ہمارے بچوں کو پالنے والے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zunaira اپنے بچوں سے ماں باپ سے بڑھ کر کون پیار کر سکتا ہے یہ تو ہم سب سجھتے ہی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ترس اور ہمدردی کے جذبات صرف والدین بننے کے بعد ہی آتے ہیں لیکن اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ ضرور کہ سکتی ہوں کہ صاحبِ اولاد بننے کے بعد بچوں کی طرف انسان بلکل ایک نئی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ ان کی بات سمجھنا، ان کی تکلیف محسوس کرنا، ان پر ہونے والی کسی بھی زیادتی کا درد ان سے کئی گنا زیادہ محسوس کرنا۔ یہ سب وہ جذبات ہیں جن کو شاید ہر ماں اور باپ سجھتے ہے۔ لیکن میں یہ سمجھنے سے یکسر قاصر ہوں کہ آخر یہی محبّت کرنے والے لوگ دوسروں کے بچوں سے اتنے لا پرواہ اور کٹھور دل کیسے ہو سکتے ہیں؟ اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں 88 فیصد آبادی پڑھی لکھی ہے، جہاں ذمے دار سرکاری افسران کی بہتات ہے وہاں کئی دفع ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ ہمارے بچوں کو پالنے والے بچے ہر تیسرے گھر کا حصہ ہیں۔ یہ بچے جن کی عمر خود ان بچوں جتنی ہوتی ہے جن کو پالنے کا یہ فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ بچے جن کو اس وقت اسکول میں پڑھنا چاہئے صاحب کے بچوں کے جوتے پالش کرنے پر لگے ہوتے ہیں۔

آئ ایل او کی 2004 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کم از کم 264000 بچے اور بچیاں گھروں میں کام کرتے ہیں۔ 2004 سے لے کر اب تک 12 سال گزر چکے ہیں، اس پر آپ اضافہ خود کر لیجیے۔ یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہیومن رائٹس رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں اور بچیوں کو مارنا پیٹنا ایک عام سی بات ہے۔ ان میں سے بہت سارے بچے جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ اکثر اسی مار پیٹ اور جنسی استحصال کی وجہ سے یہ بچے ان گھروں سے بھاگ جاتے ہیں اور اپنے گھر بھی واپس نہیں جانا چاہتے۔ گلی اور سڑکوں پر ان سے اور بھی برا سلوک ہوتا ہے۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 170000 بچے سڑکوں پر رہتے ہیں۔ ان میں سے 90% جنسی استحصال کی شکایات کرتے ہیں اور 60% پولیس کو اس پر مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

ذرا سوچئے اس بچے یا بچی کے بارے میں جس کے ماں باپ پیدائش میں کسی وقفے کے بغیر اوپر تلے درجن بھر بچے پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر ان بچوں کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان بچوں کو یا تو بیچ دیا جاتا ہے یا پھر گھروں میں \”گروی\” رکھوا دیا جاتا ہے۔ یعنی کہ ماں باپ کا پیار تو دور کی بات ہے یہ ان سے دلال کا رشتہ رکھتے ہیں، آگے چلیے۔ جس گھر میں یہ ملازم ہوتے ہیں وہاں ان کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ جنسی استحصال کا شکار بھی یہ بنتے ہیں۔ یہ وہاں سے بھاگتے ہیں اور سڑک پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں جو ہوتا ہے وہ اوپر بیان کر ہی دیا گیا ہے۔

میں نے بہت سے لوگوں سے گھر میں ملازم بچوں کو رکھنے کی وجہ پوچھی۔ اصل وجہ تو کوئی بتاتا نہیں جو یہ ہے کہ نہ صرف یہ بچے 24 گھنٹےکام کے لئے میسر ہوتے ہیں بلکہ چھٹی کے لئے جانا بھی ان کے لئے ناممکن ہے۔ 10 سال کی بچی کا نہ تو میاں ہے نہ ہی چھوٹے بچے کہ وہ ان کا بہانہ کر کے کہیں جا سکے۔ عمر ان کی اتنی کم ہے کہ خود سے یہ کہیں جا نہیں سکتے۔ ماں باپ تو گروی رکھوا کر چل بنے ہیں لہٰذا ان سے امید باقی نہیں۔ تو وہ آپ کی سروس میں ہمہ وقت حاضر ہیں۔ تو خیر یہ تو کوئی نہیں کہتا ہاں باقی ہر ظرح کی تاویلیں آپ کو ضرور ملیں گی۔ بہت سے لوگ فرماتے ہیں کہ دیکھیں اگر ہم ان کو اپنے گھر میں نہ رکھیں تو یہ کہیں اور جا کر \”رلیں\” گے۔ کم از کم ہم ان کو مارتے تو نہیں۔ ان سے ضرورت سے زیادہ کام تو نہیں کرواتے۔ ہم نے پوچھا تو جناب جہاں آپ نے ان کی معصوم ذات پر اتنی مہربانیاں کردی ہیں تو ان کو پڑھانے کا ذمہ بھی لے لیں۔ جواب آیا ارے رہنے دیں ان کا کہاں دل لگتا ہے پڑھنے وڑھنے میں۔ ہم نے پوچھا آپ ان کو کام کرنے کے پیسے کیوں نہیں دیتے۔ جواب آیا وہ تو جی یہ اتنے چھوٹے ہیں ہم ان کے ماں باپ کو دے دیتے ہیں۔ اب ان کو اس عمر میں ذمہ داری کا احساس تھوڑی ہے۔ ہم نے کہا اچھا؟ تو اتنے غیر ذمہ دار انسان کے پاس آپ اپنا بچہ کیسے چھوڑ جاتے ہیں ؟ آگے سے ایک کھسیانی ہنسی۔ ایک خاتون نے فرمایا دیکھیں ہم تو ان کو نہ صرف روٹی کپڑا مکان دے رہیں ہیں۔ بلکہ ان کو مستقبل کے لئے تربیت بھی دے رہے ہیں۔ یہ گھر سنبھالنا، کپڑے اور برتن دھونا ان کے کام ہی آئے گا۔ یہ فرماتے ہوئے انھوں نے ایک دفعہ بھی مڑ کر اپنے 8 بچوں کی طرف نہیں دیکھا جن کی ٹریننگ صرف ملازموں پر حکم چلانے تک ہے۔

پاکستان کے آئین کے حساب سے 14 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے کو نوکری پر رکھنا غیر قانونی ہے۔ چلیں چھوڑیں آپ سے قانون کی بات کیا کریں۔ کچھ سچی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کے بچوں کو پالنے والے بچے بھی کسی کے بچے ہیں۔ ان کے بھی خواب ہیں۔ ان میں بھی قابلیت ہے کہ وہ کچھ کر کے دکھا سکیں۔ وہ بھی گھر کے کاموں سے زیادہ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ان کو اپنے بچوں جیسا نہیں سمجھ سکتے تو کم از کم ان کو جانور سمجھنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ ان کو کام پر رکھ کر ان پر احسان کر رہے ہیں تو یہ آپ کو خوش فہمی ہیں۔ یہ سوچ کر شاید آپ کو نیند تو اچھی آ جائے کہ آپ نیکی کر رہے ہیں۔ لیکن ذرا سوچئے گا کہ اگر ایک بچے کو اپنے گھر سے بہت دور سخت بستر پر یا زمین پر سونا پڑے۔ الگ برتن میں کھانا ملے، پہننے کو اترن اور مفت کی جھڑکیاں۔ تو آپ کسی پر احسان نہیں کر رہے آپ ایک تفاوت اور نفرت سے بھرا شہری بڑا کر رہے ہیں۔ الله نے آپ کو اتنا نوازا ہے ہو سکے تو کسی ایک بچے کی پڑھائی کی ذمہ داری لے لیجئے۔ (چایے تو اپنے گھر میں کام کرنے والے کسی ملازم کے بچے کی)۔ اپنے گھر میں کسی بالغ کو کام پر رکھ لیجیے اور لوگوں کا استحصال کرنا بند کر دیجیے۔ آپ کا یہ ایک چھوٹا قدم اس ملک میں بڑی تبدیلی لائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *