹائر نہیں ہوتے اور انہیں توسیع کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ اسی لئے تو ضیا جالندھری نے لکھا تھا

وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب

دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو آئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •